مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المادة

  ...  

صدّیق امّت رضي الله عنه/حدیث:103
722 زائر
31/12/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :103

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 11/12/ محرم 1431 ھ، م 29/28 دسمبر 2009

صدّیق امّت رضي الله عنه

عن أَبَي الدَّرْدَاءِ، قال كَانَتْ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مُحَاوَرَةٌ، فَأَغْضَبَ أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ، فَانْصَرَفَ عَنْهُ عُمَرُ مُغْضَبًا، فَاتَّبَعَهُ أَبُو بَكْرٍ يَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَهُ، ........................الحديث

ترجمہ : حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار حضرت ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما میں کچھ تکرار ہوگئی جس میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوئی ایسی بات کہی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ناراض ہوگئے اور غصے میں واپس جانے لگے ، حضرت ابو بکر بھی ان کے پیچھے گئے ، ان سے معاف کردینے کی التجا کی اور کہا کہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، لیکن حضرت عمر نے ان کی بات نہ مانی حتی کہ حضرت ابوبکر کے سامنے اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا ، حضرت ابو بکر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حالت یہ تھی کہ وہ اپنے ازار کا کنارہ اس قدر اوپر کئے تھے کہ گھٹنا ظاہر تھا ، روای حدیث حضرت ابو درداء بیان کرتے ہیں کہ اس وقت ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ،حضرت ابو بکر کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے اس ساتھی نے کسی سے جھگڑا کیا ہے ، حضرت ابو بکر نے آپ سے سلام کیا اور عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میرے اور ابن الخطاب کے درمیان کچھ معاملہ تھا ، ہم نے جلد بازی میں انہیں ناراض کردیا ، پھر مجھے اپنے کئے پر شرمندگی ہوئی تو عمر سے کہا کہ مجھے معاف کردیں لیکن انہوں نے مجھے معاف نہیں کیا { بلکہ میرے اوپر اپنا دروازہ بند کرلیا } اس لئے میں آپ کی پاس آیا ہوں ۔

یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : اے ابو بکر اللہ تعالی آپ کو معاف کرے ، راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے کئے پر شرمندگی ہوئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور پوچھا : کیا یہاں ابو بکر ہیں ؟ اہل خانہ نے جواب دیا :نہیں ، چنانچہ حضرت عمر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کرکے بیٹھ گئے ،غصے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا ، حضرت عمر نے پورا قصہ بیان کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ کم نہ ہوا بلکہ مزید بڑھ گیا ، حتی کہ حضرت ابو بکر کو خوف لاحق ہوا اور وہ ددونوں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنے لگے اے للہ کے رسول ، اللہ کی قسم ! غلطی میری تھی ، اللہ کی قسم ، اے اللہ کے رسول غلطی میری تھی ، [اس کے بعد ] اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : تم لوگ میرے ساتھی [کو اذیت دینے ] سے باز نہیں آتے ؟ تم لوگ میرے ساتھی [کو اذیت دینے ] سے باز نہیں آتے ؟ حالانکہ جب میں نے اعلان کیا کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں تو تم لوگوں نے مجھے جھٹلادیا اور ابو بکر نے بلا جھجھک میری تصدیق کی اور اپنے مال وجان سے میری مدد کی ۔

حضرت ابو درداء کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے صحابہ نے کبھی بھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کوئی اذیت نہیں پہنچائی ۔ [ صحیح البخاری ]

تشریح : اس امت کے صدیق ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ، صدیقہٴ کائنات حضرت عائشہ کے والد ماجد ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں وارد یہ ایک اہم حدیث ہے جو اپنے اندر امت کے لئے بہت ہی عبرت و نصیحت لئے ہوئے ہے ۔

فوائد ونصائح :

[۱] حضرت ابو بکر کو تمام صحابہ پر خصوصی فضیلت حاصل ہے ۔

[۲] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک حضرت ابو بکر صدیق کو وہ اہمیت حاصل تھی کہ آپ کے نزدیک ان کی کوتاہیاں قابل معافی تھیں اور انہیں تکلیف آپ کو سخت ناگوار تھی ، بلکہ انہیں تکلیف دینے کا معنی ہے کہ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی جارہی ہے ۔

[۳] اپنے کو شیعہ کہلانے والے حضرات کی گمراہی وضلالت کہ وہ حضرت ابوبکر کو برا بھلا کہتے ہیں حالانکہ اس طرح وہ بالواسطہ خود اپنے نبی کو ایذا پہنچانے کا جرم کررہے ہیں ۔

[۴] چھوٹے اور کم درجے کے لوگوں کے لئے یہ قطعا مناسب و جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے سے بڑے اور افضل کو ناراض کریں ۔

[۵] غصے میں بسا اوقات انسان ایسا عمل کرجاتا ہے جو اس کے شایان شان نہیں ہوتا ، البتہ حقیقی مومن جلد ہی اپنی غلطی کا تدارک کرلیتا ہے ارشاد باری تعالی ہے :

[إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ] {الأعراف:201}

"جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں"

[۶] بجز انبیاء علیہم السلام کے کوئی بشر معصوم عن الخطا نہیں ہے ۔

[۷] حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کہ وہ جلدی اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور اپنی غلطی کا احساس کرلیتے ہیں ۔

[۸] صحابہ ٴکرام کی خوبی کہ اگر وہ کسی بات پر مختلف ہوتے تھے اسے انشقاق و افتراق کا سبب نہیں بنا لیتے تھے ۔

[۹] اگر کوئی اپنے بھائی کو کسی بات پر ناراض کردے تو چاہئے کہ اسے راضی کرے اور اس سے معافی چاہ لے۔

[۱۰] ظاہری اختلاف دلی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونا چاہئے ، اور صحابہ کرام کی یہی خصوصیت تھی ، چنانچہ یہی حدیث مسند ابو یعلی میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں اتنا اضافہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا کہ تمہارا بھائی تم سے معافی کا طالب ہوا اور تم نے معاف نہیں کیا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دیکر بھیجا ہے میرے بھائی مجھ سے جتنی بار مغفرت کے طالب ہوئے تو میں کہا تھا کہ اللہ آپ کو معاف کرے ، نیز اللہ گواہ ہے آپ کی ذات کے بعد کوئی دوسری ذات میرے نزدیک ان کی ذات سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، یہ سن کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرمایا : میرا بھی یہی حال ہے ۔

{فتح الباری :7/25 }

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المادة السابق
المواد المتشابهة المادة التالي
...
...

...

جديد المواد

  ...  

عاشوراء کا روزہ/حديث:35 - موسمی خلاصہ دروس
سال کا پہلا مہینہ/حدیث:34 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام اور ہم/حدیث:32 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام کی فضیلت/حدیث:31 - موسمی خلاصہ دروس
عظمت صحابہ/حدیث:05 - موسمی خلاصہ دروس
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?