مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المادة

  ...  

دس محرم کی تاریخ / حدیث : 102
833 زائر
24/12/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :102

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 04/05/ محرم 1431 ھ، م 22/21 دسمبر 2009

دس محرم کی تاریخ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَرَأَى الْيَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ ‏"‏‏.‏ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ‏.‏

( صحيح البخاري :2004 ، الصوم – صحيح مسلم :1130 ، الصيام )

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود دس محرم یعنی عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : یہ روزہ کیسا ہے ؟ یہود نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے ، یہ وہی دن ہے جس دن بنو اسرائیل کو اللہ تعالی نے ان کے دشمن سے نجات دی تھی ، تو حضرت موسی علیہ السلام نے [ بطور شکریہ ] اس دن کا روزہ رکھا تھا [ لہذا ہم بھی روزہ رکھتے ہیں ] یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن کے روزہ کا حکم دیا ۔

{ صحیح بخاری وصحیح مسلم }

تشریح : عاشوراء کا دن بڑا افضل ہے اور اس دن کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے ، اس کی عظمت بہت پرانی اور اس سے بہت سے تاریخی واقعات وابستہ ہیں ، چنانچہ عاشوراء کا ذکر آتے ہی حضرت موسی علیہ السلام کے فرعون اور اس کے لشکر سے نجات کی کہانی یاد آجاتی ہے چنانچہ جب فرعون پر حضرت موسی علیہ السلام کی دعوت کا کوئی اثر نہیں ہوا اور بنی اسرائیل پر عموما اور حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لانے والوں پر خصوصا وہ ظلم کے پہاڑ ڈھاتا رہا تو حضرت موسی علیہ السلام نےمصر کی سرزمین کو چھوڑ کر شام کی طرف بحکم الہی ہجرت کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ ایک رات نہایت ہی خفیہ طریقے سے اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکل گئے ، فرعون کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے ایک بڑا لشکر لے کر موسی علیہ السلام اور اور بنواسرائیل کا تعاقب کیا اور بالآخر ایک دن صبح ہی صبح جب بنو اسرائیل بحرہٴ قلزم کے کنارے پہنچ رہے تھے کہ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ انہیں جالیا ، اب صورت حال یہ تھی کہ دونوں جماعتوں میں صرف اتنا ہی فاصلہ رہ گیا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، بنو اسرائیل یہ صورت حال دیکھ کر سخت خوفزدہ ہوئے اور گھبرا گئے ، آگے سمندر تھا پیچھے فرعون اور اس کا غضبناک لشکر جو ان کمزور اور نہتوں کو چٹ کرجانا چاہتا تھا ، دونوں طرف موت ہی موت کھڑی نظر آرہی تھی " نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن " کا منظر تھا یہ منظر دیکھ کر بنی اسرائیل کی زبان سے بے ساختہ نکلا : " موسی اب تو ہم مارے گئے " ، لیکن موسی علیہ السلام پر اس صورت حال کا کوئی اثر نہ ہوا کیونکہ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ چونکہ یہ راستہ ہم نے بحکم الہی اختیار کیا ہے اور وہ میرے ساتھ ہے لہذا ہمیں وہ راستہ ضرور بتلائے گا جس پر چل کر ہم فرعون کی پکڑ سے بچ جائیں گے ، لہذا موسی علیہ السلام نے گھبرائے ہوئے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ فرعون تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے گا

کیونکہ اللہ تعالی کی مدد ہمارے شامل حال ہے وہ ان حالات پر ضرور ہماری رہنمائی کرے گا ۔ اور ہوا بھی ایسا ہی ، چنانچہ جب فرعون کا لشکر بنی اسرائیل کے بالکل قریب پہنچ گیا اور موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل مدد الہی کے انتظار میں تھے کہ اللہ تعالی کا حکم ہوتا ہے : موسی ! سمند پر اپنی عصا مارو ، یہ سمندر تمہیں راستہ دیگا چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام نے جیسے ہی اپنا عصا سمندر پر مارا ، سامنے بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل انہیں راستوں سے بخیر وعافیت سمند کے دوسرے کنارے پہنچ گئے ، ادھر فرعون بھی ان کے تعاقب میں انہیں راستوں سے سمندر پار کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ سمندر کاپانی پھر اپنی جگہ واپس آگیا اور فرعون اپنے لشکر کے ساتھ اس میں ڈوب گیا ، ارشاد باری تعالی ہے :

[فَأَتْبَعُوهُمْ مُشْرِقِينَ(60) فَلَمَّا تَرَاءَى الجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ(61) قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ(62) فَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ البَحْرَ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ العَظِيمِ(63) وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الآَخَرِينَ(64) وَأَنْجَيْنَا مُوسَى وَمَنْ مَعَهُ أَجْمَعِينَ(65) ثُمَّ أَغْرَقْنَا الآَخَرِينَ(66) إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ(67) ]. {الشعراء}.

"60تو انہوں نے سورج نکلتے (یعنی صبح کو) ان کا تعاقب کیا 61 - جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے 62 - موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے رستہ بتائے گا 63 - اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے) 64 - اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا 65 - اور موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں کو تو بچا لیا 66 - پھر دوسروں کو ڈبو دیا 67 - بیشک اس (قصے) میں نشانی ہے۔ لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں"

زیر بحث حدیث میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، اور اسی حدیث سے جہاں اس دن کی اہمیت اور اس دن کے روزے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے وہیں امت مسلمہ کے لئے ایک بڑا درس یہ بھی ملتا ہے کہ وہ اللہ تعالی پر یقین و توکل کا دامن نہ چھوڑے ، وہ یہ نہ سمجھے کہ اگر ہم کافروں کی ہمنوائی نہ کئے اور ان کی ہاں میں ہاں نہ ملائے تو مٹادئے جائیں گے ، ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ضرورت ہے کہ احکام الہی کی پابندی کریں اس کے نبی کی اتباع و پیروی کریں اس کی اور اس کے نبی کی حکم عدولی سے پرہیز کریں پھر اس کا وعدہ ہے کہ وہ ہماری مدد کرے گا : [يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ] {محمد:7} اے ایمان والو ! اگر تم اللہ [کے دین ] کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا ۔

فوائد :

1. اللہ تعالی کے وعدوں پر یقین وتوکل کی فضیلت ۔

2. عاشوراء کے روزے کی فضیلت {ارشاد نبوی ہے کہ عاشوراء کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے } ۔

3. اللہ تعالی اپنے مطیع وفرمانبردار بندوں کی مدد ضرور کرتا ہے {" ولینصر اللہ من ینصرہ " جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ اس کی مدد کرےگا } ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المادة السابق
المواد المتشابهة المادة التالي
...
...

...

جديد المواد

  ...  

عاشوراء کا روزہ/حديث:35 - موسمی خلاصہ دروس
سال کا پہلا مہینہ/حدیث:34 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام اور ہم/حدیث:32 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام کی فضیلت/حدیث:31 - موسمی خلاصہ دروس
عظمت صحابہ/حدیث:05 - موسمی خلاصہ دروس
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?