مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

عشرہ ذوالحجہ اور عیدِ قربانی
1398 زائر
10/11/2009
غير معروف
شیخ محمد یوسف ریاضی حفظہ اللہ ، بریدہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عشرہ ذوالحجہ اور عیدِ قربانی

از قلم : شیخ محمد یوسف ریاضی حفظہ اللہ

مراجعہ : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاطwww.islamidawah.com }

عشرہ ذو الحجہ کی فضیلت:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:اللہ تعالی کے نزدیک ذوالحجہ کے دس دنوں میں عملِ صالح سے زیادہ محبوب کسی اور دن میں عمل صالح نہیں ہے ، صحابہ نےسوال کیا : اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں مگر ایسا آدمی جو اپنی جان ومال کے ساتھ نکلا ہو اور اس میں سے کسی چیز کے ساتھ واپس نہ آئے۔(بخاری،ترمذی،أبوداؤد)

بال وناخن کاٹنا:

جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہئے کہ ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد اپنے بال وناخن نہ کاٹے فرمانِ رسول ہے:جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تووہ اپنے بال وناخن نہ کاٹے۔(ترمذی)

یومِ عرفہ کا روزہ:

ذوالحجہ کی نوویں تاریخ عرفہ کا دن ہے حج نہ کرنے والے کے لئے اس دن روزہ رکھنا مسنون ہے اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ وآئندہ دو سال کے گناہ معاف کردیتاہے۔(مسلم

دس ذوالحجہ(عید کا دن)کے أعمال:

دسویں ذوالحجہ یہ عید کا دن ہے اس دن بہت سے أعمال مسنون ہے:1-غسل کرنا،

2-صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنا،

3-خوشبو لگانا۔

4- بغیر کچھ کھائے ہوئے عید گاہ جانا اور واپس آکر قربانی کا گوشت کھانا۔

5- بڑے،بوڑھے،بچوں،عورتوں یہاں تک کہ حائضہ ونفساء کو بھی عید گاہ لے جانا البتہ عذر والی عورتیں نماز میں شامل نہ ہوکر صرف دعا میں شامل رہیں گی۔

6- عید گاہ میں نمازادا کرنا اگر عذر ہوتو مسجد میں ادا کرنا جائز ہے۔

7- عید کی نماز میں جلدی کرنا ویسے اس کا وقت طلوعِ شمس کے بعد سے لیکر زوال تک ہے۔

نمازِ عید کا طریقہ:

عید کی نماز دو رکعت ہے اس میں نہ اذان کہی جائیگی اور نہ اقامت ، یہ نمازبارہ زائد تکبیروں کے ساتھ پڑھی جائیگی، پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں قرأت سے پہلے کہی جائیں گی،عید کی نمازسے پہلےکوئی سنت نماز ہے نہ بعد میں،پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ أعلی اور دوسری میں سورہ غاشیہ پڑھنا یا سورہٴ ق اور سورۃ القمر پڑھنا سنت ہے ،خطبہ نماز کے بعد دیا جائے گا ۔دیکھئے(بخاری،مسلم،أبوداؤد)

عید کے دنوں میں کھیل کود :

عید میں جائز کھیل کود اور اسلامی نغمے پڑھنا درست ہے البتہ شریعت کے دائرے سے باہر ہوکر کسی خوشی کا اسلام میں کوئی جواز نہیں۔

تکبیر کہنا:

نوویں ذوالحجہ کی صبح سے لیکر تیرہویں ذوالحجہ کی عصر تک تکبیر پڑھنا چاہئے اور تکبیر کے الفاظ یہ ہیں:

اَللّٰہُ أکْبَرْ اَللّٰہُ أکْبَرْ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ أکْبَرْ اَللّٰہُ أکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدِ۔

تہنیت:

عید کی مبارکبادی(تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکَ)کے ذریعہ دینی چاہئے کیونکہ سلف سے یہی ثابت ہے۔(فتح الباری ٥١٧٢،تمام المنہ٣٥٤)

قربانی کا حکم:

قربانی کا ثبوت قرآن وحدیث اور اجماعِ أمت سے ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یقینا ہم نے آپ کو(حوض)کوثر عطا کیا تو آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے۔

مدنی زندگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برابر قربانی کیا ،صحابہ کرام نے کیا اور اس کے بعد أمت برابر اس پر عمل پیرا ہے۔(بخاری)

قربانی کا جانور:

قرآنِ کریم نے چار قاسم کے جانوروں کا ذکر کیا ہے جن کی قربانی کی جایئگی اونٹ،گائے،بکری بھیڑ،جو صحیح سالم ہوں اور مسنہ(دو دانت والا)ہوں مگر بھیڑ سال بھر یا اس سے کم کا بھی جائز ہے۔(مسلم)اسی طرح قربانی کے جانوروں کا درج ذیل عیوب سے پاک ہونا ضروری ہے:

(١)ایسا جانور جس کی ایک آنکھ کی بصارت بالکل غائب ہو،دونوں آنکھوں کا اندھا بدرجہ اولی جائز نہیں۔(٢)وہ بیمار جس کی بیماری واضح ہو۔(٣)ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑاپن بالکل نمایا ںہو۔(٤)ایسا جانور جو نہایت ہی بوڑھا اور کمزور ہو اور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔

قربانی کا وقت:

اس کا وقت نماز عید کے بعد سے لیکر تیرہویں ذوالحجہ غروب آفتاب تک ہے،اگر کوئی نماز عید سے قبل قربانی کرے گا تو وہ قبول نہیں ہوگی۔(دیکھئے:سلسلة الآحادیث الصحیحہ ٦١٧٥)

قربانی کے جانور میں حصے:

اونٹ یا گائے اگر ہدی کے لئے ہوں تو سات افراد کی طرف سے جائز ہوں گے ۔(مسلم)اور اگر أونٹ یا گائے قربانی کے لئے ہوں تو اونٹ میں دس افراد کی بھی شرکت جائز ہے۔(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)اور اگر قربانی کا جانور بکری یا بھیڑ ہو اور گھر کے ذمہ دار کی طرف سے ذبح کیا جائے تو پورے گھر کی طرف سے کافی ہوگا۔

قربانی کا گوشت:

قربانی کا گوشت خود کھائیں،دوسروں کو بھی کھلائیں اور ذخیرہ اندوزی بھی جائز ہے۔(بخاری ومسلم)

البتہ اس کا بیچنا اور اس سے قصاب کو مزدوری دینا جائز نہیں ہے۔

ذبح کا طریقہ:

اگر آدمی میں قربانی کا جانور ذبح کرنے کی صلاحیت ہوتو خود ذبح کرے ورنہ کسی دوسرے مسلمان سے ذبح کروائے،ذبح سے قبل چھری تیز کرے اور جانور کو بائیں پہلو پر لٹائے،چھری کو اس کی نظروں سے اوجھل رکھے اور ذبح کرتے وقت یہ دعاء پڑھے:اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أمِرْتُ وَأنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اِنَّ ھَذَا مِنْکَ وَلَکَ عَنْ۔۔۔۔۔۔(جس کی طرف سے قربانی کرنی ہے اس کا نام لے )اور بسم اللہ اللہ اکبرکہتا ہوا تیزی سے چھری حلقوم پر چلائے۔

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاطwww.islamidawah.com }

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

پرچہ سوالات - اسلامي مـقـالات
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?