مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

رشتہ داری کا فائدہ / درس نمبر : 20 اور آخری
1347 زائر
15/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:20

اخلاقیات :05

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 23 رمضان المبارک 1430ھ، م 13ستمبر 2009

رشتہ داری کا فائدہ

عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رضي الله عنه قال، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ‏"‏‏.‏

( صحيح البخاري : 5986 ، الأدب – صحيح مسلم : 2557 ، البر والصلة )

ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی روزی میں فراخی اور اس کی عمر لمبی کی جائے تو اسے چاہئے کہ صلہ رحمی کرے ۔ [ صحیح بخاری وصحیح مسلم ]

تشریح : کسی امر میں دوآدمیوں کا اشتراک ان کے باہمی تعلقات اور محبت کی اصل بنیاد ہے ، یہ اشتراک کہیں درس میں ہوتا ہے کہیں پیشہ میں ، کہیں رنگ ونسل میں ہوتا ہے اور کہیں وطن وعلاقہ میں نیز یہ اشتراک جس قدر مضبوط اور قریبی ہوتا ہے اسی قدر باہمی محبت زیادہ اور ان کے حقوق اسی لحاظ سے بکثرت ہوتے ہیں ، ان شراکتوں میں سب سے زیادہ مضبوط قابل لحاظ اور حقوق کے لحاظ سے اہم شراکت " رحم " کی شراکت ہے جس شراکت کی گرہ خالق کائنات نے باندھی ہے ، ہم لوگ اسے قرابت داری کا نام دیتے ہیں ، یعنی وہ تعلقات جو رحم مادر سے جڑے ہیں اور اس کا پاس ولحاظ رکھنے اور اس کے حقوق کی ادائیگی کو ہم لوگ صلہ رحمی کانام دیتے اور اسے توڑنے کو قطع رحمی سے تعبیر کرتے ہیں ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے " واتقوا اللہ الذی تساءلون بہ والارحام " اور ڈرو اللہ تعالی سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سےسوال کرتے ہو اور ڈرو قرابت مندیوں کے توڑنے سے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی مخلوق کو پیدا فرمایا ، جب ان کی پیدائش سے فارغ ہوا تو رحم [ قرابتداری ] نےکھڑے ہوکر کہا : یہ اسی شخص کا مقام ہے جو قطع رحمی سے تجھ سے پناہ مانگے ؟ اللہ تعالی نے فرمایا : ہاں ! کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ میں اسی سے تعلق جوڑوں جو تجھ سے جوڑے اور اسی سے قطع تعلق کرلوں جو تجھے قطع کرے [ توڑے ] " رحم " نے کہا : کیوں نہیں ، ایسا ہی ہونا چاہئے ، اللہ تعالی نے فرمایا : پس یہ تیرے لئے ہے یعنی ایسا ہی ہوگا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر چاہو تو اس کی تائید میں یہ آیات قرآنی پڑھو : [فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ(22) أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ(23) ]. {محمد}. اور اگر تم سے یہ بعید نہیں ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کرو ، اور رشتے ناتے توڑ ڈالو ، یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالی نے لعنت کی اور انہیں بہرہ اور اندھا کردیا ۔

اسلام میں صلہ رحمی کی بڑی اہمیت اور اس کی بڑی فضیلت وارد ہے ، خالق رحم نے صلہ رحمی کو واجب اور قطع رحمی کو حرام قرار دیا ہے ، صلہ رحمی کرنے والے کو دینی ودنیوی بہت ساری نوازشوں سے نوازا اور قطع رحمی کرنے والے کو بڑے دردناک عذاب کی دھمکی دیا ہے ، جہاں ایک طرف صلہ رحمی کو ایمان کی نشانی قرار دیتا ہے تو وہیں قطع رحمی کرنے والے پر اللہ تعالی کی لعنت برسنے کی دھمکی بھی دیتا ہے ، جہاں ایک طرف صلہ رحمی کو جنت میں جانے کا ذریعہ بتاتا ہے تو دوسری طرف قطع رحمی کو جنت سے محرومی کا سبب بتلاتا ہے ، جہاں ایک طرف صلہ رحمی کرنے والے کو رحمت الہی کا مستحق گردانتا ہے تو دوسری طرف قطع رحمی کرنے والے کو مغفرت الہی سے محرومی کا پروانہ دیتا ہے ۔

زیر بحث حدیث میں بھی صلہ رحمی کے دو ایسے دنیوی فائدے کا ذکر ہے جن کا ہر فرد بشر متمنی رہتا ہے اولا صلہ رحمی کو رزق میں اضافہ کا سبب قرار دیا ہے ، یہ اضافہ فی الواقع بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے روزی کی مقدار میں زیادتی کردی جائے اور اللہ تعالی اس زیادتی کے مختلف اسباب مہیا کردے ، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی گھرانے والے فاسق و فاجر لوگ ہوتے ہیں ، لیکن چونکہ وہ صلہ رحمی کا فریضہ انجام دیتے رہتے ہیں اس لئے اللہ تعالی ان کے مال کو بھی بڑھا دیتا ہے اور ان کے افراد کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے ۔ [ ابن حبان] ۔

اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ روزی میں اضافہ سے مراد روزی میں برکت ہو جو اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے ڈال دی جائے ۔

اس حدیث میں صلہ رحمی کا دوسرا فائدہ یہ بیان کیا گیا کہ صلہ رحمی کرنے والے کی عمر طویل ہوجاتی ہے ، خواہ یہ درازی عمر مادی ہو کہ اللہ تبارک وتعالی صلہ رحمی کرنے والے کی عمر اس شخص کے مقابلے میں دراز کردے جو صلہ رحمی نہیں کرتا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد اس کی عمر میں برکت ہو یعنی اس کی زندگی بہر پہلو فوائد سے لبریز اور مصائب دنیوی سے پاک ہو جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ : ظلم و زیادتی اور قطع رحمی دوگناہ ایسے ہیں جن کی سزا اللہ تعالی دنیا ہی میں بہت جلد دے دیتا ہے ، اور یہ سزا اس سزا کے علاوہ ہوتی ہے جو ایسے شخص کے لئے آخرت میں تیار کی گئی ہے ۔ [ الترمذی ] ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?