مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

اس کی ناک خاک آلود ہو/ درس نمبر : 19
1389 زائر
13/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:19

اخلاقیات :04

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 22 رمضان المبارک 1430ھ، م 12ستمبر 2009

اس کی ناک خاک آلود ہو

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَدْرَكَ والديه عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثم لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏

( صحيح مسلم : 2551 ، البر و الصلة – الأدب المفرد : 646 )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی ناک خاک آلود ہو ، اس کی ناک خاک آلود ہو ، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو ؟ آپ سے سوال کیا گیا : یا رسول اللہ وہ کون شخص ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کو پایا ، ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو پالیا پھر بھی [ ان کے ساتھ حسن سلوک کرکے ] جنت میں داخل نہیں ہوا ۔

{ صحیح مسلم ، ادب المفرد للبخاری }

تشریح : اس دنیا میں انسان کے وجود میں آنے اور اس کی پرورش و رعایت کا ظاہری سبب اس کے ماں باپ ہیں ، اسی لئے اللہ اور اس کے رسول علیہ الصلاۃ و السلام کے بعد کسی بھی انسان پر سب سے بڑا حق اس کے والدین کا ہوتا ہے ، جو شخص والدین کے حقوق کا پاس ولحاظ رکھتا ہے وہ تو جنت کا مستحق ہے اور جو ان کے حقوق کو پامال کرتا ہے اس کا ٹھکانا جہنم ہے ، خواہ وہ اپنے طور پر کتنا ہی بڑا پارسا اور خدا ترس کیوں نہ ہو ، ایک صحابی خدمت نبوی میں حاضر ہوتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ! میں اگر اللہ اکیلے کے معبود برحق ہونے اور آپ کے رسول صادق ہونے کی گواہی دوں ، پانچ وقت کی نماز پڑھوں اپنے مال کی زکاۃ ادا کروں اور رمضان المبارک کا روزہ رکھوں تو میرے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کا انتقال ان اعمال پر ہوا وہ قیامت کے دن نبیوں ، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ان دونوں انگلیوں کی طرح ہوگا ، یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ فرمایا ، بشرطیکہ اس شخص نے اپنے والدین کی نافرمانی نہ کی ہو [ مسند احمد ، صحیح ابن خزیمہ ] ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص سے جو آپ سے جہاد فی سبیل اللہ پر نکلنے کے بارے میں مشورہ طلب کررہا تھا فرمایا : کیا تمہارے والدین زندہ ہیں ؟ اس شخص نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : ان کے ساتھ چمٹے رہو کیونکہ ان دونوں کے قدموں کے نیچے جنت ہے [ الطبرانی ] ۔

ان دونوں حدیثوں سے والدین کے حق عظیم کا اندازہ ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر مشکل ترین کام ہے ، زیر بحث حدیث میں بھی اسی امر کا بیان ہے ، ساتھ میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا بھی اس شخص کے حق میں ہے جو والدین جیسی نعمت پاکر اور جنت کے دروازے کی کنجیاں حاصل کرکے بھی جنت میں داخل ہونا نہیں چاہتا ، بعینہ یہی بددعا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بھی

اس شخص کے حق میں کی ہے جو والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پاکر اپنی جنت نہیں سنوارلیتا { صحیح ابن خزیمہ و صحیح ابن حبان } ۔

زیر بحث حدیث میں والدین کو بڑھاپے میں پالینے کا ذکر ہے ، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف حالت ضعف و پیری ہی میں والدین کی خدمت باعث ثواب ہے ، بلکہ والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک ہر عمر میں باعث ثواب اور ان کے ساتھ بدسلوکی باعث ندامت وبربادی ہے لیکن حالت پیری کا خصوصی ذکر اس لئے ہوا ہے کہ بڑھاپے میں والدین خدمت اور حسن سلوک کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں اور فطری طور پر بھی یہ بات بہت ہی غیر مقبول اور بڑا ہی سنگ دلانہ جرم ہے کہ اس دور میں انہیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے اور انہیں اپنے سے دور کسی اولڈ ہاوس [Old House ] کے حوالے کردیا جائے ۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک ، ان کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن تعامل کے بارے میں اگر قرآن مجید کی درج ذیل ایک ہی آیت نازل ہوتی تو کافی تھا چہ جائیکہ قرآن میں متعدد آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی درزنوں حدیثیں والدین کے ساتھ حسن تعامل سے متعلق وارد ہیں ۔

[وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا] [وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا] {الإسراء: 23-24}

تیرے رب نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ عبادت صرف ایک رب کی کرو ، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، اگر ان میں سے ایک یا دونوں ہی تمہاری موجودگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف [ اونہہ ] تک نہ کہو ، اور نہ انہیں ڈانٹو اور ہمیشہ ان سے ادب سے بات کرو اور ان کے آگے نیاز مندی سے عاجزی کے بازو جھکا دو اور ان کے لئے یہ دعا کرو ، اے رب ان پر رحم فرما جس طرح بچپن میں پیار و محبت سے مجھے پالا ۔

اگر غور کیا جائے تو اس آیت میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کےپانچ مظاہر کا ذکر ہوا ہے :

۱- ایک تو یہ کہ ان کی کسی جائز طلب پر بدمزگی ظاہر نہ کی جائے حتی کہ لفظ " اف " تک نہ نکالا جائے ۔

۲- انہیں جھڑکا نہ جائے ، ،

۳- ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کی جائے کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکلے جس سے عدم احترام کی بو آرہی ہو ،،،

۴- ان کے ساتھ نہایت ہی رحم کا معاملہ کیا جائے جس طرح کہ چڑیا اپنے بچوں کو حملہ کرنے والوں کے خوف سے اپنے بازو میں چھپالیتی ہے ،،،

۵- ان کی کمزوری اور لاچاری کو دیکھ کر اپنی اس حالت پر غور کیا جائے جس پر اس کی پیدائش ہوئی تھی پھر اس کے بعد نہایت ہی خلوص کے ساتھ ان کے لئے دعائیں کی جائیں ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?