مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

ایثارکی بےمثال، مثال/ درس نمبر : 16
1229 زائر
10/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:16

اخلاقیات :01

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 18 رمضان المبارک 1430ھ، م 08ستمبر 2009

ایثارکی بےمثال، مثال

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ طَعَامُ الاِثْنَيْنِ كَافِي الثَّلاَثَةِ، وَطَعَامُ الثَّلاَثَةِ كَافِي الأَرْبَعَةِ ‏"‏‏.‏

{ صحیح بخاری : 5392 ، الاطعمۃ – صحیح مسلم :2058 ، الاشربہ }

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کو اور تین کا کھانا چار آدمیوں کو کافی ہے ۔

[ بخاری ومسلم ]

تشریح : انسان اگر خود آسودہ ہے ، اس کے پاس زائد کھانا موجود ہے تو کسی کو کھلانا کوئی بڑی بات نہیں ہے ، انسان کی ضرورت سے زائد نقدی ہے تو کسی ضرورت مند کو دینا یہ کوئی بڑے کمال کی بات نہیں ہے ، کمال تو یہ ہے کہ خود بھوکا رہ کر کسی بھوکے کو کھلادے اور خود ضرورت مند رہ کر کسی حاجت مند کی حاجت کو پوری کردے ، یہ درحقیقت سخاوت وفیاضی کا وہ درجہ ہے کہ اس کے بعد کسی اور درجہ کا تصور نہیں ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھرانے والے اور آپ کی تربیت یافتہ صحابۂ کرام کی یہی خصوصیت تھی چنانچہ مکہ کے مہاجرین جب بے سروسامانی کی حالت میں مدینہ منورہ پہنچے تو انصار نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا ، ان کو اپنے گھر دئے ، باغ دئے ، کھیت دئے حتی کہ اس پر بھی راضی ہوگئے کہ جو مہاجر اپنی بیوی کو چھوڑکر آیا ہے اس کے لئے اپنی ایک بیوی کو طلاق دے دیں جس سے ان کا مہاجر بھائی دوبارہ نکاح کرلے ، صورت حال یہ نہیں تھی کہ انصار کے پاس ہر چیز کی فروانی تھی ، نہیں بلکہ وہ محتاج اور سخت محتاج تھے ، جس کا اندازہ درج ذیل حدیث سے ہوتا ہے :

ورق الٹئے : 1/2

ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض پرداز ہوا کہ میں بھوک سے نڈھال ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کی طرف پیغام بھیجا لیکن ادھر سے جواب تھا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے گھر میں پانی کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے ، پھر آپ نے اپنی دوسری زوجہ محترمہ کے پاس بھیجا اور وہاں سے بھی یہی جواب ملا ، اس طرح ایک ایک کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس بھیجا لیکن کسی بھی گھر میں پانی کے سوا کھانے کی چیز نہ مل سکی ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آج رات کون اس کی مہمانی کرے گا ؟ ایک انصاری صحابی تیار ہوگئے اور انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا : رسول اللہ کے مہمان کی اچھی مہمان نواز ی کرو ، ان کی بیوی نے جواب دیا کہ گھر میں بچوں کی خوراک سے زائد کوئی اور چیز نہیں ہے ، انصاری صحابی نے اپنی بیوی سے کہا کہ بچوں کو کسی چیز سے بہلا کر سلا دو

اور جب مہمان گھر میں داخل ہوتو کسی بہانے چراغ بجھا دینا اور یہ ظاہر کرنا کہ ہم بھی ساتھ کھانا کھارہے ہیں ، چنانچہ وہ سب کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور مہمان نے سیر ہوکر کھانا کھایا اور دونوں نے بھوکے رات گزاری ، جب صبح ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا : تم نے آج رات اپنے مہمان کے ساتھ جو سلوک کیا ، اللہ تعالی اس پر بڑا خوش ہوا ، اور صرف اسی پر بس نہیں بلکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ان کے اس ایثار و قربانی پر آیت نازل فرمائی جو قیامت تک پڑھی جاتی رہے گی ۔

[وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ المُفْلِحُونَ(9) ]. {الحشر}.

" اور وہ لوگ جنہوں نے اس گھر میں یعنی مدینہ میں اور ایمان میں اپنی جگہ بنالی اور اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا ہے اس پر وہ اپنے دلوں میں تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی حاجت ہو [ بات یہ ہے کہ ] جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب اور بامراد ہے "۔[ الحشر :9 ] { صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی تعلیم اپنے اہل خانہ اور تمام صحابۂ کرام کو تھی کہ ان کے اندر ایثار وقربانی کا جذبہ موجود تھا اسی لئے ان کے یہاں باہمی محبت ، بلند ہمتی اور کھانے وپینے میں برکت ظاہر تھی ، وہ ہر تکلیف اور پریشانی اٹھا کر اپنے بھائی کو اپنے اوپر ترجیح دیا کرتے تھے بلکہ بسااوقات اس کے لئے انہیں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا تھا ۔

زیر بحث حدیث میں بھی اسی ایثار کی تعلیم امت کو دی گئی ہے کہ اگر کبھی ہنگامی طور پر ایسی صورت حال پیش آجائے کہ کھانا کم ہو اور کھانے والے افراد زیادہ ہوں تو لوگوں کو اس سے نہ پریشان ہونا چاہئے اور نہ ہی شرمانا چاہئے بلکہ مل جل کر کھاپی لینا چاہئے ، اگر ایک ہی آدمی کا کھانا موجود ہے تو وہ دو آدمی کی ضرورت کے لئے کافی ہے کہ اس سے دونوں کا پیٹ اگر چہ نہ بھرے لیکن ضرورت پوری ہوجائے گی ، اسی طرح تین آدمی کا کھانا چار آدمی بلکہ چھ آدمیوں اور چار آدمیوں کا کھانا پانچ بلکہ آٹھ آدمیوں کے لئے کفایت کرجائے گا ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?