مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

صدقہ اور الہٰی پرورش/ درس نمبر : 15
1352 زائر
10/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:15

عبادات :06

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 17 رمضان المبارک 1430ھ، م 07ستمبر 2009

صدقہ اور الہٰی پرورش

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ ـ وَلاَ يَقْبَلُ اللَّهُ إِلاَّ الطَّيِّبَ ـ وَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ ‏"‏‏.‏

( صحيح البخاري : 1410، الزكاة – صحيح مسلم : 1014 ، الزكاة )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص پاکیزہ [حلال ] کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ کرتا ہے ، اور اللہ تعالی پاکیزہ اور حلال روزی ہی سے صدقہ قبول کرتا ہے ، تو اللہ تعالی اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے ، پھر وہ اسے صاحب صدقہ کے لئے بڑھاتا رہتا ہے جیسے تم میں سے ایک شخص اپنے بچھیرے کو پالتا اور بڑھاتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی مثل ہوجاتا ہے ۔ { صحیح بخاری وصحیح مسلم }

تشریح : مال کا وہ حصہ جس کا نکالنا شرعا واجب اور متعین ہے اسے زکاۃ کہا جاتا ہے جو ہر صاحب استطاعت مسلمان پر فرض اور اسلام کا ایک رکن ہے ، البتہ مال کا وہ حصہ جس کا شرعا نکالنا واجب نہیں ہے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے تو وہ صدقہ وخیرات کہلاتا ہے ، شریعت اسلامیہ میں اس صدقہ کی بڑی اہمیت اور اس کے بڑے فوائد ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ رضائے الہی کے حصول اور عذاب الہی سے نجات کے لئے جس قدر اہمیت صدقہ کو حاصل ہے وہ شایدہی کسی عمل خیر کو حاصل ہو ۔

زیربحث حدیث اس کی بڑی واضح دلیل ہے کہ حلال کمائی سے خرچ کئے گئے کھجور کے دانے کے برابر صدقہ سے بھی اللہ تعالی اس قدر خوش ہوتا ہے ، اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور صاحب صدقہ کے لئے اسے بڑھاتا اور پالتا رہتا ہے حتی کہ وہ بڑھ کر پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے ۔

صدقہ کے فضائل :

[۱] صدقہ عذاب الہی سے نجات کا ذریعہ ہے : ارشاد نبوی ہے : تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں ہم کلام ہوگا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا ، چنانچہ وہاں آدمی اپنے دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے اپنے عمل کے علاوہ اور کچھ نظر نہ آئے گا ، اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو ادھر بھی اپنےبھیجے ہوئے عمل کو دیکھے گا اور جب اپنے سامنے نظر اٹھائے گا تو جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے گا ، اس لئے تم اس آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے صدقہ کرنے کے ذریعہ ہو ۔ [بخاری و مسلم ] ۔

[۲] صدقہ سے مال میں برکت : صدقہ کرنے سے کبھی بھی مال میں کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ ظاہری و باطنی دونوں طورپر اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ، ارشاد نبوی ہے : صدقہ سے کبھی بھی مال گھٹتا نہیں [ صحیح مسلم ] ، اللہ تعالی فرماتا ہے " اے ابن آدم ! تو اپنی کمائی خرچ کر میں اپنے خزانے سے تجھ کو دوں گا [ صحیح بخاری و صحیح مسلم ]

[۳] صدقہ گناہوں کاکفارہ : ارشاد نبوی ہے کہ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو اسی طرح ختم کردیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے { ترمذی و احمد } ۔

[۴] محشر میں صدقہ سایہ ہے : ارشادنبوی ہے کہ قیامت کے دن ہرمومن لوگوں کا فیصلہ ہونے تک اپنے صدقہ کے سایہ تلے ہوگا

[ صحیح ابن خزیمہ و مسند احمد ]

[۵] صدقہ عذاب خبر سے نجات ہے : ارشاد نبوی ہے : بلاشبہ صدقہ قبر والوں پر سے قبر کی گرمی اور شدت کو ختم کردیتا ہے { الطبرانی }۔

[۶] صدقہ برے خاتمہ سے نجات دیتا ہے : ارشاد نبوی ہے کہ صدقہ اللہ تعالی کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے ۔ { الترمذی } ۔

[۷] صدقہ کیا ہوا مال ہی باقی ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انسان کہتا ہے میرا مال ، میرا مال ، حالانکہ اے انسان تیرا مال ایک تو وہ ہے جو تونے کھا کر ختم کردیا ، یا دوسرا پہن کر بوسیدہ کردیا ، یا تیسرا صدقہ کرکے آخرت کے لئے آگے بھیج دیا { صحیح مسلم } ۔

ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے بکری ذبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :اس کا کتنا حصہ باقی ہے ؟ اہل خانہ نے جواب دیا : صرف ایک دست باقی ہے ،آپ نے فرمایا : ایک دست کے سوائے سبھی باقی ہے ۔ { ترمذی } ۔

[۸] صدقہ کرنے والوں کے لئے فرشتوں کی خاص دعائیں : ارشاد نبوی ہے کہ ہر دن جس میں بندے صبح کرتے ہیں دوفرشتے آسمان سے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے : اے اللہ خرچ کرنے والے کو بہترین بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ روک کر رکھنے والے کے حصے میں ہلاکت کر ۔

{ صحیح بخاری ومسلم } ۔

ان حدیثوں سے صدقہ کی اہمیت حاصل ہوتی ہے لیکن بہت سے لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم فقیر و محتاج ہیں لہذا ہم صدقہ کیسے کریں ؟ انہیں چاہئے کہ درج ذیل حدیث کوپڑھیں :

" حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر مسلمان کے لئے صدقہ کرنا ضروری ہے ، حضرت ابو موسی نے سوال کیا : اگر وہ صدقہ کرنے کے لئے کچھ نہ پائے تو ؟ آپ نے فرمایا : اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کرے اور اجرت حاصل کرکے اپنے آپ کو بھی نفع پہنچائے اور صدقہ بھی کرے انہوں نے پھر پوچھا : اگراسے اس کی طاقت نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کردے ، انہوں نے پھر پوچھا : اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : بھلائی کا حکم دے انہوں نے کہا : اگروہ یہ بھی نہ کرسکے ؟ آپ نے فرمایا : وہ دوسرے کو نقصان پہنچانے سے باز رہے ، یہ بھی ایک قسم کا صدقہ ہے" ۔

{ بخاری ومسلم } ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?