مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

زکاۃ ، اسلام کا ایک عظیم رکن/درس نمبر:14
1230 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:14

عبادات :05

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 16 رمضان المبارک 1430ھ، م 06ستمبر 2009

زکاۃ ، اسلام کا ایک عظیم رکن

عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وحج البيت وصوم رمضان .

( صحيح البخاري : 8، الإيمان / صحيح مسلم : 16، الإيمان )

ترجمہ : حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ، ۱- اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، ۲- نمازقائم کرنا ، ۳- زکاۃ ادا کرنا ، ۴- بیت اللہ کا حج کرنا { اگر استطاعت ہو } ۵- اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا ۔

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم }

تشریح : زکاۃ کے معنی پاک ہونے ، بڑھنے اور عمدہ ہونے کے ہیں اور چونکہ زکاۃ سے انسان کا مال بڑھتا اور پاک وصاف ہوجاتا ہے اور خود انسان کا نفس بخالت کی برائی سے پاک وصاف ہوکر وہ ایک عمدہ انسان بن جاتا ہے اس لئے زکاۃ کو زکاۃ کہا جاتا ہے ، کسی بندے کا مال جب ایک معقول مقدار کو پہنچ جائے تو اس میں سے ایک خاص مقدار نکال کر ضرورتمند و حاجت مند لوگوں پر خرچ کرنے کا نام زکاۃ ہے ، یعنی اگر کسی کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہے یا اتنی مقدار میں نقدی ہے جس سے سونے یا چاندی کی یہ مقدار خریدی جاسکے،یاکچھ سونا ہے اور کچھ نقدی ہے اور دونوں کے ملانے سے ساڑھے سات تولہ کی قیمت بن جاتی ہے تو اس میں سے ڈھائی فیصد زکاۃ دینی ہے ، اس طرح اگر کسی کے کھیت میں تقریبا چھ کونٹیل سے زیادہ غلہ پیدا ہورہا ہے اور اس کی آبیاری بارش یا نہر کے پانی سے ہوئی ہے تو اس کا دس فیصد بطور زکاۃ کے دینا ہے اور اگر اس کی آبیاری کنویں اور ٹیوب ویل وغیرہ سے کی گئی ہے تو اس میں سے پانچ فیصد بطور زکاۃ کے دینا ہے ۔

زیر بحث حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ زکاۃ اسلام کا ایک بڑا اہم فریضہ ہے ، اسے اسلام کا ایک رکن ہونے کی حیثیت حاصل ہے کہ اس کے اداکئے بغیر کسی شخص کا اسلام مکمل نہیں ہوسکتا ، اگر وہ بحسن وخوبی زکاۃ ادا کرتا ہے تو اس کا اسلام مکمل اور وہ بہت بڑے اجر وثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے لیکن اگر وہ شخص زکاۃ کا انکار کرتا ہے تو کافر اور دین اسلام سے خارج متصور ہوگا اور یہ شخص بہت بڑے گناہ حتی کہ زنا اور شراب نوشی سے بھی بڑے گناہ کا مرتکب ہورہا ہے ۔

زکاۃ کے فضائل :

1. زکاۃ اسلام کا ایک رکن ہے قرآن مجید میں چالیس سے زائد جگہ زکاۃ کا ذکر موجود ہے ۔

2. زکاۃ سے مال بڑھتا اور اس میں برکت ہوتی ہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے :[ وَمَا آَتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللهِ فَأُولَئِكَ هُمُ المُضْعِفُونَ] {الرُّوم:39} اور جو زکاۃ تم اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے دو تو ایسے لوگ ہی ہیں جو اپنے مال کو دگنا چوگنا کرنے والے ہیں ۔

3. زکاۃ سے انسان کا مال پاک ہوجاتا ہے اور اس مال میں جو شر کا پہلوتھا وہ جاتا رہتا ہے ۔ [ صحیح ابن خزیمہ ] ۔

4. خوشی خوشی زکاۃ ادا کرنے والا ایمان کی لذت محسوس کرتا ہے ۔ [ سنن ابوداود ] ۔

5. دیگر ارکان اسلام کے ساتھ زکاۃ دینے کا اہتمام کرنا جنت میں داخلہ کی ضمانت ہے ۔ [ صحیح بخاری ومسلم ]۔

زکاۃ کی ادائیگی کے اس قسم کے متعدد فضائل ہیں ، اب بڑا بدبخت ہے وہ شخص جو خوشی خوشی اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا ۔

زکاۃ نہ دینے کے نقصانات :

[۱] جس مال کی زکاۃ نہ دی جائے وہ قیامت کے دن اپنے مالک کے لئے وبال جان ثابت ہوگا ۔ " اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچادیجئے ، جس دن اس خزانے کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی [اور ان سے کہا جائے گا کہ ] یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا کر رکھا تھا ، پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو" [ التوبہ :35 ] ۔

[۲] جس مال کی زکاۃ نہ دی گئی وہ قیامت کے دن حشر کے میدان میں زہر یلاسانپ بن کر اپنے مالک کو ڈھنسے گا ، اور اپنے مالک سے کہے گا کہ میں تمہارا مال ہوں ، میں تمہارا مال ہوں [ ابن ماجہ ، ابن خزیمہ ]

[۳] زکاۃ نہ دینے والا نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر اسی طرح ملعون ہے جس طرح سود کھانے کھلانے والا اور رشوت لینے دینے والا ملعون ہے ۔

[ صحیح ابن خزیمہ و احمد ]

[۴] جو قوم اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتی اللہ تعالی اس قوم پر خشک سالی مسلط کردیتا ہے [ الطبرانی و الحاکم ] ۔

[۵] زکاۃ نہ دینے والا اگر پورا مال بھی اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کردے پھر بھی یہ مال اس وقت تک مقبول نہ ہوگا جب تک اس کی زکاۃ نہ دی جائے ۔

زکاۃ نہ ادا کرنے کے یہ بعض دینی و دنیوی نقصانات ہیں جو اس شخص کے لئے باعث عبرت ہیں جو اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ،شاید یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے زکاۃ کی مکمل ادائیگی پر بیعت لیا کرتے تھے ۔ "میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے ، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے پر بیعت کی ہے " ۔ [ صحیح بخاری وصحیح مسلم ] ۔

لہذا ہمارے اوپر بھی ضروری ہے کہ ہم بھی آج یہ عہد کریں کہ ہم زکاۃ کے اسلام کے رکن ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی ادائیگی کی مکمل پابندی کریں گے ، ان شاء اللہ ، ورنہ قرآن و حدیث میں مذکور ان عذاب کا انتظار کریں جو زکاۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے والوں کے لئے تیار ہے ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?