مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

مہلک فاصلہ / درس نمبر : 13
1185 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:13

عبادات :04

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 15 رمضان المبارک 1430ھ، م 05ستمبر 2009

مہلک فاصلہ

عن جابربن عبد الله رضي الله عنهما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة .

( صحيح مسلم : 82 ، الإيمان – مسند أحمد :3/370 – سنن أبوداؤد :4678 ، السنة )

ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : بندے کے اور کفر وشرک کے درمیان نماز چھوڑدینے ہی کا فاصلہ ہے ۔ [ صحیح مسلم ، مسنداحمد ]

تشریح :"نمازاسلام کا وہ اہم فریضہ ہے جس سے کوئی مسلمان متنفس جب تک اس میں ہوش و حواس باقی ہے سبکدوش نہیں ہوسکتا ہے ، قرآن مجید میں اس فریضہ کا ذکر سوسے زائد بار آیا ہوا ہے کہیں تو اس کا حکم ہے :

[وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآَتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ] {البقرة:43} نمازقائم کرو ، زکاۃ دو اور رکوع کرنے والوں کےساتھ رکوع کرو ، کہیں اس کی حفاظت کا حکم ہے

:[حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ] {البقرة:238} نمازوں کی حفاظت کرو ،کہیں اس سے غفلت برتنے والوں کو دردناک عذاب کی دھمکی دی گئی ہے :

[فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا] {مريم:59} پھر ان کے بعد کچھ ناخلف ایسے پیدا ہوئے جو نماز کو ضائع کرتے اور خواہشا ت کی پیروی کرنے لگے تو ایسے لوگوں کے لئے ان کی بدانجامی ان کے سامنے اور جہنم کی ایک وادی ہے ۔ کہیں نماز میں سستی کرنا منافقین کی علامت بتلائی اور اس کا چھوڑنا کفرکی علامت بتلائی گئی ہے :[ نساء:142، المدثر :43 ] اور کہیں بڑے ہی واضح الفاظ میں مومنین کو متنبہ کیا کہ دیکھو نماز چھوڑ کر مشرکین کے طریقے پر نہ چل پڑنا : [مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ المُشْرِكِينَ] {الرُّوم:31} لوگو! اللہ تبارک وتعالی کی طرف رجوع ہوکر و اسی سے ڈرتے رہو اور نماز کو قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہوجاؤ ۔

زیر بحث حدیث میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے کہ نماز کا چھوڑنا کفراورشرک کی علامت ہے یعنی ایک مسلمان جو اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتا ہے اس سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ نماز جیسے فریضے کو چھوڑ دے ، لہذا اگر کوئی شخص اپنے کو مسلمان تو کہتا ہے لیکن نماز میں کوتاہی کرتا ہے ، اسے سر ے سے پڑھتا ہی نہیں ہے یا جب جی میں آیا پڑھ لیا اور جب جی نے نہ کہا چھوڑ دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دعوئے اسلام میں جھوٹا ہے ، یہی وجہ ہے کہ مشہور تابعی حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کرام نماز کے علاوہ کسی اور عمل اسلام کے ترک کو کفر نہیں سمجھتے تھے [ سنن الترمذی ] یہ اثر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں ایک مسلمان سے ترک نماز کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا ۔

اس عظیم حدیث کے علاوہ دوسری متعدد حدیثوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چھوڑنے پر دل کو دہلا دینے والی وعید سنائی ہے چنانچہ ایک حدیث میں فرمایا : اے معاذ! تم ایک وقت کی نماز کو بھی جان بوجھ کر ترک نہ کرنا کیونکہ جس نے ایک وقت کی نماز بھی جان بوجھ کر چھوڑ دی اس پر سے اللہ تعالی کی ذمہ داری ختم ہوگئی ، [ احمد ، الطبرانی ] گویا اللہ تعالی کی بندگی کا اقرار کرنے والا اور دعویدار شخص اگر دیدہ ودانستہ اور بالارادہ نماز کو چھوڑ دے رہا ہے تو وہ اپنے معبود حقیقی سے اپنا رشتہ وتعلق توڑ کر باغیانہ روش اختیار کررہا ہے لہذا اب وہ رب کریم کی عنایت کا مستحق نہیں ہے ۔

ایک اور جگہ فرمایا : جس کی ایک وقت کی بھی نماز فوت ہوگئی گویا اس کے اہل وعیال اور مال ودولت سب تباہ وبرباد ہوگئے ، [صحیح ابن حبان ] گویا کسی کلمہ گو کے اہل وعیال اور مال واسباب کا لٹ جانا اور دیوالیہ ہوجانا تواسکےنزدیک آسان چیز ہوسکتی ہے لیکن اس سے ایک نماز کا چھوٹ جانا گوارا نہیں ہوسکتا کیونکہ آل وعیال اور مال واسباب کاضیاع دنیا کا ضیاع ہے جب کہ ایک وقت کی نماز کا ضیاع آخرت کی تباہی وبربادی ہے :

[وَمَا الحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الآَخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ] {الرعد:26} حالانکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں نہایت حقیر پونجی ہے ، اس کا اندازہ اس سے بھی کیجئے کہ فرمان نبوی کے مطابق آخرت میں بے نمازی کا حشر بدترین کافروں کے اور اللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ ہوگا ، چنانچہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: جوبندہ نماز کا اہتمام کرے گا تو وہ قیامت کے دن اس کے ل ئے نور، اللہ تعالی سے وفاداری کی دلیل اور عذاب آخرت سے نجات کاسبب بنے گی جو شخص اس کی حفاظت نہ کرے گا تو نہ اس کے واسطے نور بنے گی اور اور نہ ہی نجات کی دلیل بنے گی اور وہ شخص قارون ، فرعون ، ہامان اور ابی بن خلف [جیسے کافروں ] کے ساتھ ہوگا ۔ { احمد ، الدارمی }

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں تارک نماز کا عالم برزخ میں یہ انجام دکھایا گیا کہ آپ کا گزرایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو لیٹا ہوا تھا ، اور اس کے ساتھی ہی ایک دوسرا شخص اس کے اوپر پتھر لئے کھڑا تھا ، وہ پتھر اس کے سرپر مارتا ہے اور اس کے سر کوپاش پاش کردیتا ہے، پس وہ پتھر وہاں سے لڑھک کر دور جاگرتا ہے تو وہ پتھر کے پیچھے جاتا ہے اور اسے پکڑ کرلاتا ہے ، اس کے دوبارہ واپس آنے تک اس کا سر پہلے کی طرح صحیح ہوجاتا ہے وہ پھر اس کی طرف لوٹتا ہے اور وہی کچھ کرتا ہے جو اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس کا ماجراکیا ہے ؟ فرشتے نے جواب دیا : جس کا سر پتھر سے کچلا جارہا تھا وہ شخص ہے جو قرآن حاصل کرکے چھوڑدیتا تھا اورفرض نماز پڑھے بغیر سویا رہتا تھا ۔ [ صحیح بخاری ]

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?