مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

نماز کی فضیلت / درس نمبر :12
1200 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:12

عبادات :03

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 13 رمضان المبارک 1430ھ، م 03ستمبر 2009

نماز کی فضیلت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهَا الْخَطَايَا ‏"‏‏.‏

( صحيح بخاري :528 ، مواقيت الصلاة – صحيح مسلم :667 ، المساجد )

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرمارہے تھے : اگر کسی شخص کے دروازے پر دریا بہہ رہا ہو اور روزانہ اس میں پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے کہ اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی رہ سکتا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : نہیں یا رسول اللہ ! اس کے بدن پر کوئی میل باقی نہ رہے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہی حال پانچوں وقت کی نمازوں کا ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔

[ صحیح بخاری وصحیح مسلم ]

تشریح : نماز : "اسلام کی عبادت کا پہلا رکن ہے جو امیر وغریب ، بوڑھے جوان ، عورت مرد ، بیمار وتندرست ، سب پریکساں فرض ہے ، یہی وہ عبادت ہے جو کسی شخص سے کسی حال میں بھی ساقط نہیں ہوتی ، اگر اس فرض کو کھڑے ہوکر نہیں ادا کرسکتے تو بیٹھ کر ادا کریں ، اگر اس کی بھی قدرت نہیں ہے تو لیٹ کر پڑھیں اگر منہ سے نہیں بول سکتے تو اشاروں سے کام لیں اگر رک کر نہیں پڑھ سکتے تو چلتے ہوئے پڑھیں ، اگر سواری پر ہیں تو جس طرف وہ چلے اسی رخ پڑھیں "

یہی وہ فریضہ ہے جو کلمہ شہادت کےاقرار کے بعد سب سے پہلا مقام رکھتا ہے ، اس فریضہ کی ادائیگی میں سستی کو نفاق کی علامت اور اس کے ترک کو کفر کی نشانی بتایا گیا ہے ، یہی وہ فریضہ ہے جو شب معراج کوساتویں آسمان پر فرض کیا گیا ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک اس فریضے کی ادائیگی میں تھی ، نماز آپ کے دل کی روشنی تھی اور کوئی مشکل وقت آتا تو آپ نماز کا سہارا لیتے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں جس قدر اہمیت اس فریضے کو دیتے اور ترغیب کے لئے جتنے فضائل اس فریضے کے بیان کرتے توحید کے علاوہ کسی اور فریضے کو وہ اہمیت نہ دیتے اور اس کے اس قدر فضائل بیان فرماتے ، چنانچہ :

1. دین کی بنیاد پانچ ستون پر ہے : شہادتین کا اقرار ، نماز قائم کرنا ،، الحدیث [بخاری ومسلم ] یعنی جس طرح ستون گرجانے سے عمارت گرجاتی ہے اسی طرح نماز کے ترک سے دین نما عمارت بھی گرجاتی ہے ۔

2. نمازگناہوں کا کفارہ ہے :جیساکہ زیر بحث حدیث میں ہے کہ اگر کسی شخص کے دروازے پر ایک ایسی نہر بہہ رہی ہو جو پانی سے بھری ہو اور اس کا پانی بالکل صاف وشفاف ہو اور وہ شخص اس نہر میں پانچ بار غسل کرے تو اس کے جسم پر میل کچیل کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا اسی طرح جو شخص پانچ وقت کی نماز اس کے شروط و ارکان کو ملحوظ رکھ کر پڑھتا ہے ، اس کے جسم پر بھی کوئی گناہ باقی نہ رہے گا ۔

3. محشر میں سب سے پہلا حساب نماز کا : قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیاجائے گا ، اگر نماز کا معاملہ درست رہا تو دوسرے اعمال خیر بھی بارگاہ الہی میں مقبول ٹھہریں گے ورنہ انہیں بھی رد کردیا جائے گا اور اس شخص کو خسارے اور نقصان کا منہ دیکھنا پڑے گا ۔

[ الطبرانی الاوسط ] ۔

4. سب سے افضل عمل : ایک صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے بہترکام سے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : نماز ، یہی سوال اس نے تین بار کیا ، آپ ہر بار یہی جواب دیتے رہے ، اور آپ نے فرمایا : جان لوکہ تمہارا سب سے بہتر عمل نماز ہے ۔

[ مسند احمد ، الطبرانی الاوسط ] ۔

5. کوئی چھوٹ نہیں: طائف کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتا ہے اور نماز نہ پڑھنے کی اجازت چاہتا ہے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس پیش کش کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ جس دین میں نماز نہ ہو اس میں کوئی خیر نہیں ہے ، حالانکہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکاۃ دینے وغیرہ میں چھوٹ دے دی تھی ۔ [ سیرت ابن ہشام ] ۔

6. اللہ کی حفاظت : جو شخص فجر کی نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ تعالی کی امان میں ہوتا ہے پس اے انسان!تو ذرا دیکھ اللہ تعالی تجھ سے اپنی امان کی بابت کسی قسم کی باز پرس نہ کرے ۔ [ مسلم ]

7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت : وفات سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات یہ تھی کہ نماز کا اہتمام کرنا ، نماز کا اہتمام کرنا اور اپنے غلاموں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا ۔ [ سنن ابوداود] ۔

دینی بھائیو ! جو فریضہ اس اہمیت کا حامل اور ان فضائل کا جامع ہو اس میں کوتاہی کرنا بہت بڑی محرومی اور گھاٹے کا سودا ہے ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?