مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

سنت اور بدعت / درس نمبر : 11
1175 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:11

عقائد:09

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 12 رمضان المبارک 1430ھ، م 02ستمبر 2009

سنت اور بدعت

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا جس میں بڑا بلیغ وعظ فرمایا ، وہ وعظ ایسا تھا کہ اس سے ہماری آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور ہمارے دل دہل گئے ،یہ دیکھ کر ہم میں سے ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ کوئی الوداعی وعظ ہے ، اس لئے آپ ہمیں کوئی وصیت کردیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

" أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلاَفًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ ‏"‏ ‏.‏

[ سنن ابوداود :40، السنۃ – سنن ابن ماجہ :42، المقدمہ ، مسند احمد:4/126 ]

میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقوی اختیار کرو ، اپنے حاکم کی بات سنو اور مانو ، خواہ و ہ کوئی حبشی غلام ہی ہو ، کیونکہ میرے بعد جو زندہ رہے گا وہ بڑے اختلافات دیکھے گا ، اس لئے تم لوگ میری سنت کو لازم پکڑو اور میرے بعد ہدایت پر قائم خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو ، اسی سنت پر جم جاؤ اور مضبوطی سے تھام لو اور دین میں نت نئے کاموں سے بچتے رہو کیونکہ دین میں ہر نئی ایجاد شدہ چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔

تشریح : آج مسلمان سخت باہمی انتشار کے شکار ہیں ، ہر ملک ، ہر صوبہ ، ہر شہر بلکہ ہر گاؤں اور محلے کے لوگ مختلف جماعتوں اور ٹولیوں میں بٹے ہوئے ہیں مسلمانوں کا خواہ کوئی طبقہ ہو حکام کا ہو یا رعیت کا ، علماء کا ہو یا عوام کا ، عرب کے لوگ ہوں یا عجم کے سبھی لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اتفاق کا نعرہ سبھی لوگ بلند کررہے ہیں ، باہمی اتحاد کی بول سبھی بول رہے ہیں لیکن عملی طور پر اس کی کوشش نہ ہونے کے درجے میں ہے ، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختلاف وافتراق سے بچنے کا جو طریقہ بتلایا ہے اسے کوئی بھی اپنا نہیں رہا ہے ، اگر کچھ لوگ صحیح نہج پر اصلاح کی کوشش کرتے بھی ہیں تو ان کی مثال نقارخانے مین طوطی کی آواز کی ہے ، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو اس خرابی سے متنبہ کیا اور اس کا صحیح علاج بتلادیا تھا چنانچہ عہد نبوی کے سب سے بڑے مجمعے حجۃ الوداع کے موقعہ پر عام مجمعہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو! شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ تمہاری اس سرزمین میں اس کی عبادت کی جائے البتہ تمہارے ان کاموں میں اپنی اطاعت سے مایوس نہیں ہوا جنہیں تم حقیر سمجھوگے یعنی باہمی اختلاف سے ، اس لئے اے لوگو! ہوشیار رہنا، میں تمہارےدرمیان وہ چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں کہ اگر انہیں مضبوطی سے تھامے رہے تو کبھی بھی گمراہ نہ ہوگے ، اللہ کی کتاب اس کے نبی کی سنت

[ مستدرک الحاکم بروایت ابن عباس ]

معلوم یہ ہوا کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف کے پیچھے شیطان اور شیطان کے چیلوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ، اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے کتاب الہی اور سنت نبوی کی پیروی اس کا کامیاب حل ہے ۔

زیر بحث حدیث میں بھی یہی بات ایک دوسرے پیرائے میں بیان ہوئی ہے کہ باہمی اختلاف اور فتنہ وفساد کے موقعہ پر امت کو چاہئے کہ سنت رسول کی پیروی کرے ،خلفاء راشدین جو فی الواقع سنت نبوی کے پیروکار اور اس کے داعی تھے ان کے طریقے کو اپنائے اور مزید یہ کہ دین میں کسی بھی ایسے کام سے بچتی رہے جس پر قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین کے عمل سے دلیل نہیں ہے ۔

نیز اس حدیث سے ایک بڑی اہم بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ہر بدعت گمراہی اور اختلاف کا دروازہ کھولتی ہے ، اس کے ذریعہ کسی اصلاح کی امید نہیں کی جاسکتی لہذا امت کوچاہئے کہ کسی بھی معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور خلفائے راشدین کے تعامل سے تجاوز نہ کرے، کثرت اختلاف میں حق کو پہچاننے کی یہ ایک کسوٹی اور معیار ہے ، اس کسوٹی کا استعمال نہ کیا گیا اور اس معیار پر اپنے کاموں کا نہ پرکھا گیا تو اختلافات کا حل ممکن نہیں ہے ۔

فائدہ :

1. خلفائے راشدین سے مراد حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں جن کا زمانہ وفات نبوی سے سن40 ھ تک ہے ۔

2. سنت : ہروہ دینی کام جس کی مشروعیت پر قرآن وحدیث سے دلیل موجود ہو ۔

3. بدعت : ہر وہ کام جسے نیکی اور ذریعہ تقرب سمجھ کر کیا جائے درآں حالیکہ اس پر قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین کے تعامل سے کوئی دلیل موجود نہ ہو ۔

4. دنیاوی ایجادات یا وہ کام جو کسی دینی کام کا ذریعہ ہو، اسے بدعت نہیں کہتے ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?