مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

قَسم کی قِسمیں / درس نمبر :10
1625 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:10

عقائد:08

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 11 رمضان المبارک 1430ھ، م 01ستمبر 2009

قَسم کی قِسمیں

ترجمہ : حضرت سعد بن عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو سنا کہ وہ کعبہ کی قسم کھا رہا تھا تو اس سے کہا: غیراللہ کی قسم مت کھا ، اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : "من حلف بغیر اللہ فقد کفر أو أشرک " جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر یا شرک کیا ۔

{ سنن الترمذی : 1535 ، النذور – صحیح ابن حبان :4343 ، 6/385 }

تشریح : ہم میں سے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا مخاطب اس کے بات کی تصدیق کرے اور اس کو حق مانے اسی لئے ہم اپنی بات کو حق ثابت کرنے اور مخاطب کے ذہن سے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لئے قسم کھاتے ہیں ، جس کی صورت یہ ہوتی ہے ، انسان اپنے اور مخاطب کے نزدیک کسی عظیم یا محبوب شخصیت یا نہایت ہی اہم چیز کا نام لے کر حلف دیتے ہیں ، قسم کھانے اور حلف دینے کا ایک سادہ مفہوم تو یہ ہوتا ہے کہ قسم کھانے والا اپنی تائید میں بطور گواہ کے اس شخصیت یا اس چیز کو پیش کررہا ہے جس کا نام قسم کھاتے وقت لے رہا ہے ، یہ ایسی چیز ہے جو ہر ماحول اور ہر قوم میں پائی جاتی ہے ، شریعت نے انسان کی اس ضرورت اور اس کے اس جذبہ کا پاس لحاظ رکھا ہے البتہ اس بارے میں انسان کو بالکل آزاد نہیں چھوڑا بلکہ اس کے لئے کچھ حدود و قیود رکھے ہیں جن کا پاس و لحاظ ضروری ہے ، جیسے :

[۱] قسم کی حفاظت : اللہ تعالی قسم کے احکام بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ " واحفظوا أیمانکم " اور تم لوگ اپنی قسموں کی حفاظت کرو ، گویا قسم کھانے والے کے لئے سب سے پہلی قید یہ ہے کہ وہ اپنی قسموں کی حفاظت کرے ۔

علماء کہتےہیں کہ قسم کی حفاظت میں چار چیزیں داخل ہیں :

{أ} قسم وقت ضرورت ہی کھائے ، یعنی بات بات پر بغیر کسی خاص ضرورت کے قسم نہ کھاتا رہے ، کیونکہ ہر چھوٹی بڑی بات پر اور ہر وقت قسم کھانا اس بات کی دلیل ہےکہ جس ذات کی قسم کھائی جارہی ہے اس کی اہمیت قسم کھانے والے کے نزدیک نہیں ہے ، ارشاد نبوی ہے : تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی نہ بات کرے گا ، نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے : [۱] بوڑھا زانی [۲] گھمنڈی فقیر [۳] وہ شخص جس نے اللہ تعالی کو اپنا سودا بنالیا ہے بغیر اس کانام لئے نہ خریدتا اور نہ بیچتا ہے ۔ { الطبرانی الکبیر و الصغیر بروایت سلمان }

{ ب } قسم صرف اللہ تعالی کی کھائے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : اللہ تعالی تمہیں اس بات سے منع فرماتا ہے کہ تم اپنے باپ دادوں کی قسم کھاؤ پس جس شخص نے قسم کھانی ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی قسم کھائے یا خاموش رہے [ صحیح بخاری وصحیح مسلم ، بروایت ابن عمر ]

{ج } اپنی قسم کو پوری کرے بشرطیکہ جائز کام کے لئےاور جائز چیز کی قسم کھائی گئی ہو ، اگر کسی ناجائز کام پر قسم کھاتا ہے تو اسے پورا کرنا ضروری نہ ہوگا بلکہ بسا اوقات قسم کا پورا کرنا حرام ہوگا جیسے کوئی شخص قطع رحمی یا گناہ کا کام کرنے کی قسم کھائے ۔

{د } پھر اگر کسی مصلحت کے پیش نظر قسم کوپورا نہیں کررہا ہے تو اس کا کفارہ ادا کرے ، ارشاد نبوی ہے : جب تو کسی بات پر قسم کھالے پھر دیکھے کہ اس کا پورا نہ کرنا ہی بہتر ہے تو جو کام بہتر ہو وہ کرو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔

قسم کا کفارہ : uدس مسکینوں کو کھانا کھلاناv کپڑے پہنانا wیا ایک غلام آزاد کرنا ہے ، اور اگر ان تینوں میں سے کوئی ایک کام بھی نہ کرسکے تو xتین دن کا روزہ رکھے ۔

[۲] اللہ تعالی کے ناموں اور اس کی صفتوں کی قسم کھائی جائے : شریعت نے قسم کے سلسلے میں دوسری قید یہ رکھی ہے کہ قسم صرف اللہ تعالی کے ناموں اور صفتوں کی کھائی جائے ، اس کے علاوہ کسی بھی مخلوق کی قسم کھانی جائز نہ ہوگی بلکہ شریعت نے نہ صرف اس سے منع کیا گیا بلکہ اسے کفر و شرک قرار دیا ہے ، جیساکہ زیر بحث حدیث میں اس کی صراحت ہے بلکہ ایک جگہ ارشاد نبوی ہے : ہر وہ قسم جو اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور چیز کی کھائی جائے وہ شرک ہے

[ الحاکم ، بروایت ابن عمر ] ۔

اس حدیث میں شرک کو علماء نے سختی اور شرک اصغر پر محمول کیا ہے ، لیکن اگر قسم اٹھانے والے کے دل میں غیر اللہ کی بڑی عظمت رہی کہ اس کے نزدیک اللہ تعالی کا نام لے کے جھوٹی قسم کھانا تو آسان ہو البتہ غیر اللہ کی جھوٹی قسم کھانا مشکل ہو تو وہ شخص شرک اکبر کا مرتکب ہوگا ، خواہ وہ ذات ہمارے نزدیک کوئی محبوب ذات ہو جیسے باپ اور بیٹا وغیرہ یا معظم اور مقدس جیسے پیر وبزرگ ، یا ہماری کوئی محبوب چیز ہو جیسے آنکھ ، سراور کعبہ وغیرہ ۔

[۳] قسم سچی کھائی جائے : قسم کھانے کے لئے شریعت نے تیسری اہم قید یہ رکھی ہے کہ بوقت ضرورت جو شخص اللہ کی قسم کھارہا ہے اسے چاہئے کہ سچی قسم کھائے کیونکہ قسم کھانا گویا جس کی قسم کھائی جارہی ہے اسے گواہ بنانا ہے لہذا جھوٹی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ قسم کھانے والا اللہ تعالی کو جھوٹے گواہ کے طور پر پیش کررہا ہے " نعوذ باللہ " اور یہ ذات باری تعالی کے ساتھ بہت بے ادبی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بڑے بڑے گناہ ہیں : اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا ۔ ماں باپ کی نافرمانی کرنا ناحق کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا ۔ { صحیح بخاری ، بروایت عبد اللہ بن عمرو }

فوائد :

قسم تین قسم کی ہوتی ہیں : ۱- لغو قسم ، ۲- بنیت کھائی گئی قسم [معقدہ ] ، ۳- اور گناہ کی قسم [یمین غموس ]

Ûلغو وہ قسم ہے جو انسان کی زبان سے عادۃ بغیر ارادہ ونیت کے نکلتی ہے ، اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے : "لایواخذ اللہ باللغو فی ایمانکم " اللہ تعالی تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا ۔ Ûبنیت کھائی گئی قسم وہ جو انسان اپنی بات میں تاکید اور پختگی کے لئے نیت و ارادہ سے کھاتا ہے ، ایسی قسم توڑے تو اس پر کفارہ ہے ۔ Û گناہ کی قسم : یہ وہ قسم ہے جو جھوٹی ہو اور انسان دھوکہ اور فریب دینے کےلئے کھائے ، یہ کبیرہ گناہ بلکہ بہت بڑا گناہ ہے ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?