مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

برکت اور غیر اقوام / درس نمبر : 09
1072 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:09

عقائد:07

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 10 رمضان المبارک 1430ھ، م 31اگست 2009

برکت اور غیر اقوام

ترجمہ : حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ وادی حنین کی طرف نکلے ، ہم ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے ، راستے میں مشرکین کا ایک بیری کا درخت ملا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا ، جس کے نیچے وہ تبرک حاصل کرنے کے لئے بیٹھتے تھے ، جب ہمارا گزر اس بیری کے درخت کے پاس سے ہوا تو ہم لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ جس طرح یہ مشرکوں کا " ذات انواط " ہے ہمارے لئے بھی کوئی ذات انواط متعین فرما دیجئے ، یہ سن کر آپ نے تعجب سے کہا : سبحان اللہ یہ تو پرانا طریقہ ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، تم نے بالکل وہی بات کہی جو بنواسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا تھا :

[اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آَلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ] {الأعراف:138} ہمارے لئے بھی ایک معبود ایسا مقرر کردیجئے جیسے ان کے یہ معبود ہیں ، حضرت موسی نے کہا : بلاشبہ تم لوگ جاہل ہو ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا تم اپنے سے پہلی قوموں کے طریقے پر چلوگے ۔

[ سنن الترمذی : 2180 ، الفتن – مسند احمد :5/218 – صحیح ابن حبان : 9/383 ]

تشریح : اللہ تعالی نے بعض چیزوں کو بعض چیزوں پر فضیلت بخشی اور انہیں باعث برکت قرار دیا ہے اور لوگوں کو ان سے برکت حاصل کرنے کی ترغیب بھی دی ہے جیسے قرآن باعث برکت ہے رمضان باعث برکت ہے ، مسجدیں باعث برکت ہیں ، اللہ کے اولیاء باعث برکت ہیں اور نماز و روزہ باعث برکت ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

البتہ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ کہ کسی چیز کامبارک اور باعث برکت ہونا یہ ایک خالص شرعی چیز ہے ، اس معنی میں کہ کسی انسان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی ایسی چیز کو مبارک سمجھے اور اس سے تبرک حاصل کرے جسے اللہ تعالی نے مبارک نہیں ٹھہرایا ہے لہذا ہم اپنی طرف سے کسی ایسے شہر کو مبارک اور شریف نہیں کہہ سکتے ہیں جسے اللہ تعالی نے مبارک ہونے کی سند عطا نہیں کی ہے ، نہ کسی ایسے پانی کو مبارک ہونے کا نام دے سکتے ہیں جسے اللہ تعالی نے مبارک نہیں ٹھہرایا ہے کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے :

[وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ] {القصص:68} اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے ، ان میں سے کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔

دوسری بات یہ ذہین نشین رہے کہ جن چیزوں کو اللہ تعالی نے باعث برکت قرار دیا ہے ان سے برکت حاصل کرنے کا طریقہ بھی متعین کردیا ہے جیسے زمزم کا پانی باعث برکت ہے لیکن اس سے برکت حاصل کرنے کا طریقہ اسے پینا ہے نہ کہ اس سے نہانا اور اس سے کفن تر کرنا ، قرآن کو اللہ تعالی نے باعث برکت قرار دیا ہے لیکن اس سے برکت اسے پڑھ کر ، اس پر عمل کرکے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دے کر حاصل کی جائے گی نہ کہ اسے ریشمی جزدان میں بند کرکے طاقوں میں سجاکر اور تعویذ بنا کر پہننے سے حاصل کی جائے گی ، رمضان المبارک کو اللہ تعالی نے باعث برکت قرار دیا ہے لیکن یہ برکت اس ماہ کا روزہ رکھ کر اس میں عبادت کرکے حاصل کی جائے گی نہ کہ کسی اور ذریعہ سے وغیرہ وغیرہ ۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے ماحول میں بہت سی ایسی چیزیں مبارک تسلیم کرلی گئیں ہیں جن کے باعث برکت ہونے پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے اور برکت حاصل کرنے کے بہت سے ایسے ذرائع ایجاد ہوگئے جو شرعی طور پر جائز نہیں ہیں ، زیر بحث حدیث میں ایسے ہی ایک غلط عقیدے کی اصلاح کی گئی ہے ، ہوا یہ کہ جب بنو اسرائیل فرعون اور اس کی لشکر سے نجات پاکر سمندر پار ہوئے اور ارض مقدسہ کی طرف چلے تو راستے میں ایک ایسی قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے اور ان کی عبادت میں مشغول تھے ، ان مورتیوں کے پجاریوں کو دیکھ کر بنو اسرائیل دھوکے میں آگئے اور حقیقی توحید سے چونکہ عاری تھے اس لئے حضرت موسی علیہ السلام سے کسی بت کا مطالبہ کر بیٹھے کہ جس کی پوجا کریں ، جس پر حضرت موسی علیہ السلام نے ان کے اس عمل کو جہالت و نادانی قرار دیا ، بعینہ اسی طرح فتح مکہ کے موقعہ پر جب بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے اور توحید کا اقرار کرلیا لیکن مسائل توحید کو ابھی نہ سمجھ سکے اور نہ ہی انہیں اس کا موقعہ ملا تھا ، کیونکہ فتح مکہ کے فورا بعد وہ غزوہ حنین کے لئے نکل پڑےتھے ، چنانچہ جب وہ وادی حنین کی طرف جارہے تھے تو راستے میں ان کا گزر بیری کے ایک ایسے درخت پر سے ہوا جو مشرکین کے نزدیک باعث برکت سمجھا جاتا تھا اور وہ لوگ اس سے اپنےہتھیار وغیرہ کو لٹکا کر برکت کا عقیدہ رکھتے تھے ، جب نئے نئے مسلمانوں نے اسے دیکھا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ ان کے لئے بھی کسی درخت کو مقرر کردیا جائے جس سے اپنے ہتھیار کو لٹکا کر برکت حاصل کریں ۔

لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت نکیر کی اور ان کے اس عمل کو بنو اسرائیل کے عمل کے بعینہ مشابہ قرار دیا جس سے معلوم ہوا کہ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے باعث برکت نہیں قرار دیا ہے اس میں برکت کا عقیدہ رکھنا شرک اور اسے ایک طرح کا معبود بنا لینا ہے ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?