مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

ایمان کی شاخیں اور حیا/ درس نمبر : 08
1231 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:08

عقائد:06

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 09 رمضان المبارک 1430ھ، م 30اگست 2009

ایمان کی شاخیں اور حیا

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الاِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ اَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً فَاَفْضَلُهَا قَوْلُ لاَ اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَاَدْنَاهَا اِمَاطَةُ الاَذَى عَنِ الطَّرِيقِ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الاِيمَانِ ‏"‏

[ صحیح بخاری :9، الایمان – صحیح مسلم :35 ، الایمان ]

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان کی ستر سے اوپر یا ساٹھ سے اوپر شاخیں ہیں ، ان میں سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کہنا اور سب سے ادنی راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا نا ہے ، اور حیاء بھی ایمان کی شاخ ہے ۔

[ صحیح بخاری و صحیح مسلم ]

تشریح : ایمان کے معنی ہیں پختہ یقینی اور دل کی تصدیق کے ، اسی مناسبت سے علماء اہل سنت و جماعت ایمان کی تعریف میں کہتے ہیں کہ دل سے یقین رکھنے ، زبان سے اقرار کرنے اور اعضاء سے عمل کرنے کا نام ایمان ہے ، ان تینوں میں سے اگرکوئی چیز فوت ہوگئی تو کوئی بھی شخص مومن نہ کہلائے گا اور نہ ہی اس کا کوئی عمل اللہ تعالی کے نزدیک مقبول ہوگا ، اللہ تعالی فرماتا ہے کہ :

[وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلَّا مَنْ آَمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الغُرُفَاتِ آَمِنُونَ] {سبأ:37}

اور تمہارے مال اور اولاد ایسے نہیں ہیں کہ تمہیں ہمارے پاس مرتبوں سے قریب کردیں ، ہاں !جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے اعمال کا دہرا اجر ہے اور وہ نڈر اور بے خوف ہوکر بالا خانوں میں رہیں گے ۔

یعنی کوئی خواہ کتنا ہی مالدار ہو ، اسے کتنی ہی خوبصورت اولاد حاصل ہو ، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالی کے نزدیک اونچے مقام پر فائز ہے اور اسے آخرت میں جنت کی نعمت ملنے والی ہے ، بلکہ اللہ کی محبت ، اس کا قرب اور جنت کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ بندہ ایمان اور عمل صالح سے متصف ہو ۔

زیر بحث حدیث میں اسی فائدہ کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی خاندانی لقب ہے بلکہ حقیقی ایمان جو بندے کو اللہ تعالی کے محبوب لوگوں میں شامل کرنے والا ہے وہ اس کے کچھ ارکان و لوازمات ہیں جن میں سے سب سے اہم اپنے خالق ومالک اور رازق و منعم کو پہچاننا ہے ، اس بات کی اقرار و تصدیق ہے کہ وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے ،

چنانچہ فرمایا کہ ان میں سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کا اقرار ہے ، کیونکہ اس کے بغیر تمام شاخیں بے کا ر اور بے فائدہ ہیں ، ان شاخوں میں سب سے ادنی درجے کی شاخ یا بطور عمل کے سب سے آسان درجے کی شاخ میں ایسی چیز کو مسلمانوں کے راستے سے دور کردینا ہے جو ان کے لئے تکلیف کا سبب بن سکتی ہو ، ان دونوں شاخوں کے درمیان ایمان میں متعدد شاخیں ہیں جن کی تعداد ستر سے زائد ہے جیسے : اللہ اور اس کے رسول سے محبت ، آدمی کا اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند کرنا جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔

اس حدیث میں ایمان کی جن شاخوں کا ذکر ہے ان میں سے بعض شاخیں اصول و بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں کہ ان کے بغیر ایک بندہ مومن رہ ہی نہیں سکتا جیسے فرشتوں پر ایمان ، رسولوں پر ایمان ، کتابوں پر ایمان ، اچھی بری تقدیر پر ایمان اور آخرت کے دن پر ایمان ، اس دوسری حدیث میں انہیں ایمان کا رکن کہا گیا ہے ، اسی طرح نماز ، روزہ ، زکاۃ و حج کی فرضیت پر ایمان ، وغیرہ جنہیں اسلام کے رکن کا نام دیا گیا ہے ، اور بعض شاخیں فرع کی حیثیت رکھتی ہیں کہ ان کے چھوڑ دینے سے بندہ مومن تو رہتا ہے لیکن کامل الایمان نہیں رہتا جیسے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی وغیرہ ، لیکن واضح رہے کہ ان تمام چیزوں کے بارے میں بھی یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ یہ ایمان کی شاخیں ہیں اگرچہ ان کے مطابق عمل میں کوتاہ رہے ۔

ایمان کی متعدد شاخوں میں سے " حیا " کو خصوصی طور پر اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ " حیا " انسان کے اندر اس جذبے کا نام ہے جو اسے فواحش ومنکرات اور کسی بھی صاحب حق کے حقوق کی ادائیگی میں تقصیر سے روکتی ہے ۔

لہذا جو شخص ایمان کی شاخ "حیا" کا اہتمام کرلے گا وہ بہت سی برائیوں سے بچے گا اور اور ایمان کی دیگر شاخوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا ، اس لئے کہ جو شخص اللہ تعالی کے بے شمار نعمتوں کو دیکھے گا اور اس کے لا تعداد اکرام و احسان کی طرف نظر اٹھائے گا تو اسے شرم آئے گی کہ اللہ کے احکام بجالانے میں کوتاہی کرے ، یہی وجہ ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ! مجھے کوئی وصیت کیجئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تیرے لئے میری وصیت یہی ہے کہ تو اللہ تعالی سے ویسا ہی شرم کر جیسا اپنے خاندان کے کسی نیک آدمی سے شرم کرتا ہے ۔ { الصحیحہ :741 }

دعائے قنوت

‏"‏ اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ * وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ * وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ *

وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ * وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ * إِنَّكَ تَقْضِي وَلاَ يُقْضَى عَلَيْكَ * وَإِنَّهُ لاَ يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ * وَلاَ يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ * تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ ‏"‏ ‏.‏

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?