مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

صرف دنیا کے لئے / درس نمبر : 07
1038 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:07

عقائد:05

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 08 رمضان المبارک 1430ھ، م 29اگست 2009

صرف دنیا کے لئے

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ وَالْقَطِيفَةِ وَالْخَمِيصَةِ، اِنْ اُعْطِيَ رَضِيَ، وَاِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ ‏"‏‏.‏

[ صحیح بخاری : 2886 ، الجہاد – سنن ابن ماجہ :4135 – صحیح ابن حبان :5/162 }

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دینار ودرہم اور شال و دوشالے کا بندہ وپجاری ہلاک ہو کہ جب اسے یہ چیزیں دی جائیں تو وہ راضی اور جب نہ دی جائیں تو ناراض ہوتا ہے ۔ [ صحیح بخاری ، سنن ابن ماجہ ، صحیح ابن حبان ]

تشریح : اللہ تعالی نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور دنیا کی باقی چیزیں عبادت کے معاملہ کو آسان اور اس پر مدد حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں ، لہذا ہر جن وانس سے مطالبہ ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت کو اولین درجہ دے اور باقی دوسری چیزیں ثانوی درجے میں رکھی جائیں ، اب اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی عبادت تو نہیں بجا لاتا اور اپنی ساری کوشش دنیا اور متاع دنیا حاصل کرنے کےلئے صرف کرتا ہے تو گویا وہ شخص ایک گونہ شرک میں مبتلا ہے اوراپنی پیدائش کا اصل مقصد چھوڑچکا ہے ، ایسے ہی لوگوں سے متعلق اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

[مَنْ كَانَ يُرِيدُ الحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ(15) أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآَخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(16) ]. {هود}.

جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال کا بدلہ یہیں بھرپور پہنچادیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی ، ہاں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں ، اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کے اعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں ۔

ایک موقعہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا : اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اے آدم کے بیٹے میری عبادت کے لئے وقت نکال اور کوشش کر میں تیرے سینے کو مالداری سے بھردوں گا اور تیری محتاجی کو دور کردوں گا ، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے سینے کو کاموں سے بھردوں گا اور تیری محتاجی کو دور نہ کروں گا [ سنن الترمذی و ابن ماجہ ] ۔

زیر بحث حدیث میں ایسے ہی لوگ جن کی زندگی کا اصل مقصد دنیا ہے ، جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی اوقات کو دنیا حاصل کرنے کے لئے مسخر کردیا ہے ، ان کی ساری کوشش دنیا اور متاع دنیا حاصل کرنے میں صرف ہو رہی ہے ،

وہ کھاتے ہیں تو دنیا کے لئے ، کماتے ہیں تو دنیا کے لئے بلکہ ان کا سونا جاگنا اور مرنا جینا صرف دنیا کے لئے ہے انہیں مال و دولت حاصل ہوتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اگر ان کا دنیاوی نقصان ہوتا ہے تو ناراض اور تقسیمِ الہی پر اعتراض کرنے لگتے ہیں ، وہ دینار و درہم اور دنیوی متاع کے حصول کو ترجیح دیتے اور شب وروز انہی میں مگن رہتے ہیں ایسے لوگوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کررہے ہیں کہ وہ ہلاک وبرباد ہوئے کیونکہ وہ اللہ کی عبادت کے بجائے مال و اسباب کی بندگی کررہے ہیں ، ایسے لوگوں کو حصول دنیا کے لئے قانون الہی کے تحت جو کچھ ان کی تقدیر میں ہے مل تو جاتا ہے البتہ آخرت میں ان کا حصہ غضبِ الہی اور جہنم کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے :

[مَنْ كَانَ يُرِيدُ العَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا] {الإسراء:18}

جو شخص دنیا چاہتا ہے تو ہم جس شخص کو اور جتنا چاہیں دنیا میں ہی دیتے ہیں پھر ہم جہنم اس کے مقدر کردی ہے جس میں بدحال اور دھتکارا ہوا داخل ہوگا ۔

فرمانِ الہی بالکل واضح ہے کہ جو شخص دنیا ہی کا ہورہے ، اس کی ساری تگ و دو مال و دولت اور دنیاوی ساز وسامان جمع کرنے کے لئے ہو ، وہ جو کام بھی کرے دنیا اور مال و متاع حاصل کرنے کے لئے تو ایسے شخص کو دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی اللہ تعالی کو منظور ہوگی ، اس سے بڑھ کر نہیں ، پھر چونکہ ایسا شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا لہذا دنیا کمانے کے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کررہا ہے اس کے نزدیک جائز طریقہ اور ناجائز طریقہ میں کوئی امتیاز نہیں ہے اس لئے آخرت میں اسے دوزخ کی سزا بھگتنی پڑے گی ۔

حالانکہ اگر اسے سمجھ ہوتی ، وہ اللہ کا حقیقی بندہ ہوتا اور مال و دولت کی غلامی کا طوق اپنی گردن میں نہ ڈالے ہوتا تو وہ اس فرمان نبوی پر ایمان رکھتا کہ " جس کی نیت آخرت حاصل کرنے کی رہی تو اللہ تعالی اس کے دل کو مال داری سے بھر دے گا ، اس کے تمام معاملات کو درست کردے گا ، اور دنیا ذلیل ہوکر اس کے سامنے آکھڑی ہوگی ، اور جس کی نیت دنیا رہی تو اللہ تعالی فقر و محتاجی اس کی نظروں کے سامنے کردے گا اس کے معاملات الجھنوں کے شکار رہیں گے اور اسے دنیا اتنی ہی ملے گی جتنا اس کے مقدر میں ہوگی ۔ [ سنن الترمذی ]

وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا

Vla tjAlI dunya Akbr hiMmna vla mblag> :limna

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?