مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

ریاکاری شرک ہے / درس نمبر : 06
1434 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:06

عقائد:04

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 06 رمضان المبارک 1430ھ، م 27اگست 2009

ریاکاری شرک ہے

عن محمود بن لبيد رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((إن أخوف ما أخاف عليكم الشرك الأصغر))، قالوا: وما الشرك الأصغر يا رسول الله؟ قال: ((الرياء، يقول الله عز وجل لهم يوم القيامة إذا جزى الناس بأعمالهم: اذهبوا إلى الذين كنتم تراؤون في الدنيا، فانظروا هل تجدون عندهم جزاء .

( مسند أحمد :5/428 – شرح السنة :4135 – الطبراني الكبير : 4301 )

ترجمہ : حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خوف شرک اصغر کا ہے ، لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! شرک اصغر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دکھلاوا ، جب قیامت کے دن لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جارہا ہوگا تو ایسے لوگوں سے اللہ تعالی فرمائے گا : دنیا میں جن کو دکھانے کے لئے عمل کرتے تھے انہیں کے پاس جاؤ پھر دیکھو کیا ان کے پاس کچھ بدلہ ملنے والا ہے ۔ [ مسند احمد ، شرح السنہ ، الطبرانی ]

تشریح : کوئی بھی انسان دنیا میں دو قسم کے کام انجام دیتا ہے ایک قسم کے عمل وہ ہیں جن کا تعلق عادات اور دنیاوی کاموں سے ہے دوسرے عمل وہ ہیں جو عبادت سے تعلق رکھتے ہیں ، جیسے کھانا ، پینا ، تجارت کرنا ، لوگوں سے میل جول رکھنا یہ سارے کام عادات کے قبیل سے ہیں اور نماز پڑھنا ، روزہ رکھنا ، صدقہ وخیرات کرنا ، دینی مجلس میں حاضر ہونا اور دعوت و تبلیغ کرنا یہ سارے کام عبادت کہلاتے ہیں ،

پہلی قسم سے متعلق اگر انسان کی نیت دنیاوی مفاد کی ہے یا کوئی دنیاوی مصلحت ہے تو اس عمل پر وہ کسی ثواب و اجر کا مستحق نہیں ہے البتہ اس عمل پر اسے کوئی گناہ اور اللہ تعالی کے یہاں کوئی پکڑ نہیں ہے ، لیکن اگر یہی دنیاوی کام کوئی شخص ثواب و اجر کی نیت سے کرتا ہے یعنی کھاتا اس لئے ہے کہ وہ زندہ رہے اور اس سے قوت حاصل ہو تا کہ اللہ تعالی کی عبادت بجالا سکے تو اس پر ثواب و اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے ، ایک شخص لوگوں سے اچھے اخلاق سے اس لئے پیش آتا ہے کہ یہ عمل اللہ تعالی کو بہت پسند ہے تو اللہ تعالی اسے بہت بڑے اجر سے نوازتا ہے ۔

دوسری قسم سے متعلق یہ ضروری ہے کہ بندہ وہ اعمال صرف اور صرف اللہ تعالی کو راضی کرنے اور احکام کی بجا آوری کے جذبے سے کرے ، اب اگر یہ جذبہ شامل نہ رہا بلکہ اس کا مقصد کوئی دنیا وی مفاد رہا یا معاشرے میں اپنا وقار بنانا مقصود رہا تو ایسا عمل اللہ تعالی کے نزدیک نہ صرف غیر مقبول ہوگا بلکہ وہ شخص ایک گونہ شرک کا مرتکب ٹھہرے گا کیونکہ اس کی نیت خالص اللہ کی رضا کے لئے نہ رہی بلکہ اس میں اس نے غیر اللہ کو شریک ٹھہرایا ، ایسے ہی لوگوں سے متعلق حدیث قدسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : میں دو شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں لہذا جوکوئی ایسا عمل کرے جس میں وہ میرے علاوہ کسی اور کو بھی شریک کرے تو میں اس کو اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں [ صحیح مسلم ]

زیر بحث حدیث میں بھی اسی غلطی پر متنبہ کیا گیا ہے کہ لوگوں کو دکھلاوے کے لئے کوئی کام کرنا تاکہ اس کے ذریعے سے دنیاوی مفاد حاصل کرے یا لوگوں کی نظروں میں متقی اور پارسا کہلائے ، یہ ایسا عمل ہے جو اللہ تعالی کو قطعا پسند نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ :

[فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا] {الكهف:110}

تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے

چنانچہ ہر وہ عمل جس کا مقصد رضائے الہی کی طلب ہے اگر وہ عمل لوگوں کو دکھلانے کے لئے یا کسی دنیاوی مقصد کے حصول کے لئے انجام دیا گیا تو وہ بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ، ریا کاری کی وجہ سے ردکر دیا جائے گا اور ثواب کے بدلے وہ عامل کے لئے عذاب کا سبب بنے گا ۔

اس حدیث میں ریا ء ونمود [ دکھلاوے ] کو شرک سے تعبیر کرکے اس کی شناعت و قباحت کو واضح کیا گیا ہے تا ہم یہ شرک اصغر ہے جس کے مرتکب پر دائمی طور پر جنت حرام نہیں ہوتی بلکہ اپنے جرم کی سزا بھگت کر بالآخر وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ واللہ اعلم

زیر بحث حدیث میں ایک بڑا اہم یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے شرک میں مبتلا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جو دنیا کی سب سے زیادہ مخلص ، سب سے افضل اور سب سے زیادہ اللہ کو چاہنے والی جماعت تھے ، تو سوال یہ ہے کہ ہم لوگوں کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے ۔۔۔ ذرا غور کریں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

دعائے قنوت

‏"‏ اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ * وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ * وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ *

وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ * وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ * إِنَّكَ تَقْضِي وَلاَ يُقْضَى عَلَيْكَ * وَإِنَّهُ لاَ يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ * وَلاَ يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ * تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ ‏"‏ ‏.‏

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?