مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

اخلاص نیت / درس نمبر : 05
1154 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:05

عقائد:03

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 05 رمضان المبارک 1430ھ، م 26اگست 2009

اخلاص نیت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة َرضي الله عنه، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ ‏"‏ ‏.‏

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالی تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے ۔ [ صحیح مسلم وا بن ماجہ ]

تشریح : اللہ تعالی فرماتا ہے کہ :

[الَّذِي خَلَقَ المَوْتَ وَالحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ العَزِيزُ الغَفُورُ] {الملك:2}

جس نے موت اور حیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے اور وہ غالب اور بخشنے والا ہے ۔

علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کے نزدیک کسی کام کے اچھا ہونے کے لئے دو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے اولا یہ کہ وہ کام خلوص نیت سے کیا جائے اور ثانیا یہ کہ وہ عمل سنت کے مطابق ہو ۔

خلوص نیت سے مراد یہ ہے کہ اس عمل سے اللہ تعالی کی رضا اور اس کی خوشنودگی مقصود ہو اور عامل کے دل میں یہ جذبہ ہو کہ عمل صرف اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں کیا جارہا ہے کسی مخلوق کی رضا مندی ، اس کی قربت اور رسم ورواج کا اس میں کوئی دخل نہ ہو ، اس چیز کو علماء اخلاص اور للہیت کا نام دیتے ہیں یہ ایسی چیز ہے جس کے بغیر کسی بندے کی کوئی عبادت مقبول نہیں ہے حتی کہ تمام انبیاء علیہم السلام کو بھی اس کام حکم دیا گیا تھا :

[وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ] {البيِّنة:5}

انہیں اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اخلاص کے ساتھ یکسو ہوکر اللہ کی عبادت کریں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے ، ہر شخص کو اس کی اچھی یا بری نیت کے مطابق اچھا یا برا بدلہ ملے گا { صحیح بخاری و مسلم } ۔

ایک شخص خدمت نبوی میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے اے اللہ کے رسول اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو جہاد کرتا ہے اور اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ اسے اجر وثواب بھی ملے اور اس کا نام بھی ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی کے نزدیک کچھ بھی اجر ملنے والا نہیں ہے ، یہی سوال اس شخص نے کئی بار دہرایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار یہی جواب دیتے رہے کہ اسے کوئی اجر ملنے والا نہیں ہے ، پھر آپ نے آخر میں یہ قاعدہ بیان فرمایا : اللہ تعالی صر ف اسی عمل کو قبول کرتا ہے [ اور اسی پر اجر و جزاء دیتا ہے ] جو اخلاص کے ساتھ اس کی رضا کے لئے کیا گیا ہو ، [ سنن نسائی ]

زیر بحث حدیث میں بھی اسی امر کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی یہ نہیں دیکھتا ہے کہ انسان کا جسم کتنا خوبصورت ہے بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کا دل کتنا صاف اور اللہ تعالی کی محبت و خوف اور تعظیم وتقدیس سے کس قدر لبریز ہے ، اللہ تعالی یہ نہیں دیکھتا کہ یہ شخص کتنا مال خرچ کررہا ہے بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ شخص کس نیت سے خرچ کررہا ہے ، اس کے نزدیک اس کی اہمیت نہیں ہے کہ کونسا جسم کس قدر تندرست اور کتنا گورا ہے بلکہ اس کے نزدیک اس امر کی اہمیت ہے کہ اس نحیف و ضعیف جسم کے اندر جو دل ہے وہ رضائے الہی اور اطاعت خداوندی کا کس قدر جذبہ اپنے اندر لئے ہوئے ہے ، اللہ تبارک وتعالی یہ نہیں دیکھتا کہ یہ عمل کتنی مقدار میں کیا گیا ہے بلکہ اس کے نزدیک اہم چیز ہے کہ یہ عمل لالچ ، ریا ونمود اور دنیاوی مفاد سے کس قدر پاک ہے ۔

دوسری چیز اس حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ دل کی صفائی اور سچائی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان حسب استطاعت نیک عمل بھی کرے ، کسی انسان کا اعلی خاندان اور اس کا بہت زیادہ مالدار ہونا نجات کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ نجات کے لئے عمل صالح کا پایا جانا ضروری ہے ۔

[وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِمَّا عَمِلُوا] {الأنعام:132}

ہر ایک کے درجے اس اعمال کے مطابق ہی ہوں گے ، یعنی سچی نیت کے ساتھ ساتھ جس کے عمل جس قدر زیادہ ہوں گے اس کے درجات بھی اللہ تعالی کے نزدیک اتنے ہی اونچے و بلند ہوں گے :

[وَتِلْكَ الجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ] {الزُّخرف:72}

اور اس جنت کے وارث تم اپنے عملوں بدلے ہی ہوتے ہو ، یعنی جنت میں داخلہ بھی عمل صالح کا مرہون منت ہے ۔

خلاصہ یہ کہ اخلاص کے ساتھ ساتھ عمل صالح کی بڑی اہمیت ہے ، جس طرح بغیر اخلاص کے کوئی عمل اللہ تعالی کے نزدیک مقبول نہیں ہے اسی طرح اللہ تعالی کے یہاں نجات کے لئے صرف اخلاص ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عمل صالح ضروری ہے ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?