مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

شرک = جہنم/ درس نمبر :04
1088 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:04

عقائد:02

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 04 رمضان المبارک 1430ھ، م 25اگست 2009

شرک = جہنم

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مسعود ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ ‏‏‏.

{ صحیح بخاری :1238 ، الجنائز - صحیح مسلم : 92 ، الایمان }

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کا انتقال اس حال میں ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا تھا تو وہ جہنم میں داخل ہوا ۔ [ صحیح بخاری و صحیح مسلم ]

تشریح : اللہ تبارک وتعالی کی ذات ، اس کی الوہیت ، اس کی ربوبیت اور اس کے اسماء وصفات میں کسی کو شریک کرنے کا نام شرک ہے کیونکہ اللہ تعالی اپنے بارے میں فرماتا ہے کہ :

(1)قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَد(2) اللَّهُ الصَّمَدُ (3) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (4) وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ

آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالی ایک ہی ہے ، اللہ تعالی بے نیاز ہے ، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ ہی کوئی اس ہمسر ہے ،

یعنی اس کے مثل کوئی نہیں ہے ، نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے جو اس کے بعد اس کے ملک کی وارث بنے ، نہ ہی اس کا کوئی ساجھی ہے کہ اس کی بادشاہت میں اس کی شرکت حاصل ہو اور نہ ہی وہ کمزور ہے کہ اپنی حکومت چلانے کے لئے کسی کو اپنا حمایتی بنائے وہ اس قسم کی تمام کمزوریوں سے پاک ہے ۔ [ اسراء :111]

اس لئے یہ بہت بڑا جرم اور ناقابل معافی گناہ ہے کہ کوئی شخص اس کے ساتھ کسی مجبور بندے کو اس کا شریک ٹھہرائے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالی کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا ۔[ النساء : 48 ] ۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ کے دونوں خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اپنی امت و ذریت پر شرک سے خوف کھاتے اور اس فعل قبیح سے بچنے کی دعا کرتے تھے : وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الأَصْنَامَ [ابراہیم :35]

اے اللہ تعالی میری التجا ہے کہ مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے محفوظ رکھ ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ خطرہ شرک اصغر کا ہے ۔

[ مسند احمد:5/428 ، الطبرانی الکبیر :4301 ]

یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے تمام دروازوں کو امت پر بند کردیا ، کسی کی تعریف میں غلو ، اور کسی کی تعظیم میں حد سے تجاوز سے منع فرمایا ، رکوع و سجدہ اور طواف جیسی عبادتوں کو صرف اپنے لئے خاص رکھا کسی اور سے فریا درسی کو ایک جرم قرار دیا ، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک گوارا نہیں فرمایا کہ کوئی آپ کے بارے میں یہ کہے کہ " جیسا اللہ چاہے اور آپ چاہیں " بلکہ اسے آپ نے ایک قسم کا شرک قرار دیا ، اور ہدایت فرمائی کہ صرف یہ کہا جائے کہ جو اللہ اکیلے چاہے [ الادب المفرد ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے لئے یہ جائز نہیں رکھا کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائے بلکہ اسے بھی ایک گونہ شرک بتلایا [ سنن الترمذی ]

ایک بار کچھ بچوں نے یہ کہہ دیا کہ " ہمارے بیچ ایک نبی ہیں جو مستقبل کی خبر رکھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا روک دیا اور فرمایا کہ مستقبل کی خبر اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو نہیں ہے [ سنن الترمذی و ابن ماجہ ]

غرض یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے تمام دروازے بند کردئے اور امت کو ایک ایسی شاہراہ پر چھوڑ ا جو باکل واضح ، سیدھی اور روشن ہے جس پر چلنے والا کبھی بھی بھٹک نہیں سکتا ۔

زیر بحث حدیث سے شرک کی قباحت کا اندازہ بآسانی کیا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص نے زندگی بھر اللہ کی عبادت کی ہو ، ہر قسم کے نیک کام انجام دئے ہوں لیکن اس کی عبادت میں شرک کی آمیزش رہی اور توبہ سے قبل اس دنیا سے رخصت ہوگیا تو آخرت میں اس کی نجات نا ممکن ہے کیونکہ اللہ تعالی نے عہد کرلیا ہے کہ وہ شرک کو کبھی بھی معاف نہ کرے گا ، اس لئے ضرورت ہے کہ شرک کو سمجھا جائے اور حتی الامکان اس سے بچنے کی کوشش کی جائے ۔

اللهم إني أعوذ أن أشرك بك و أنا أعلم و استغفرك لما لا أعلم

اے اللہ جانتے ہوئے میں تیرے ساتھ شرک کریں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اگر انجانے میں ہم سے شرک ہوجائے تو اسے معاف کیجئےگا ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?