مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

فرمان الہی :روزہ میرے لئے /درس:01
1095 زائر
09/09/2009
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان: 01

عبادات : 01

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 01 رمضان المبارک 1430ھ، م 22اگست 2009

فرمان الہی :روزہ میرے لئے

عن أَبَي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَالَ اللَّهُ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ‏.‏ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ، أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ‏.‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ ‏"‏‏.‏

[صحیح البخاری : 1984، الصوم / صحیح مسلم : 1151، لصیام ]

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ، اور روزہ ڈھال ہے ، اس لئے جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہوتو اسے چاہئے کہ وہ فحش باتیں نہ کرے اور نہ شور وغل کرے ، پھر اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے لڑائی جھگڑا پر اتر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ، روزے دار کے لئے دو خوشی کے موقعے ہیں جن میں وہ خوش ہوتا ہے : جب روزہ افطار کرتا ہے تو اپنے روزہ افطار کرنے سے خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے [کے اجر کو دیکھ کر ] خوش ہوگا ۔

{بخاری ومسلم }

تشریح : روزہ کے فضائل سے متعلق یہ ایک عظیم حدیث ہے جس میں روزہ کے چار بڑے عظیم فضائل اور کچھ آداب بیان ہوئے ہیں ۔

روزہ کے فضائل :

[۱] روزے کا ثواب لا محدود ہے : بندوں کے ہر نیک عمل کا اجر اللہ تعالی نے متعین فرمادیا ہے اور بندوں کو اس کی اطلاع دے دی ہے مثلا اگر کوئی نیکی کا ارادہ کرتا ہے لیکن کسی رکاوٹ کی وجہ سے انجام نہیں دے پاتا تو اللہ تعالی اسے ایک نیکی دیتا ہے ، اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے انجام بھی دے دیتا ہے تو اسے دس گناہ اجر سے نوازتا ہے اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کے لئے مال خرچ کرتا ہے تو اسے ایک کے بدلے سات سو تک اجر سے نوازتا ہے بلکہ جس کے لئے چاہتا ہے اس پر اضافہ کردیتا ہے ، البتہ روزہ ایک ایسا نیک عمل ہے کہ اس کے اجر کی کوئی حد متعین نہیں ہے بلکہ اس کا اجر اللہ تعالی غنی کریم کی مرضی پر ہے ، اب وہ اس پر جس قدر اضافہ کرکے دینا چاہے یہ اس کی مرضی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ روزہ داروں کو ان کا اجر بے حساب ملے گا ۔

[۲] روزہ ڈھال ہے : جس طرح ایک فوجی جب میدان قتال میں اترتا ہے تو دشمن کے ہتھیار کے بچاؤ کے لئے ایک ڈھال اپنے ساتھ ضرور رکھتا ہے ، اگر کسی کے پاس ڈھال نہیں ہے تو دشمن کے وار کی زد میں آجانے کا خطرہ ہوتا ہے ، بعینہ اسی طرح روزہ جہنم کی آگ سے روزہ دار کے لئے آڑ اور بچاؤ ہے سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے : جو بندہ بھی اللہ تعالی کے راستے میں ایک دن کا روزہ رکھ لیتا ہے تو اللہ تعالی اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت کی دوری پر کردیتا ہے ۔ [ متفق علیہ بروایت ابو سعید ]

[۳] روزہ اللہ اور بندے کے درمیان رازہے : تمام اعمال خیر کو چھوڑ کر اللہ تبارک وتعالی نے روزہ کی نسبت اپنی طرف کی ہے ، حالانکہ تمام اعمال خیر مسلمان اللہ ہی کے لئے کرتا ہے ، لیکن خصوصی روزہ کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ روزہ کو دیگر تمام اعمال صالحہ پر ایک گونہ فضیلت حاصل ہے اور رب ذو الجلال سے اس کا خصوصی تعلق ہے ۔

[۴] روزہ دار کے منہ کی بو رب کے نزدیک پسندیدہ ہے : سارا دن بھوکا پیاسا رہنے سے انسان کے منہ سے ایک عجیب قسم کی ناپسندیدہ بو ظاہر ہوتی ہے جو اللہ تعالی کو اس قدر پسندیدہ ہے کہ اس کا مقابلہ کستوری کی خوشبو بھی نہیں کرسکتی ، کیونکہ یہ بو ایک ایسے عمل کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالی کی اطاعت کے سبب سے ظاہر ہورہی ہے ۔

آداب : ان کے علاوہ روزہ کے اور بھی بہت سے فضائل ہیں لیکن یہ فضائل اسی وقت حاصل ہوسکتے ہیں جب روزے خالص رضائے الہی کے لئے رکھے جائیں ، ریاء ونمود اور عادات وسماج کا اس میں کوئی دخل نہ ہو ، نیز صرف کھانے پینے اور شہوت سے رکنے ہی کا روزہ نہ ہو بلکہ روزہ دار کے اعضاء جسم زبان ، ہاتھ ، کان اور آنکھ وغیرہ بھی روزہ رکھیں ، اسے چاہئے کہ تمام لغویات اور فحش باتوں سے اجتناب کرے ، اور تمام اخلاقی خوبیوں سے آراستہ ہو ، اسی امر کو واضح کرنے کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو اسے چاہئے کہ شور وغل اور فحش باتوں سے پرہیز کرے حتی کہ اگر کوئی اس پر ظلم وتعدی سے کام بھی لے تو اسے خاموشی اختیار کرنا چاہئے ۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمارے روزوں کی حفاظت فرمائے ، ہمارے روزوں کو ہمارے لئے شفاعت کا ذریعہ بنائے ۔ ۔۔۔ آمین

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?