مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

اقراء قرآن کی پہلی آواز / قسط:2/5
3115 زائر
13/05/2009
غير معروف
حافظہ عائشہ بنت محمد خورشید ، حیدرآباد

بسم الله الرحمن الرحيم

اقراء قرآن کی پہلی آواز

قسط نمبر : 2/5

از قلم : حافظہ عائشہ بنت محمد خورشید

{ ناشر : مکتب توعیۃ الجالیات ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

پچھلی قسط کے آخری سطور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

١٠. اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہ الْعُلْمَائُ (فاطر:٢٨)

''اللہ سے ڈرنے کا سلیقہ صرف علماء ہی کوآتا ہے۔''

علم کی اہمیت حدیث میں

احادیث میں بھی علم کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا گیاہے،احادیث کی تقریبا ساری ہی کتابوں میں علم سے متعلق ابواب ہیں،مثلاصحیح بخاری میں وحی کی ابتداورایمان کے ابواب کے بعد ہی علم کا باب شروع ہوتا ہے، جس میں حافظ ابن حجر کے بقول86مرفوع حدیثیں ہیں،مسنداحمدمیں81حدیثیں ہیںاور امام ہیثمی کی''مجمع الزوائد''میں علم سے متعلق احادیث84صفحات پرپھیلی ہوی ہیں،حافظ منذری کی کتاب ''الترغیب والترہیب''میں140احادیث وارد ہیں،علم کی اہمیت سے متعلق چند احادیث ذیل میں پیش کی جارہی ہیں۔

١. حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ا نے فرمایا: طَلَبُ ا لْعِلْمِ فَرِیْضَة عَلی کُلِّ ُمسْلِمٍ(طبرائی)

''علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔''

٢. حضر معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : مَنْ یُرِدِاللّٰہُ بِہ خَیْرًایُفَقِّھُہُ فِیْ الدِّیْنِ(متفق علیہ) ''جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطافرماتا ہے۔''

٣. حضرت ابوہریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مَنْ سَلَکَ طَرِیْقاً یَلْتَمِسْ فِیْہ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہ لَہُ بِہ طَرِیْقاً اِلٰی الْجَنَّةِ وَمَااجْتَمَعَ قَوْم فِیْ بِیْتِ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہُ بَیْنَھُمْ اِلاَّ نَزَلَتْ عَلَیْھِمْ السَّکِیْنَةُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَةُ وَذَکَرَھُمْ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہُ وَمَنْ بَطَأَبِہ عَمَلہُ لَمْ یَسْرَعْ بِہ نَسَبُہُ(صحیح مسلم)

''جوشخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا رستہ آسان کردیتا ہے،اور جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر قرآن مجید پڑھتے اورپڑھاتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے تسکین اترتی ہے اور اللہ کی رحمت ان پر چھاجاتی ہے،اور رحمت کے فرشتے انہیں گھیرلیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس والے فرشتوں سے ان کا تذکرہ فرماتا ہے۔''

ذراغورفرمائیے!کہ ایک مسلمان کیلئے اس سے بڑھ کر خوش نصیبی کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ علم حاصل کرنے والے کے لیے جنت کا راستہ آسان کررہا ہے اورایسے شخص کاذکراپنے پاس فرشتوں میں فرمارہا ہے،اس لیے نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: لاَحَسَدَاِلاَّفِی اثْنَتَیْنِ رَجُل آتٰہُ اللّٰہُ مَالاً فَسَلَّطَہُ عَلیٰ ھَلَکَتِہ فِی الْحَقِّ وَرَجُل آتٰہُ اللّٰہُ الْحِکْمَةَ فَھُوَ یَقْضِ بِھَاوَیُعَلِّمُھاَ

(متفق علیہ،عن ابی ھریرة)

''رشک نہیں کیا جاسکتا مگر صرف دوطرح کے لوگوں پر ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا اور اسے راہِ حق میں خرچ کرنے کی توفیق بھی دی اور دوسرا وہ شخص ہے جس کو اللہ نے حکمت اور علم دیا اور وہ اس علم کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا بھی ہے۔''

دینی علم ایک ایسی نعمت ہے جس کو مسلمان سیکھتا اور سکھاتا ہے تو اس کا ثواب نہ صرف اس کی زندگی میں ملتا ہے بلکہ اس کی موت کے بعد بھی اس کے ثواب کا سلسلہ جاری رہتا ہے،چنانچہ حضرت ابوہریرہ ص سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:اِذَامَاتَ الاِْنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ اِلاَّ مِنْ ثَلَاثٍ اِلاَّ مِنْ صَدْقَةٍ جَارِیَةٍ أَوْعِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہ أَوْوَلَدٍصَالِحٍٍ یَدْعُوْلَہُ(رواہ مسلم)

''جب انسان مرجاتا ہے تواس کے سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے ١.صدقہ جاریہ ٢. نفع بخش علم ٣.نیک اولاد جو مرنے کے بعد اس کے حق میں دعا کرتی ہو۔''

پیارے نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مومن کی ایک صفت یہ بتائی کہ مومن علم والاہوتا ہے جب کہ منافق علم والا نہیں ہوسکتا چنانچہ رسول اللہ انے فرمایا: دونیک عادتیںمنافق میں جمع نہیں ہوسکتی، ١.حسن اخلاق ٢. اور دینی فہم۔''(ترمذی)

لہٰذا ایک مسلمان کو ان دونوں عادتوں کے اپنانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس کثیر علم کو ناپسند فرمایا جو بغیر عمل کے ہو،جب کہ قلیل عمل بھی اگر علم کے ساتھ ہو تو اسے آپ انے افضل بتایا ہے۔

دوسری حدیث یہ ہے: عَنْ مِطْرَفِ بْنِ عَبْدِبْنِ اَلشَّحِیْر اَنَّہ' قَالَ: فَضْلُ الْعِلْمِ اَحَبُّ اِلیَّ مِنْ فَضْلِ الْعِبَادَةِ وَخَیْرُدِیْنِکُمْ اَلْوُرْعُ

(مستدرک علی الصحیحین للحاکم وشعب الایمان للبیھقی)

''مطرف بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس علم کی فضیلت،عبادت کی فضیلت سے بڑھ کر ہے اور دین کی سب سے اچھی شکل تقویٰ ہے۔''

ایک اورحدیث یہ ہے: عَنْ سَھْلٍ بْنِ مُعَاذٍ بْنِ اَنَسٍ عَنْ اَبِیْہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ اَنَّ النَّبِیَّا قَالَ :مَنْ عَلَّمَ عِلْماً فَلَہ' اَجْرُ مَنْ عَمِلَ لَہ' لَا یَنْقُصُ مِنْ اَجْرِ الْعَامِلِ شَْئ (رواہ ابن ماجہ،حسن لغیرہ)

''رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :اگر کوئی کسی کو تعلیم دے تو اس پر عمل کرنے والے کو جتنا اجر ملتا ہے اتنا ہی اجر سکھانے والے کوبھی ملتا ہے اوراس پر عمل کرنے والے کے اجرمیں کمی نہیں ہوگی۔''

نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عالم کی مثال چراغ سے دی ہے کہ جس طرح چراغ خود جل کر لوگوں کو روشنی دیتا ہے،اسی طرح عالم بھی اپنے آپ کو گُھلاکرلوگوں کو روشنی فراہم کرتا ہے۔''

أحادیث میں علم کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ا نے اس شخص کیلئے جہاد کاثواب بتایا ہے جو علم حاصل کرنے لیے نکلتا ہے۔''

عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلى الله عليه وسلم مَنْ خَرَجَ فِیْ طَلَبِ الْعِلْمِ فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ حَتَّی یَرْجِعَ

(رواہ الترمذی وقال حدیث حسن)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:جو شخص علم حاصل کرنے کیلئے نکلتا ہے وہ اللہ کی راہ میں ہے،یہاں تک کہ وہ لوٹ جائے۔''

چونکہ علمائ،انبیاء کے وارث ہیں اس لیے عالم شیطان کے مکر وفریب سے خوب واقف ہوتا ہے اورلوگوں کو بھی مکروفریب سے واقف کراتا ہے تاکہ لوگ شیطان کے پھندے میں نہ پھنسیں۔اس کے برعکس علم سے ناواقف عابد صرف عبادت میں مصروف رہتا ہے اور لوگوں کوبرائیوں سے روکتابھی نہیں بلکہ بعض دفعہ بے خبری میں وہ خود شیطانی جال میں پھنس جاتا ہے،اس لیے عالم کی فضیلت عابدپرزیادہ ہے۔

عَنْ اَبِی اُمَامَةَ اَلْبَاھِلِی رضی اللہ عنہ قَالَ ذُکِرَلِرَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم رَجُلَانِ اَحْدُھُمَا عَابِدوَالْآخَرُ عَالِم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلى الله عليه وسلم فَضْلُ الْعَالِمِ عَلٰی الْعَابِدِکَفَضْلِْ عَلٰی اَدْنٰکُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِا اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتُہ' وَاَھْل السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ حَتَّی النَّمْلَةُ فِی حُجْرِھَا وَحَتَّی السَّمَکُ لَیُصَلُّوْنَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَیْرِ

(رواہ الترمذی وصححہ الالبانی)

''حضرت ابو اُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے دریافت کیا گیا کہ عابدبہتر ہے یا عالم؟ تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے اَدنیٰ آدمی پر ہے ،پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:تحقیق کہ اللہ اور اس کے فرشتے آسمان وزمین والی ساری مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی بلوں میں اورمچھلیاں بھی اس شخص کے لیے دعائے خیر کرتی ہیں جو لوگوں کو نیک اور اچھی بات سکھاتا ہے۔''

سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

{ ناشر : مکتب توعیۃ الجالیات ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

   طباعة 
2 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?