مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

اقراء قرآن کی پہلی آواز / قسط:1/5
3074 زائر
04/05/2009
غير معروف
حافظہ عائشہ بنت محمد خورشید ، حیدرآباد

بسم الله الرحمن الرحيم

اقراء قرآن کی پہلی آواز

قسط نمبر : 1/5

از قلم : حافظہ عائشہ بنت محمد خورشید

{ ناشر : مکتب توعیۃ الجالیات ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

علم،نزولِ قرآن سے پہلے

اگرچہ کہ قرآن کے نزول سے پہلے دنیا کے بعض خطوں میں علوم وفنون کا نام ونشان باقی تھا مصرویونان،چین وروما اور ہندوایران میں بھی چند ایک مدارس قائم تھے، ہندوستان میں بھی TAKSHASHILAنام کی ایک یونیورسٹی قائم تھی،لیکن سب جگہ ایک بات قدرِ مشترک یہ تھی کہ تعلیم صرف اعلیٰ ذات کے افراد تک محدود تھی،اَدنیٰ ذات کے لوگوں کے لیے اس کے دروازے بالکل بند تھے۔

یونان میں ارسطو جیسا فلسفی اپنی بلند فکری کے باوجودعورتوںاورغلاموں کو علم کی مسند پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہندوستان میں مشہور ماہر قانون''منو''،شودروں(اچھوتوں) کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتا،اگر کوئی شودر مقدس کتاب''وید''کے الفاظ سننے کی کوشش کرے تو اس کے لیے یہ سزا تجویز کرتا ہے کہ اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیاجائے۔

امریکہ میں ١٨٣٤ء میں قانون پاس کیا گیا کہ کوئی شخص غلاموں (حبشیوں)کو تعلیم دیتے ہوئے یا ان کا تعلیمی تعاون کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس پر ایک سو ڈالر کا جرمانہ عائد ہوگا اور چھ ماہ سزائے بامشقت دی جائے گی۔

جب غارِ حراسے''اِقْرأ''کی آواز بلند ہوی تو اس کے ساتھ''اسلامی تعلیمی تحریک''کا آغاز ہوا اور تعلیم کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے تھے۔قرآن نے جب ''اقرأ''(پڑھو) کا حکم دیا تو اس کے مخاطب سبھی انسان تھے،مرد بھی تھے اور عورتیں بھی ، کالے بھی تھے اور گورے بھی،مالدار بھی تھے اور غریب بھی،اعلیٰ حسب ونسب والے بھی تھے اور معمولی خاندان اور قبیلوں سے تعلق رکھنے والے بھی، بچے بھی تھے اور بڑے بھی ، آزاد بھی تھے اور غلام بھی،نبی اکرم ا نے سب سے پہلا مدرسہ''دارالارقم''قائم کیا تو اس سے فائدہ اٹھانے والے ہر طبقے کے لوگ تھے۔

اسلام میں علم کی اہمیت

مذہب اسلام ایک علمی مذہب ہے، اس نے جس قدر علم پرزوردیااس قدر زور کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔انسانیت نے اپنی طویل تاریخ میں کسی اور مذہب کو اسلام کی طرح علم کو انتہائی اہمیت دیتے ہوے نہیں دیکھا،علم کی دعوت دینے،اس کا شوق دلانے، اس کی قدر ومنزلت بڑھانے، اہل علم کی عزت افزائی کرنے،علم کے آداب بیان کرنے، اس کے اثرات ونتائج واضح کرنے اور علم کی ناقدری اور اہلِ علم کی بے عزتی سے روکنے میں اسلام نے جو ہدایات دی ہیں ان کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔

علم انسان کو اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتاہے، علم ہی کی وجہ سے انسان کو سماج میں اعلیٰ مقام ملتا ہے،اس کے برعکس جاہل کو سماج میں کوئی مقام اور مرتبہ نہیں ملتا۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے علم کی اہمیت پر بہت زیادہ زوردیا ہے اورمسلمانوں کو حصولِ علم پر ابھارا ہے۔

نبی کریم ا کو نبی بنائے جاتے وقت مکّہ مکرمہ میں لکھنا پڑھنا جاننے والوں کی تعداد صرف 13تھی اور مدینہ میں11،لیکن نزول قرآن کے بعد آپ ا نے تعلیم کو اس قدر رواج دیا کہ صرف کا تبین ِوحی کی تعداد(43)تک پہنچ گئی تھی، دوسرے لکھنا پڑھنا جاننے والے اس کے علاوہ تھے،آپ ا نے تعلیم کو عام کرنے کیلئے غیر مسلموں سے بھی تعاون حاصل کیا،غزوئہ بدر کے قیدیوںمیں جو لو گ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان کا فدیہ آپ انے یہ مقرر کیا کہ وہ مسلمانوں کے دس افراد کو لکھنا پڑھنا سکھادیں۔

علم کی اہمیت قرآن مجید میں

قرآن مجید میں علم کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے اس نے علم کو جو مقام ومرتبہ دیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سب سے پہلے وحی جو رسول اکرم ا پر نازل کی گئی وہ علم ہی سے متعلق تھی ،جس میں دومرتبہ پڑھنے کا حکم اور تین دفعہ علم کا ذکر ہوا ہے اور ایک بار اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ علم حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ قلم ہے:

اِقْرَأْ بِاِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ.خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقَ.اِقْرَأْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ.عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ (اَلْعَلَق:١ـتاـ٥) ''پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا،جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، آپ پڑھتے رہے،آپ کارب بڑا کرم والاہے،جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھا یا،جس نے انسان کو وہ علم سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔''

یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ قرآن نے صرف پڑھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ ''اللہ کے نام سے پڑھنے ''کا حکم دیا ہے، یعنی علم کا رخ،بھلائی،حق اور ہدایت کی طرف کردیا،اس لیے کہ ان سب کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہی ہے، یہی وجہ تھی کہ اسلام میںعلم،دین کی آغوش میں پروان چڑھا۔

قرآن مجید میں علم اور اس کے متعلقات کا ذکرکم وبیش ساڑھے آٹھ سومرتبہ آیاہے۔صرف علم کاذکر٨٠مرتبہ آیاہے اورچارمرتبہ قلم کاذکرآیاہے،بلکہ علم وقلم کی اہمیت بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ قلم کی قسم کھائی ہے بلکہ ایک سورت کا نام ہی''قلم''رکھاہے۔علامہ سیوطی نے ابوبکرابن العربی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قرآن مجید میں(77450)علوم ہیں(الاتقان:٣٨٣)

خودنبی کریم ا کویہ دعاسکھائی گئی: وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْماً(طہٰ:١١٤)''اورکہیے اے میرے رب !میرے علم میں اضافہ فرما''۔ اس سلسلے میں امام قرطبی فرماتے ہیں کہ علم سے افضل ترین چیزکوئی نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کو حکم دیا کہ وہ علم میں زیادتی طلب فرمائیں''

(الجامع الاحکام القرآن:٤١٤)

رسول اکرم ا نبی بناکر بھیجے جانے سے پہلے عرب میں ہر قسم کی برائی پائی جاتی تھی۔کوئی برائی اور گناہ کا کام ایسا نہیں تھا جو عربوں میں نہ پایا جاتا ہو،لیکن اس کے باوجود اس دورکو قرآن نے''دورِجاہلیت''(یعنی علم سے عاری دور)کہا'یہ بتانے کے لیے کہ جہالت ایک ایسی چیز ہے جو تمام برائیوں اور گناہوں کی جڑہے اور اسے دور کرنے کا وسیلہ صرف علم ہے۔

امام ابن قیم نے اپنی کتاب''مفتاح دارالسعادة''میں ایسی تیس آیتوں کا ذکر کیا ہے جن سے علم کی فضیلت کا واضح اندازہ ہوتاہے۔ذیل میں چند آیتیں پیش کی جارہی ہیں جو علم کی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں۔

١. شَھِدَ اللّٰہُ اَ نَّہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَوَالْمَلٰئِکةُ اُوْلُوْاالْعِلْمِ قَائِماً بِالْقِسْطِ لاَاِلٰہَ اِلاَّھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ (آل عمران:١٨) ''اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور فرشتے اور سب اہل علم بھی راستی اور انصاف کے ساتھ اس پر گواہ ہیںکہ اس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی معبود نہیںہے۔''

٢. قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ(الزمر:٩)

''ان سے پوچھو کیاعلم والے اورعلم نہ رکھنے والے دونوں کبھی یکساںہوسکتے ہیں۔''

٣. وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْاالْعِلْمَ اَلَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ ھُوَالْحَقُّ(سبا:٦)

''اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ دیکھ رہے ہیں کہ جو کچھ تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے۔''

٤. فَاسْئَلُوْااَہْلَ الذِّکْرِاِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُوْنَ(النحل:٤٣)

''اگرخودتمہیں(یہ بات)معلوم نہیں تو ان لوگوں سے دریافت کرلو جو(آسمانی کتابوں کی ) سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔''

٥. یَرْفَعِ ِاللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَاُوْتُوْاالْعِلْمَ دَرَجَاتٍوَاللّٰہُ بِمَاتَعْلَمُوْنَ خَبِیْر (المجادلة:١١) ''اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے درجے بلندفرمائے گا جو ایمان لائے اور علم دیے گئے۔اوراللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔''

٦. وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھِالِلنَّاسِ وَمَایَعْقِلُھَااِلاَّالْعَالِمُوْنَ(العنکبوت:٤٣)

''اوریہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کیے دیتے ہیں مگر انہیں علم رکھنے والے ہی سمجھتے ہیں۔''

٧. وَاِذْقَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَةِ اِنِّی جَاعِل فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَةً.قَالُوْاأَتَجْعَلُ فِیْھَامَنْ یُفْسِدُ فِیْھَاوَیَسْفِکُ الدِّمَائَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّی اَعْلَمُ مَالاَتَعْلَمُوْنَ.وَعَلَّمَ آدَمَ الْاَسْمَائَ کُلَّھَاثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلٰی الْمَلَائِکَةِ فَقَالَ اَنْبِئُونِی بِاَسْمِائِ ھٰؤلاَئِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ.قَالُوْاسُبْحَانَکَ لاَعِلْمَ لَنَااِلاَّمَاعَلَّمْتَنَااِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ(البقرة:٣٠ـ٣٢)

''اور(ائے پیغمبر!اس حقیقت پر غور کروجب ایسا ہوا تھا کہ)تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا:''میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والاہوں،فرشتوں نے عرض کیا:کیا ایسی ہستی کو خلیفہ بنایا جارہا ہے جوزمین میں خرابی پھیلائے گی اور خون ریزی کرے گی؟حالانکہ ہم تیری حمد وثنا کرتے ہوئے تیری پاکی وقدوسی کا اقرار کرتے ہیں(تیری مشیت برُائی سے پاک اور تیرا کام نقصان سے منزہ ہے)اللہ نے کہا: میری نظر جس حقیقت پر ہے تمہیں اس کی خبر نہیں(پھرجب ایسا ہواکہ مشیتِ الٰہی نے جو کچھ چاہا ظہورمیں آگیا)اورآدم نے (یہاں تک معنوی ترقی کی کہ)تعلیم الٰہی سے تمام چیزوں کے نام معلوم کرلیے تو اللہ نے فرشتوں کے سامنے وہ (تمام حقائق)پیش کردیے اور فرمایا:اگرتم اپنے شبہ میں درست ہوتو بتائو ان (حقائق)کے نام کیاہیں؟فرشتوں نے عرض کیا:پروردگار!ساری پاکیاں اور بڑائیاں تیرے ہی لیے ہیں،ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں سکھلایا ہے،علم تیراعلم ہے،اور حکمت تیری حکمت''

٨. اَعُوْذُبِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجَاھِلِیْنَ(بقرة:٦٧)

''میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں(اس سے)کہ میں جاہلوں(میں)سے ہوجائوں۔''

٩. ھُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّنَ رَسُوْلًامِنْھُمْ یَتْلُوْاعَلِیْھِمْ آیَاتِہ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُبِیْنٍ(الجمعة:٢)

''وہی ہے جس نے امیوںمیںخودانہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا،جو ان پر اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے'ان کے اخلاق کا تزکیہ کرتا ہے،اور انہیں کتاب وحکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔''

١٠. اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہ الْعُلْمَائُ (فاطر:٢٨)

''اللہ سے ڈرنے کا سلیقہ صرف علماء ہی کوآتا ہے۔''

سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

{ ناشر : مکتب توعیۃ الجالیات ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?