مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

حقیقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ،قسط:8
2946 زائر
01/05/2009
غير معروف
شیخ عبد العزیز مفتی عام س،ع، مترجم :شیخ ابوکلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حقیقت محمد رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم

قسط نمبر : 8

سماحة الشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن محمد آل الشيخ

مترجم: مقصود الحسن فيضي

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

پچھلی قسط کے آخری سطور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بات جو ہم نے کہی ہے کہ سلف امت نے عید میلا النبی کا جشن نہیں منا یا اس پر مسلمانوں کے تمام علماء کا اتفاق ہے ، خواہ وہ لوگ عید میلاد النبی منانے کو جائز سمجھتے ہوں یا نا جائز کہتے ہوں۔

عید میلاد النبی کی ابتدا :

عید میلاد النبی کی ابتدا چو تھی صدی ہجری میں عبید القداح کی ان اولاد کے ہاتھوں ہوئی ہے جو اپنے کو فاطمی کہتے تھے ، یہ وہ لوگ ہیں جنکی بے دینی علماء اسلام کے نزدیک واضح ہو چکی ہے ، یہ لوگ اصل میں اسماعیلیہ نامی باطنی فرقے سے منسلک تھے جنکے اقوال وافعال بدعت وخرافات تو دور کی بات صراحۃ کفر پر مشتمل تھے لہذا یہ لوگ اس لائق نہیں ہیں کہ انکی اقتداو پیروی کی جائے ۔

دین اسلام مکمل ہو چکا ہے : پھر یہ امر بھی واضح ہے کہ اللہ تعالی نے ہمارے دین کو مکمل اور ہمارے اوپر اپنی نعمت کا اتمام کردیا ہے ، جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے : {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا } [ سُورَةُ الْمَائِدَةِ : 3 ]

آج ہم نے تمھارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا اور تمھارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا ۔

اب [دین کے مکمل ہو جانے کے بعد ] اس قسم کی میلایں ایجاد کرنا گویا اللہ تبارک وتعالی سے رہ گئی کمی کو پورا کرنا ہے اور یہ بتلانا ہے کہ دین نا مکمل رہ گیا تھا جس میں بعض چیزوں کا اضافہ کرکے بعدکی صدیوں میں کچھ لوگوں نے پورا کردیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قران کریم کے ظاہرکی تکذیب اور دانا حاکم سے رہ گئی کمی کو پورا کرنا ہے ، ہم ایسے نازیبا باتوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ۔

نیز صحیح حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ رلیہ وسلم کا فرمان ہے :" ما بعث الله من نبي إلا كان حقاً عليه أن يدل أمته على خير ما يعلمه لهم" [صحیح مسلم : ۱۸۴۴ الامارۃ ، سنن ابن ماجہ : ۳۹۵۶ الفتن ، مسند احمد ۲|۱۹۱ بروایت عبد اللہ بن عمرو]

[ اس دنیا میں ] اللہ تعالی نے جس نبی کو بھی بھیجا ہے ، اس نبی پر یہ حق واجب تھا کہ اپنی امت کو ہر وہ خیر کی بات بتلاوے جسے وہ جانتا ہے ۔

اس میں کوِئی شک نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کے خاتم ، سب نبیوں سے افضل ، سب کے سردار اپنی امت کے لئےسب سے زیادہ خیر خواہ، سب سے زیادہ صاف گو اور سب سے زیادہ فصیح اللسان تھے ۔

اسلئے اگر جشن عید میلادمیں کوئی خیر ہوتا اور یہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا تو اپنی امت کے سامنے ضرور بیان کرتے اور اس میں کسی تاخیر سے کام نہ لیتے، اسکی طرف رہنمائی کرتے اور امت کو اس پر ابھارتے، اس لئے جب ہم تک کوئی ایسی بات نہیں نقل کی گئی تو ہم نے یقینی طور پر جان لیا کہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے چہ جائیکہ اسمیں اللہ تعالی کی قربت کا کوئی پہلو ہو۔

یوم ولادت النبی صلی اللہ علیہ وسلم متعین نہیں ہے :

پھر جو شخص عید میلاد مناتا ہے اس سے ایک سوال ہے کہ تم عید میلاد کس دن مناؤگے ؟ یہ سوال اسلئے اٹھتا ہے کہ سیرت نگارعلماء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش کے بارے میں ،مختلف ہیں ، کسی نے آپ کی پیدائش ماہ رمضان المبارک میں بتلائی ہے ، کس نے آپ کی ولادت کا دن آٹھ ربیع الاول لکھا ہے اور بعض بارہ ربیع الاول بتلاتے ہیں ، انکے علاوہ اور بھی اقوال ہیں ، تو اب سوال یہ ہے کہ آپ لوگوں کیلئے جشن عید میلاد منانا کیسے ممکن ہوگا یا آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی ولادت کا واقعہ ایک سے زائدبار پیش آیا ہے ؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش میں یہ اختلاف اس بات کی دلیل ہے کہ چشن عید میلاد مشروع نہیں ہے اسلئے کہ عید میلاد منانے والوں کے نزدیک یوم ولادت ہی اصل بنیاد ہے ، کیونکہ اگر یہ کام مشروع ہوتا تو دیگر مسائل اور امور عبادات کی طرح مسلمان اسے بھی ضبط کرنےاس کی اہمیت کو واضح کرنے کا اہتمام کئے ہوتے ۔

نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ آپ کی پیدائش ربیع الاول ہی کے مہینہ میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی اسی ربیع الاول کے مہینہ میں ہے ، اسلئے آپ کی ولادت پر خوشی ہونا آپ کی وفات پر ناراضی ہونے سے زیادہ اہم نہیں ہے ، یہ ایسی بات ہے کہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں رہا ہے ۔

اللہ کے فضل سے یہ مسئلہ ہر اس شخص پر واضح ہے جو غور وفکر کرے اور تحقیق سے کام لے اور اسکا شیوہ بلا دلیل کے تقلیدنہ ہو۔

عید میلاد کی خرابیاں : یہ ایسا مسالہ ہے جسے ابلیس نے لوگوں کو گمراہ کرنے اورراہ حق سے بھٹکا نے کیلئے ان پر خلط ملط کر دیا ہے ،نیز اس عید میلاد النبی میں بہت سی ایسی خرابیاں پائی جاتی ہین جس سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ساری ابلیس کی تلبیس کاریاں ہیں ، علی سبیل المثال چند امور کولے لی جئے ۔

۱۔ اس جشن کے ذریعہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل ہونے کا عقیدہ رکھا جاتا ہے حالانکہ اس سے قبل ہم بیان کر چکے ہیں کہ عبادت میں اصل چیز توقیف اور دلیل کا پایا جانا ہے ، جبکہ اس مسئلہ پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔

۲۔ اس جشن میں بہت سے خلاف شروع امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے ،کچھ عقیدہ سے متعلق خلاف شروع باتیں اورکچھ اخلاقیات سے متعلق خلاف شروع باتیں ۔

عقیدہ سے متعلق بعض وہ خلاف شرع باتیں جو زیادہ ہی خطرناک ہیں وہ یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بہت سے نعتیہ قصائد پڑھے جاتے ہیں، جبکہ ان میں سے اکثر نعمتوں میں اسقدر غلو سے کام لیا جاتا ہے کہ آپ کو الوہیت کے مقام تک پہنچا دیا جاتا ہے اور آپ سی سے دعا مانگی جاتی ہے ، چنانچہ بوصیری اپنے قصیدہ بردہ میں لکھتا ہے :

يا أكرم الخلق مالي من ألوذ به سواك عند حلول الحادث العمم

اسے سب سے افضل مخلوق میرے لئے آپ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے کہ بڑے حادثات میں مبتلا ہوتے وقت میں اس کی پناہ میں آوں

اس رسوائی سے اللہ کی پناہ ، جب پریشانی کی حالت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پناہ کو خاص کردیا تو آسمان وزمین کا رب کہاں کہا ، رحمان رحیم کے لئَ کو نشس جگہ باقی رہ گئی

یہی بوصری ایک اور مبالغہ اور ضرورت سے زائد علو میں کہتا ہے ۔

فإن من جودك الدنيا وخرتها ومن علومك علم اللوح والقلم

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا اور آخرت تیری بخشش کا ایک حصہ ہیں اور علم لوح وقلم تیرے علم کا ایک جزء ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ صرف اللہ تعالی کا حق ہے جسے شاعر نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کردیا ہے ، جس پر اسے حدسے زیادہ غلو اور ابلیس اور اسکے چیلوں نے ابھارا ہے جو ایسے موقعوں پر بہت سی جذباتی رہتے ہیں حالانکہ یہ ایسا شرک ہے جس سے متعلق اللہ نے یہ خبردی ہے کہ اسے معاف نہ کریگا ، ہم اللہ تعالی سے متی وعافیت کی دعا کرتے ہیں ۔

البتہ محفلوں میں جو اخلاقی خرابیاں اور غیر شرعی امور پیش آتے ہیں ان میں سے ایک مردوزن کا اختلاط ہے، بلکہ ان محفلوں میں عورتیں مردوں کے ساتھ مل کرناچتیں اور طویل رات گئے تک جاگتی رہتی ہیں ، حتی کہ اب یہ محقلیں فاسقوں اور آوارہ لوگوں کا ٹھکانا اور مناسب اڈے بن چکی ہیں ۔

۳۔ اس بدعت کی وجہ سے ایک خرابی یہ بھی پیدا ہوگئی ہے کہ بعض لوگ ان لوگوں پر اعتراض کرتے ہیں جو اس جشن کا اہتمام نہیں کرتے ، بلکہ بعض تو اس حدتک پہنچ جاتے ہیں کہ ان جشنوں کا اہتمام نہ کرنے والوں اور اس پر اعتراض کرنے والوں پر کفر کا فتوی لگا دیتے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شیطان کی فریب کا ری ، حرام کام کو انکے سامنے مزین کرکے پیش کرنے اور انکے دلوں میں اس بدعت کو رچابسا دینے کی وجہ سے ہے اس سے تو اللہ کی پناہ ۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ ان لوگوں نے ایک بدعت ایجاد کی اور اس پر عمل کرنے لگے ، پھر جس شخص نے اس بدعت پر انکا ساتھ نہیں دیا اور بغرض نصیحت ان پر نکیر کیا تاکہ انھیں اللہ تعالی کے سیدھے راستے کی طرف لائے تو اس پرکفر کا فتوی لگادیا، یہ بدعت اور گناہوں کی وہ خرابی ہے جو اس پر عمل کرنے والے کے ساتھ اس وقت تک لگی رہتی ہے جبت تک کہ اسے ہلاک نہیں کردیتی ۔ نعوذ باللہ ۔

سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?