مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

حقیقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ،قسط:7
2617 زائر
19/04/2009
غير معروف
شیخ عبد العزیز مفتی عام س،ع، مترجم :شیخ ابوکلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حقیقت محمد رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم

قسط نمبر : 7

سماحة الشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن محمد آل الشيخ

مترجم: مقصود الحسن فيضي

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

پچھلی قسط کے آخری سطور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلکہ صورت حال یہ ہے جیسا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر تک پہنچناکسی کے بس میں نہیں ہے اور نہ ہی اسکا حکم دیا گیا ہے " بعد اسکے کہ اسے تین دیواروں سے گھیر دیا گیا ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غیب دانی کاعقیدہ:

کچھ اور لوگوں نےبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلو سے کام لیا اور یہ سمجھ بیٹھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب کا علم رکھتے ہیں ، انکے احوال کو جانتے اور وہ جو کچھ کررہے ہیں اسکا بھی علم رکھتے ہیں ، بلکہ ان میں سے بعض کا خیال تو یہاں تک ہے کہ انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوتا ہے اور خواب میں نہیں بلکہ حالت بیداری میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے ہیں ۔ جبکہ یہ عقیدہ رکھنا قران مجید کی صراحۃ تکذیب اور اللہ عزوجل کے ساتھ کفر ہے ۔

اللہ تعالی فرماتا ہے : { قُلْ لاَ يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلاَّ اللهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ } [ سُورَةُ النَّمْلِ : 65 ]

آپ کہہ دیجئے کہ آسمان والوں میں سے اور زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا ، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کئے جاءیں گے

ایک اور جگہ ارشاد ہے: { وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ } [ سُورَةُ هُودٍ : 123]

اور زمینوں اور آسمانوں کا غیب اللہ تعالی ہی کو ہے

نیز اللہ تعالی فرماتا ہے :{ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ } [ سُورَةُ الرَّعْدِ : 9 ]

ظاہر و پوشیدہ کا وہی عالم ہے ،سب سے بڑا اور سب سے بلند وبالا ہے ۔

ایک اور جگہ اپنے نبی کو حکم دے رہا ہے کہ : { قُلْ لاَ أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلاَ ضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لاَسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلاَّ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ } [ سُورَةُ الأَعْرَافِ : 188 ]

آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کیلئے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا ، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو، اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کرلیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض خوش خبری دینے والااور ڈارانے والا ہوں ان لوگوں کے لئے جو ایمان دار ہیں ۔

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوتی ؟

البتہ جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تعلق ہے تو اس پر کثرت سے دلائل موجود ہیں ، مثلا

اللہ تعالی کا فرمان ہے { إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ } [ سُورَةُ الزُّمَرِ : 30 ]

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے : { وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ سُورَةُ الأَنْبِيَاءِ : 34 ]

آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہم نے ہمیشگی نہیں دی ، کیا اگرآپ مر گئے تو وہ ہمیشہ کے لئے رہ جائیں گے ۔

نیز اللہ تعالی فرماتا ہے : { كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ} [ سُورَةُ آلِ عِمْرَانَ : 185 ]

ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا قصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی جس حدیث میں بیان ہوا ہے اسکے آخر میں ہے " في الرفيق الأعلى "اے اللہ مجھے رفیق اعلی میں پہنچادے " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ادا فرمائے اور آپ کی روح پرواز کرگئی [صحیح البخاری : ۴۴۳۷و ۴۴۶۳ المغازی ، صحیح مسلم : ۲۴۴۴ الفضائل]

۴۔ شہادت " محمد رسول اللہ" کے حقیقت کی وہ مخالفتیں جو شرک وکفر نہیں ہیں

اب تک [ وہ مخالفتیں تھیں جو شرک اور کفر ہیں ] اور کچھ ایسےلوگ بھی ہیں جنھوں نے شہادت " محمد رسول اللہ " کے حقیقت کی ایسی مخالفت میں پڑے جو کفر سے ہلکے درجے کی ہیں ، اگر چہ وہ [ کفر نہیں لیکن] بڑی خطرناک ہیں ،اس لئے ان سے پھی ہر ہیز ضروری ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھانا :

انھیں میں سے ایک مخالفت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھانا بھی ہے ، یہ شرک اصغر اور شرک اکبر کا ذریعہ ہے خاصکر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالی کے ساتھ مساوات کا عقیدہ رکھا گیا [ تووہ یقینا شرک میں داخل ہوگا]

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : من حلف بغير الله فقد كفر أو أشرك [سنن الترمذی : ۵۳۵ الایمان والنذور ، مستدرک الحاکم ۱| ۱۸ بروایت عمر بن الخطاب ]

جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا

ایک دوسری حدیِث میں ہے : لا تحلفوا بآبائكم [ صحیح البخاری : ۶۶۸۴ الایمان والنذور ]

اپنے باپ دادا کی قسم مت کھاو

۵۔ بدعات بھی شہادت " محمد رسول اللہ " کی حقیقت کے خلاف ہیں :

کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے دین میں بدعتیں ایجاد کرکے شہادت " محمد رسول اللہ " کے حقیقت کی مخالفت کی ہے ،واضح رہے کہ ہر وہ بدعت جو ایجاد کی جائے وہ شہادت " محمد رسول اللہ " کی حقیقت کے خلاف ہے، کیونکہ اس شہادت کی حقیقت میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت اسی طریقے سے کی جائے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع قرار دیا ہے، اسلئے اگر کوئی شخص کسی بدعت کے ذریعہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا چاہتا ہےتو یہ شہادت " محمد رسول اللہ " کے مدلول ومقتضی کے خلاف ہے ۔

۱۔ عید میلاد بدعت ہے:

آج جو بدعتیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں خاصکر اس ربیع الاول کے مہینہ میں ان میں سے ایک بدعت عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے ، چونکہ اس زمانے میں یہ بدعت بہت عام ہوچکی ہے ہے لہذا ہم چاہتے ہیں کہ اس موضوع کو کچھ تفصیل سے بیان کردیں ، پس اللہ تبارک وتعالی سے توفیق کی دعا کرتے ہوئے ہم شروع کرتے ہیں ۔

قرآن وسنت ہی معیار حق ہیں :

دین اسلام میں ایک اہم قاعدہ جس پر قرآن وحدیث سے قطعی دلائل موجود ہیں یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالی کی کی جائیگی اور کتاب وسنت سے مشروع طریقے ہی پر کی جائیگی ، اسی قاعدہ کی بنیاد پر علماء کہتے ہیں کہ تمام عبادت توفیقی ہیں [ یعنی اپنے ثبوت میں دلیل کی محتاج ہیں ] اسکا معنی یہ ہے کہ ایک مسلمان صرف اسی عمل کے ذریعہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کر سکتا ہے جسے اللہ تعالی نے مشروع قرار دیا ہے یا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کا بیان موجود ہے ، البتہ اگر کوئی شخص کسی ایسے عمل کے ذریعہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا چاہتا ہے جسے اپنے طور پر اچھاسمجھ رہا ہے یا کسی اور سے لیا ہے اگر چہ وہ شخص بڑے سے بڑا عالم یا حاکم وغیرہ ہی کیوں نہ ہو، تو اسکا یہ عمل مردود اور بدعت ہوگا، اگر چہ اس سے اسکا مقصد خیر کا ہو، اسی لئے بعض صحابہ کا یہ قول مروی ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر خیر کا متلاشی اسے پا لے ،یہ بات صحابی نے ایسے لوگوں کے بارے میں کہی تھی جو ایسے عمل کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنا چاہتے تھے جسے اللہ تعالی نے مشروع قرار نہیں دیا تھا اور انھیں روکا تو انہوں نے کہا : اس عمل کے ذریعہ ہمارا مقصد نیک ہے [حضرت شیخ حفظہ اللہ کا اشارہ درج ذیل واقعہ کی طرف ہے۔

حضرت عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نماز فجر سے پہلے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھ جاتے تھے اور جب وہ گھر سے نکلتے تو انکے ساتھ مسجد روانہ ہوتے ، ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ آئے اور کہا کہ کیا ابو عبد الرحمن[ عبد اللہ بن مسعود ]نکل گئے؟ ہم نے جواب دیا : نہیں ، یہ سن کر وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے ، پھر جب عبد اللہ بن مسعود اپنے گھر سے نکلے تو ہم انکے ساتھ ہو لئے ، حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ ان سے مخاطب ہوئے: اے ابو عبدالرحمن میں ابھی ابھی مسجد میں ایک ایسا کام دیکھ کر آرہا ہوں جسے اچھا نہیں سمجھتا ، حضرت ابن مسعود نے کہا : وہ کیا ؟ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اگر زندگی رہی تو آپ بھی دیکھ لیں گے ، وہ بات یہ ہے کہ کچھ لوگ نماز کے انتظار میں مسجد میں حلقہ بنائے بیٹھے ہیں ، سب کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں اور حلقہ میں ایک آدمی متعین ہے جو ان سے کہتا ہے کہ سو بار اللہ اکبر کہو ، توسب لوگ سو بار اللہ اکبر کہتے ہیں ، پھر کہتا ہے سوبار الحمد للہ کہو ، تو سو بار الحمد للہ کہتے ہیں ، پھر کہتا ہے کہ سو بار سبحان اللہ کہو تو سو بار سبحان اللہ کہتے ہیں ، یہ سنکر حضرت عبداللہ بن مسعود نے حضرت ابو موسی اشعری سے فرمایا آپ نے ان سے کیا کہا؟ حضرت ابو موسی اشعری نے جواب دیا : میں نے سوچا کہ آپ کی رائے معلوم کرلوں ، اسلئے میں نے ان سے کچھ نہ کہا ، حضرت ابن مسعود نے فرمایا : تم نے ان سے یہ کیوں نہ کہا کہ اپنے گناہ شمار کرو، میں اس بات کی ضمانت لیتا ہوں کہ تمھاری نیکیاں ضائع نہ ہوں گی ۔بہر حال یہ کہکر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور ان حلقوں میں سے ایک حلقہ کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا : یہ کیا ہو رہا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا کہ اے ابو عبد الرحمن یہ کنکریاں ہیں جن پر ہم تسبیح وتہلیل اور تکبیر گن رہے ہیں ، حضرت ابن مسعود نے فرمایا : بجائے اسکے تم اپنے گناہ شمار کرو اور میں اس بات کی ضمانت لیتا ہوں کہ تمھاری نیکیوں میں سے ایک نیکی بھی ضائع نہ ہوگی ، تعجب ہے اسے امت محمد کہ ابھی تو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کثیر تعداد میں موجود ہیں، ابھی آپ کے کپڑے نہیں پھٹے ،آپ کے برتن نہیں ٹوٹے اور اتنی جلدی تم ہلاک ہو گئے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم یاتو ایک ایسی شریعت پر چل رہے ہو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی شریعت سے ۔ نعوذ باللہ۔ بہتر ہے یا تم لوگ گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو۔ ان لوگوں نے کہا : اے ابو عبد الرحمن اللہ کی قسم اس طرز عمل سے خیر کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہ تھا ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کتنے خیر کے طالب ایسے ہیں جو خیر تک کبھی پہنچ ہی نہیں پاتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے " إن قوما يقرؤن الكتاب لا يجاوز تراقيهم " کہ کچھ لوگ ایسے ہونگے جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ شاید ان میں سے اکثر تم ہی میں سے ہوں ، یہ باتیں کہہ کر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے آئے ، راوی عمر بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان حلقوں میں موجود عام لوگوں کو ہم نے دیکھا کہ نہر وان کی جنگ میں وہ ہمارے بالقابل خوارج کے ساتھ تھے اور ہم پر تیر بر سارہے تھے سنن الدارمی ۱| ۶۹،۶۸]

اس طرح ایک اور قاعدہ علمائے اسلام کے نزدیک معلوم ومتفق علیہ ہے کے اختلاف کی صورت میں کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع ضروری ہے ، جو چیز وہاں ملےاسے لے لیں اور اس پر عمل کریں اور جو چیز اسمیں نہ ملے اسکے ذریعہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں ،

ارشاد باری تعالی ہے : {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً } [ سُورَةُ النِّسَاءِ : 59 ]

پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاو اللہ کی طرف اور رسول کی طرف ، اگر تمھیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے، یہ بہت بہتر اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے ۔

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے : {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [ سُورَةُ الْحَشْرِ : 7 ]

اور تمھیں جو کچھ رسول دے لے لو اور جس چیز سے روک دے رک جاو

حضرت عائشۃ رضی اللہ عنہا سے مروی وہ حدیث جسے علماء نے ظاہری اعمال کے پر کھنے کا معیار قرار دیا ہے ، اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

" من عمل عملاً ليس عليه أمرنا فهو رد " [صحیح مسلم : ۱۷۱۸ الاقضیۃ]

جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہماراحکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔

ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں : " من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد" [صحیح البخاری: ۲۶۹۸ الصلح]

جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔

جب یہ بات ثابت ہوگئی اور الحمد للہ علمائے اسلام کے نزدیک ثابت شدہ ہے تو اب ہم عید میلاد النبی کے مسئلے کی طرف آتے ہیں ۔

اس سلسلے میں عرض ہے کہ بعد کے کچھ اہل علم نے جب عید میلاد النبی کو مستحسن قرار دیا اور انکے علاوہ کچھ محققین علماء نے اسے بدعت ٹھہرا یا تو اسکی وجہ سے یہ مسالہ ہمارے نزدیک مختلف فیہ ثابت ہوا ، اسلئے اب اس صورت میں ہم اس قاعدہ کی طرف رجوع کرتے ہیں جس قاعدہ کی طرف مختلف فیہ مسائل میں رجوع کرنے کا حکم ہے یعنی اس اختلاف کو کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹاتے ہیں ، پھر جب ہم اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اس مسئلے کی کوئی قابل اعتماد بنیاد ہمیں نہیں ملتی ، اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں چھان بین کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو کہیں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جشن عید میلاد کا حکم دبا ، نہ کہیں اسکا ثبوت ہے کہ خود آپ نے اپنا جشن عید میلاد منایا اور نہ ہی یہ آیا ہے کہ آپ کے زمانہ میں کسی نے جشن عید میلاد منایا ہو اور آپ نے اسے باقی رکھا ہو ، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ سال تک زندہ رہے ، اور یہ امر بھی قابل غورہے کہ آپ پر ایسے لوگ ایمان لائے اور آپ کے ساتھ رہے جو تمام لوگوں کے مقابلے میں آپ سے زیادہ وہ محبت کرنے والے ، آپ کی توقیر وتعظیم کرنے والے اور اللہ تعالی اور رسول رحمت کی مراد کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے ، بلکہ ان لوگوں نے آپ کی طرف سے دفاع اور آپ کے دین کی حمایت میں اپنی جانوں تک کو قربان کردیا، ہر چھوٹے بڑے کام میں آپ کی پیروی کے خواہشمند رہے ، آپ کی تمام سنتوں کو ہم تک بلا کم وکاست پہنچا یا حتی کہ جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے اور اس وقت آپ کی داڑھی کی حرکت ہوتی اسے بھی بیان کیا تو یہ نا ممکن ہے کہ آپ کے زمانے میں جشن میلاد منایا گیا ہو اور ان لوگوں نے ہم تک اسے پہنچایا نہ ہو ، حالانکہ اسی حالت پر سالہاسال گزرگئے ، لوگوں میں اس کی خواہش بھی تھی اور اسکے بیان کرنے کے اسباب بھی موجود تھے ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے زمانے پر نظر کرتے ہیں، وہ زمانہ جسے آپ کے زمانے کے بعد افضل ترین زمانہ ہونے کا شرف حاصل اور اس زمانے کے لوگ بعد کے تمام لوگوں سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کرنے والے تھے میری مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے عہد سے ہے ، تو انکے بارے میں بھی کسی نے یہ نقل نہیں کیا ہے کہ ان لوگوں نے جشن میلاد منایا ہو ، نہ ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے ، نہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ، نہ ہی عثمان بن عفان ذو النورین رضی اللہ عنہ نے اور نہ ہی آپ کے چچے زاد بھائی ، آپ کے داماد اور آپ کے نواسوں کے باپ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم نے اور نہ ہی انکے علاوہ دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم نے ایسا کیا ، بلکہ تابعین اور اتباع تابعین میں سے بھی کسی نے ایسا نہیں کیا ۔ نہ یہ کام پہلی صدی ہجری ہیں ہوا ، نہ دوسری صدی ہجری میں اور نہ ہی تیسری صدی ہجری میں ، حالانکہ عید میلاد النبی منانے کے وہ اسباب موجود تھے جسکا ذکر آج کے لوگ کر رہے ہیں اور اس وقت بظاہر کوئی رکاوٹ بھی نہ تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات نے اس کام کو صرف شرعی رکاوٹ کی وجہ سے چھوڑا تھا یعنی یہ ایسا کام تھا جسے اللہ تبارک وتعالی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع نہیں قرار دیا تھا اور نہ ہی یہ ایسا کام ہے جسے اللہ تعالی پسند فرماتا ہو ، اس سے راضی ہوا ورنہ ہی اسکے ذریعہ اسکا تقرب حاصل کیا جاسکتا ہے ، بلکہ یہ ایک نئی ایجاد شدہ بدعت ہے جسے افضل بشر صلی اللہ علیہ وسلم ، سب سے بہتر زمانےکے لوگ اور امت مسلمہ کے سب سے افضل علماء یعنی ابتدائی صدیوں کے علماء چھوڑتے چلے آئے ہیں ، اس عظیم دلیل اور ٹھوس قاعدہ میں اس شخص کیلئے اطمینان قلب کا ساماں ہے جسکے دل کو اللہ تعالی نے قبول حق کے لئے کھول دیاہو ، اسکی بصیرت کو روشن کردیا اور اسے توفیق ، ہدایت اور راست روی کی دولت سے نوازا ہو۔

یہ بات جو ہم نے کہی ہے کہ سلف امت نے عید میلا النبی کا جشن نہیں منا یا اس پر مسلمانوں کے تمام علماء کا اتفاق ہے ، خواہ وہ لوگ عید میلاد النبی منانے کو جائز سمجھتے ہوں یا نا جائز کہتے ہوں۔

سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

   طباعة 
2 صوت
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?