مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

حقیقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ،قسط:6
2666 زائر
19/04/2009
غير معروف
شیخ عبد العزیز مفتی عام س،ع، مترجم :شیخ ابوکلیم فیضی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حقیقت محمد رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم

قسط نمبر : 6

سماحة الشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن محمد آل الشيخ

مترجم: مقصود الحسن فيضي

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

پچھلی قسط کے آخری سطور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[ذرا سوچیں ] امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا یہ فرمان اس شخص سے متعلق ہے جو حضرت سفیان ثوری جیسے امام وقت ، زاھد وعابد ، قابل اعتماد عالم وفقیہ کی خلاف سنت رائے کو قبول کرتا ہے، پھر اس شخص سے متعلق کیاکہا جائے گا جوان سے کم تر درجے کے کسی عالم کی رائے کو حدیث پر مقدم رکھے گا؟

مخالفین رسول کا انجام :

ارشاد باری تعالی ہے : { وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا } [ سُورَةُ النِّسَاءِ : 115 ]

جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعدبھی رسول [صلی اللہ علیہ وسلم ] کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھور کر چلے ، ہم اسے ادھرہی متوجہ کردیں گے جد ھروہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے ، وہ پہنچے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔

نیز فرمایا : { ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ يُشَاقِقِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [ سُورَةُ الأَنْفَالِ : 13 ]

یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اسکے رسول کی مخالفت کی ، اور جو اللہ تعالی اور اسکے رسول کی مخالفت کرتا ہے سو بے شک اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے ۔

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے : { أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ } [ سُورَةُ التَّوْبِةِ : 63 ]

کیا یہ نہیں جانتے کہ جو بھی اللہ تعالی کی اور اسکے رسول کی مخالفت کریگا اسکے لئے یقینا دوزخ کی آگ ہے جسمیں وہ ہمیشہ رہنے والا ہے ، یہ زبر دست رسوائی ہے ۔

یہ ہے شہادت " محمد رسول اللہ " کی حقیقت جوقدرسے تفصیل ووضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ، اس کو بعض اہل علم نے [میری مراد شیخ الاسلام محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ سے ہے] ۔ مختصر ا اسطرح بیان کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کا حکم دیں اس پر عمل کیا جائے جس چیز کی خبر دیں اسے قبول کر لیا جائے ، جس چیزسے روک دیں اور منع کردیں اس سے رک جایا جائے اور صرف آپ ہی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عبادت کی جائے۔

حقوق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

یہ [بات تو ہوتی شہادت محمد رسول اللہ کی حقیقت سے متعلق ، اب یہاں یہ بھی جان لینا چاہئے کہ ] امت پر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق میں چند بڑے اہم امور داخل ہیں ۔

۱۔ ادب خطاب کا لحاظ:

ان میں سے ایک امر یہ ہے کہ مخاطب کرتے وقت عام لوگوں کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب نہ کیا جائے ، بلکہ بڑے ادب واحترام کے ساتھ آپ کو مخاطب کیا جائے، چنانچہ یوں کہا جائے : " اللہ کے رسول " " اللہ کے نبی"۔ اور محمد ، یا محمد بن عبد اللہ جیسے الفاظ سے خطاب نہ کیا جائے ، اس سے متعلق اللہ تعالی فرماتاہے : { لاَ تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بعضا } [ سُورَةُ النُّورِ : 63 ]

تم لوگ اللہ تعالی کے نبی [صلی اللہ علیہ وسلم ] کے بلانے کو ایسا بلاو نہ کر لو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کا ہوتا ہے ۔

۲۔وسیلہ کی دعا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی سے آپ کے لئے وسیلہ طلب کیا جائے ، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ۔

"سلوا الله لي الوسيلة فإنها منزلة في الجنة لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله تعالى وإني لأرجو أن أكون أنا هو ، فمن سأل لي الوسيلة حلت له الشفاعة" [ صحیح مسلم : ۳۸۴ الصلاۃ ، سنن ابو داود : ۵۲۳ الصلاۃ سنن النسائی ۶/ ۶۹ بروایت عبد اللہ بن عمرو] ۔

تم لوگ اللہ تعالی سے میرے لئے وسیلہ کا سوال کرو کیونکہ یہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ تعالی کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لاءق ہے اور مجھے قوی امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں ، تو جو شخص میرے لئے وسیلے کا سوال کریگا اسکے لئے میری شفاعت حلال ہو جائے گی ۔

۳۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پردرود وسلام :

امت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق میں سے ایک اہم حق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنا بھی ہے ، نماز میں تو درود بھیجنا واجب ہے بلکہ بعض علماء نے اسے نماز کا ایک رکن شمار کیا ہے کہ بغیر اسکے نماز صحیح نہ ہوگی ، [نماز کے علاوہ درود وسلام کے اور بھی بہت سے مواقع ہیں جیسے ] جب آپ کا نام لیا جائے ، جمعہ کی شب وروز،اور دعا کے وقت دورود وسلام پڑھنا ایک تاکیدی حکم ہے ، وغیرہ ، اس موضوع کو علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے بڑے شرح وبسط کے ساتھ اپنی مفید کتاب جلاء الاٴفہام میں بیان کردیا ہے، وہاں اسکا مطالعہ کرلینا چاہئے۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :{ إِنَّ اللهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا } [ سُورَةُ الأَحْزَابِ : 56 ]

اللہ تعالی اور اسکے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔ [حقوق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تفصیل سے جاننے کیلئے ، قاض عیاض کی الشفا ، د/محمد التمیمی کی کتاب حقوق النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میری کتاب حقوق مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کا مطالعہ کیجئے ۔ مقصود الحسن فیضی]

شہادت " محمد رسول اللہ " کی حقیقت سے انحراف

دینی بھائیو پچھلی سطور میں میں نے شہادت محمد رسول اللہ کی حقیقت کو بیان کردیا ہے، جو شخص بھی اس پر عمل کرلے اور اپنے ظاہر وباطن ہر لحاظ سے اسکا اہتمام کرلے تو وہ شخص اپنی شھادت میں سچا ہے اور جو شخص اسکی مخالفت کرے وہ بڑے عظیم خطرے کا شکار ہے۔

جو لوگ اس شہادت کی مخالفت میں پڑے ہیں وہ کئی قسم کے ہیں

شہادت " محمد رسول اللہ" کی حقیقت سے انحراف کرنے والوں کی قسمیں

۱۔ رسالت کے منکر:

کچھ لوگ ایسے ہیں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان نہیں لاتے اور کلیۃاسکا انکار کرتے ہیں یہ لوگ ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور مخالفت کے جذبے سے کرتے ہیں ، جیسا کہ عام مشرکین کا حال ہے ۔

۲۔ آپ کی رسالت کی عمومیت کا انکار

ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان تو لاتے ہیں لیکن وہ لوگ آپ کےرسالت کی عمومیت کے منکر ہیں ، انکا کہنا ہے کہ آپ کی رسالت اہل عرب کے لئے خاص ہے، جیسا کہ اہل کتاب کی ایک جماعت کا خیال ہے ۔

یہ لوگ اور ان سے قبل ذکر کئے گئے لوگوں کا جواب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرماتا ہے : { وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا } [ سُورَةُ سَبَأٍ : 28 ]

ہم نے آپ کو تمام لوگوں کیلئے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کے بھیجا ہے۔

ایک اور جگہ اپنے بنی کو مخاطب کرکے فرماتا ہے : { قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا } [ سُورَةُ الأَعْرَافِ : 158 ]

کہہ دیں : اے لوگوں میں تم سب کی طرف اللہ تعالی کا بھیجا ہوا رسول ہوں

ایک اور جگہ ارشاد ہے :{ قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللهِ يَجْحَدُونَ } [ سُورَةُ الأَنْعَامِ : 33 ]

ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو انکے اقوال مغموم کرتے ہیں سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتےلیکن یہ ظالم اللہ تعالی کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

اس بیان سے ہمارا مقصد اس جماعت یا اس قسم کی دیگر جماعتوں کاتفصیلی رد نہیں ہے کیونکہ مسلمان علماء اور اماموں نے انکا خوب جواب دیا ہے اور اس بارے بہت سی کتابیں تالیف کی ہیں ، اسلئے جو شخص اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے اسے ان بڑی بڑی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔

۴۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلو

[ان لوگوں کے علاوہ] کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو "محمد رسول اللہ" کی شہادت تو دیتے ہیں اور اسلام کی طرف اپنی نسبت بھی کرتے ہیں لیکن قسم قسم اور مختلف درجے کی مخالفتوں سے اس شہادت کے حقیقت سے روگردانی کی ہے ، وہ مخالفتیں بعض بعض سے اہم اور خطر ناک ہیں ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے "نور ازلی" اور " مظہر الہی " ہونے کا عقیدہ :

چنانچہ کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلو کرنے میں مبالغہ سے کام لیا اور آپ کو ایک ایسا ازلی نور قرار دیا جو انبیاءسے منتقل ہوتے ہوتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا ہے ، اسی طرح کچھ لوگوں نے یہ گمان رکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے مظہر ہیں جسکی صورت میں اللہ تبارک وتعالی نے ظہور کیا ہے " عیاذا باللہ " پہلی قسم تو غالی شیعوں اور باطنیوں کی ہے، نیز غالی صوفیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے اور دوسرا قول وحدۃ الوجود کے قائلین صوفیاء کا ہے ۔

یہ دونوں باتیں کفر ہیں جو کسی مومن دل سے صادر نہیں ہو تیں صرف عوام کو دھوکہ میں رکھنے کیلئےیہ چکنی چپڑی باتیں ہیں جنھیں اسلام کا لبادہ اڑھا دیا گیا، ورنہ اصل میں یہ قدیم کا فر قوموں کی مشابہت ہے، جیسے نصاری نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا کہ وہ الہ ہیں جو انسان کی شکل میں آئے ہیں

بشریت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بجز اسکے کچھ نہیں کہ ایک بشر اور اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں اللہ تبارک وتعالی نے اپنی رسالت کیلئے جنکا انتخاب کیا اور آپ کو یہ شرف بخشا کہ آپ کو خاتم النبیین والمرسلین بنایا اور تمام اولاد آدم کا سردار قرار دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشر ہونا ماسبق ذکر شدہ عقیدےاور اس قسم کے تمام باطل خیالات کی نفی کرتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے: { قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَلاَ يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا } [ سُورَةُ الكَّهْفِ : 110 ]

آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی بشر ہوں، ہاں میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے : { قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلاَّ بَشَرًا رَسُولاً } [ سُورَةُ الإِسْرَاءِ : 93 ]

آپ جواب دے دیں کہ میرا پرور دگار پاک ہے میں تو صرف ایک انسان ہوں جو رسول بنا یا گیا ہوں

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انما انا بشر مثلکم اٴنسی کما تنسون [صحیح البخاری : ۴۰۱ الصلاۃ صحیح مسلم : ۵۷۲ المساجد برایت عبد اللہ بن مسعود]

میں بھی تمھارے جیسا ایک بشر ہوں، جیسے تم بھولتے ہو ویسے میں بھی بھولتا ہوں ۔

انکے علاوہ اوربھی دلیلیں و نصوص ہیں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بشریت کی قطعی دلیل ہیں اور یہ کہ اللہ تبارک وتعالی نے آپ کو رسالت ونبوت کے شرف سے امتیاز بخشا ہے، البتہ آپ کے بارے میں حدسے تجاوز کرنا اور آپ کو آپ کے اصلی مقام سے اوپرا اٹھانا رسالت کی حقیقت اور شہادت محمد رسول اللہ کے خلاف ہے ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو الہ کے مقام تک پہنچانا:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلو سے کام لینے والوں کی ایک قسم ایسی ہے کہ جو عبادت کی بعض صورتوں کو آپ کےلئے انجام دنیا مشروع کردیا ہے ، جیسے دعا، عاجزی وانکساری اور آپ کی قبر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا وغیرہ، حالانکہ یہ ایسی عبادتیں ہیں جو صرف اللہ تعالی کے لئے خاص ہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس سے روکا بلکہ سختی سے روکا ہے اور بار بار روکا ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے خود اللہ تبارک وتعالی نے [ان اعمال سے سختی سے منع کیا] چنانچہ اللہ تبارک وتعالی نے دعا،خضوع وعاجزی اور نماز جیسی عبادتوں کو اپنے لئے خاص کیا ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : { وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ } [ سُورَةُ غَافِرٍ : 60 ]

اور تمھارے رب کا فرمان [سرزد ہو چکا] ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمھاری دعاوں کو قبول کروں گا، یقین مانوکہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ جلدہی ذلیل ہو کر جہنم میں جائیں گے [ ۱۔ غور کریں پہلی آیت میں دعا کا لفظ استعمال ہے اور دوسری آیت میں اسی کو عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ دعا بھی عبادت کے معنی میں داخل ہے اور جسطرح عبادت صرف اللہ تعالی کا حق ہے اسی طرح دعا بھی صرف اللہ تعالی ہی سے مانگی جائے گی ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : " الدعاء ھو العبادۃ " دعا عبادت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطوراستشہاد یہی آیت تلاوت فرمائی ، [ دیکھئے سنن الترمذی : ۳۹۶۹ التفسیر ومسند احمد ۴|۳۲۱ بروایت نعمان بن بشیر]

نیز اللہ تبارک وتعالی اپنے افضل ترین بندوں کی صفت بیان فرماتا ہے : إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ } [ سُورَةُ الأَنْبِيَاءِ : 90 ]

یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے ۔

نیز اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول سے فرمارہا ہے : { فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ } [ سُورَةُ الكَوْثَرِ : 2 ]

پس تو اپنے رب کیلئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔

ایک اور جگہ اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی کو حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے : { قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ } [ سُورَةُ الأَنْعَامِ : 162 ]

آپ کہہ دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہاں کا رب ہے۔

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لا تطروني كما أطرت النصارى ابن مريم إنما أنا عبد فقولوا عبد الله ورسوله" [صحیح البخاری: ۳۴۴۵ الانبیاء ، مسند احمد ۱|۵۵،۲۲]

جس طرح نصاری نے عیسی بن مریم [علیہ السلام ] کے بارے میں غلو سے کام لیا تم میری تعریف میں غلو سے کام نہ لینا ، میں بجز اسکے اور کچھ نہیں کہ اللہ کا ایک بندہ ہوں اسلئے تم مجھے اللہ کا بندہ اور اسکا رسول کہو۔

اسی طرح صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض موت کا وقت تھا تو آپ اپنے چہرے پر ایک چادر ڈال لیتے اور جب دم گھٹنے لگتا تو اپنا چہرہ کھول لیتے اور اسی حالت میں آپ نے فرمایا: لعنۃ اللہ علی الیہود والنصاری اتخذوا قبور انبیائہم مساجد

اللہ تعالی کی لعنت ہو یہود ونصاری پر کہ انہوں نے اپنے بنیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہود ونصاری کے عمل سے لوگوں کو متنبہ کررہے تھے اور اگر اسکا ڈرنہ ہوتا تو آپ کی قبر کو باہر بنایا جاتا ، مگر خطرہ یہ تھا کہ آپ کی قبر کو مسجد بنا لیا جائیگا [صحیح البخاری : ۳۴۵۳ الانبیاء ، صحیح مسلم : ۵۲۹ المساجد]

قبروں کے پاس نماز پڑھکر انھیں مسجدکی حیثیت دینے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منع کرنا اور سختی سے منع کرنا اور یہ خبر دینا کہ جس نے ایسا کیا وہ ملعون ہے حالانکہ اس شخص نے اس قبر [یا قبروالے] کی عبادت نہیں کی، نہ ہی اہل قبر سے دعامانگی، اسکا سبب یہ ہے کہ یہ عمل قبر کی عبادت اور شرک کا ذریعہ ہے، تو پھر ایسے شخص کا کیا حال ہو گا جو اس قبر کی عبادت کرتا ہے اسکی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اسکے لئے نذر مانتا ہے ، اسکے لئے جانور ذبح کرتا ہے ، قبروالے کو پکارتا اور اس سے منفعت کے حصول اور دفع ضرر کا طالب ہوتا ہے ۔

امام قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اسی لئے مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سے متعلق [غلو کے بارے میں ] ہر قسم کا راستہ بند کرنے میں مبالغہ سے کام لیا ،چنانچہ دیواریں بلند کردیں ۔ اسکے دروازے بند کردئے اور آپ کی قبر کو چاروں طرف سے گھیر دیا ، پھر بعد میں مسلمانوں کو جب یہ خطرہ لاحق ہوا کہ آپ کے قبر کی جگہ کو کہیں لوگ قبلہ نہ بنالیں کیونکہ قبر نمازیوں کےقبلہ کی جانب پڑتی تھی جس سے نماز پڑھنے والے کی صورت اس طرح ظاہر ہوگی کہ گویا وہ قبر کی عبادت کررہا ہے تو اسی لئے قبر کے دونوں شمالی جانب سے دو دیواریں بنادیں اور انھیں اسطرح مائل کردیا کہ زاویۃ مثلث کی طرح شمال کی جانب سے آکر مل گئیں ، تا کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کا استقبال نہ کرسکے ۔

اس سے ظاہر ہو کہ اللہ تبارک وتعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا " اللهم لا تجعل قبري وثناً يعبد " [ اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنا دینا کہ اسکی پو جاکی جائے ] [احمد ۳|۲۴۶مسند الحمیدی: ۱۰۳۵ بروایت ابو ھریرۃ ]

کو قبول کرکے اسکی حفاظت کردی ، اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھتا ہے یہ صرف اس کی خام خیالی ہے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کا استقبال اور اس تک پہنچنا ممکن نہیں ہے ۔

بلکہ صورت حال یہ ہے جیسا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر تک پہنچناکسی کے بس میں نہیں ہے اور نہ ہی اسکا حکم دیا گیا ہے " بعد اسکے کہ اسے تین دیواروں سے گھیر دیا گیا ہے۔

سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?