مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

اہل حسبہ کے حقوق/ سلسله ء حقوق : 12
1326 زائر
18/09/2008
غير معروف
شيخ أبو كليم فيضي

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان : 14

خلاصہ درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 16/ رمضان المبارک 1429ھ م16 /ستمبر 2008م

اہل حسبہ کے حقوق

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال :

سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم : من رأى

منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم

يستطع فبلسانه فإن لم يستطع

فبقلبه وذلك أضعف الإيمان .

( صحيح مسلم : 49 ، الإيمان /

سنن أبوداؤد : 1140 ، الصلاة /

سنن الترمذي : 2172 ، الفتن )

ترجمہ : حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : جو شخص تم میں سے کوئی برائی کو ہوتے دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل [ روک ] دے اگر [ ہاتھ سے روکنے کی ] طاقت نہیں ہے تو زبان سے [ اسکی برائی کو واضح کرے ] اگر اسکی بھی طاقت نہ ہوتو دل سے [ اسے برا جانے ] اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۔

تشریح : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھ سے پہلے اللہ تعالی نے جو نبی بھی بھیجا اسکے اسکی امت میں سے حواری اور مخلص ساتھی ہوتے ، جو اسکی سنت پر عمل اور اسکے حکم کی اقتداء کرتے ، پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوئے جو ایسی باتیں کہتے جو وہ کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ کام تھے جن کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا ، پس جو شخص ان سے ہاتھ کےساتھ جہاد کریگا وہ مومن ہے اور جو شخص ان سے دل کے ساتھ جہاد کریگا وہ مومن ہے ، جو ان سے اپنی زبان سے جہاد کریگا وہ مومن ہے اور اسکے علاوہ رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان کا درجہ نہیں ہے ۔ [ صحیح مسلم ] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ منکرات کے ازالے کا حسب طاقت ہر مسلمان ذمہ دار ہے ، بلکہ یہی اسکے ایمان کی کسوٹی ہے ، حالانکہ عام طور پر لوگ اس فریضہ سے کوتاہ نظر آتے ہیں لیکن اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جنہوں نے اس کام کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا ہے ، یہ الگ مسئلہ ہے کہ حالات و سیاست کے پیش نظر بعض لوگ اس پر کچھ اجرت بھی لیتے ہیں ، صورت حال کچھ بھی ہو وہ لوگ اللہ تعالی کے محبوب اور دین کے پاسبان ہیں ، یہی لوگ ہیں جو کسی معاشرے کی کشتی کے ناخدا ہیں۔۔۔۔۔ انکے کچھ حقوق ہمارے اور آپ کے اوپر ہیں جنکی ادائیگی ہمارے اوپر فرض ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکے بعض حقوق درج ذیل ہیں : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[ 1] اعتراف : انکے اس عمل کی اہمیت کا اعتراف اور یہ کہ یہ لوگ وہ کام کررہے جو انبیاء کی وراثت اور کسی بھی قوم کی سفینہء نجات ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : " اس شخص کی مثال جو اللہ کی حدود کو قائم کرنے والا ہے اور اسکی مثال جو ان حدود کو پامال کرنے والا ہے ان لوگوں کی طرح ہے جو کسی کشتی پر سوار ہوئے ، انہوں نے اوپر اور نیچے والے حصہ کیلئے قرعہ اندازی کی ، پس ان میں سے بعض کو بالائی منزل ملی اور بعض نچلی منزل پر سوار ہوئے ، نچلی منزل والوں کو جب پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ اوپر آئے اور بالائی منزل والوں کے پاس سے گزرتے ، چنانچہ نچلی منزل والوں نے سوچا کہ اگر ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیں اور اپنے اوپر والوں کو تکلیف نہ دیں تو یہ بہتر ہوتا ، پس اگر اوپر والے نیچے والوں کو اپنے اس ارادے پر چھوڑ دیں تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو خود بھی اور دوسرے مسافر بھی بچ جائیں گے ۔

[ صحیح البخاری بروایت نعمان بن بشیر ]

[ 2] تعاون : یہ اہل حسبہ اور دعاۃ کا دوسرا اہم حق ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ( سورة المائدة : 2 ) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو ........ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب کسی قوم کے لوگ برائی دیکھیں اور اسے [ مل کر ] نہ مٹائیں تو اللہ تعالی ان سب کو عذاب دیگا ۔ [ النسائی ، ابو داود بروایت ابو بکر الصدیق ]

[ 3 ] غلطیوں سے چشم پوشی : وہ لوگ بھی انسان ہیں ، انسانوں سے غلطی ہوتی ہے لیکن ہر غلطی اچھالی نہیں جاتی بلکہ بسا اوقات اس پر پردہ ڈالا جاتا ہے ، خاص کر بڑے لوگوں کی غلطیاں ۔

ارشاد نبوی ہے : جو بندہ کسی بندے کی دنیا میں ستر پوشی کرتا ہے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اسکی پردہ پوشی کریگا ۔

[ صحیح مسلم : بروایت ابو ہریرہ ]

ایک اور حدیث میں ہیکہ صاحب حیثیت لوگوں کی غلطیوں سے در گزر کرو سوائے حدود کے ۔

[ الادب المفرد ، ابو داود بروایت عائشہ ] ۔

[ 4 ] دعا : اگر ہم ان جیسا کام نہیں کرسکتے اور نہ انکے ساتھ کوئی تعاون کرسکتے ہیں تو انکے لئے دعا تو کرسکتے ہیں ، کیونکہ یہ وہ مبارک جماعت ہے جسکے لئے آسمان و زمین کی ہر مخلوق دعا کرتی ہے تو ہم بحیثیت مسلمان اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ انکے لئے دعا کریں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ، بے شک اللہ تعالی ، اسکے فرشتے اور زمین و آسمان کی مخلوق حتی کہ چیونٹی اپنے بل میں مچھلی تک پانی میں لوگوں کو بھلی بات بتانے والے کیلئے [ اپنے اپنے انداز میں ] رحمت بھیجتے اور دعائیں کرتی ہیں ۔

[ سنن الترمذی بروایت ابو امامہ ]

[ 5 ] آبرو کا پاس و لحاظ : ہر مسلمان سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کی عزت و آبرو کا پاس و لحاظ رکھے اور اس پر حرف نہ آنے دے ، پھر دینی کام کرنے والے ، دین کیلئے اپنا قیمتی وقت لگانے والے اور دین کیلئے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دینے والے اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ہم ان کی آبرو پر حرف نہ آنے دیں چہ جائیکہ ہم خود اسمیں شریک ہوں ، اور یہ حدیث نبوی دھیان میں رکھیں کہ ارشاد نبوی ہے : جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کیا ، اللہ تعالی قیامت کے دن اسکے چہرے سے جہنم کی آگ دور کریگا ۔ [ ترمذی بروایت ابو درداء ]

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?