مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

شرعی روزہ ؟
1214 زائر
02/09/2008
غير معروف
شيخ أبو كليم فيضي

بسم الله الرحمن الرحيم

دروس رمضان : 2

خلاصہ درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 2/ رمضان المبارک 1429ھ م02/ستمبر 2008م

شرعی روزہ ؟

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل عمل ابن آدم يضاعف بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف قال الله تعالى : إلا الصوم فإنه لي و أنا أجزى به يدع طعامه و شرابه و شهوته من أجلى ..... الحديث .

( صحيح البخاري : 1894 ، الصيام / صحيح مسلم : 1151 ، الصيام )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : انسان کا ہر عمل اسکے لئے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں اسکا بدلہ دونگا [ کیونکہ ] روزہ دار اپنا کھانا ،پینا اور اپنی جنسی خواہشات کو صرف میرے لئے چھوڑ دیتا ہے ۔

تشریح : شرعی روزہ کیا ہے ؟ اسکی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے یعنی

اللہ تبارک و تعالی کی عبادت کی غرض سے اسکے حکم کی تابعداری اور اسکی رضا مندی کے حصول کیلئے کھانا ، پانی اور جنسی شہوت کو ترک کردینا ۔

[ کھانا اور پینے سے کیا مراد ہے یہ ہر شخص جانتا ہے البتہ ] شہوت سے مراد " جماع " ہے نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد ہر قسم کی وہ من پسند چیز ہو [ جو روزہ کے مقصد کے خلاف ہے ] چنانچہ صحیح ابن خزیمہ میں صحیح سند سے مروی ہیکہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یدع الطعام من اجلی و یدع الشراب من اجلی و یدع لذتہ من اجلی و یدع زوجتہ من اجلی [ صحیح ابن خزیمہ : 1897 ، ج: 3 ، ص : 197 ] کھانے کو میرے لئے چھوڑ دیتا ہے ، پانی کو میرے لئے چھوڑ دیتا ہے ، اپنی لذت کو میرے لئے چھوڑ دیتا ہے اور اپنی بیوی [ سے لذت اندوزی ] کو میرے لئے چھوڑ دیتا ہے ۔

قرآن مجید سے روزے کا وقت بھی معلوم ہو جاتا ہے ارشاد باری تعالی ہے :

وَكُلُواْ وَاشْرَبُواْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّواْ الصِّيَامَ إِلَى الَّليْلِ

کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو.......... چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے طلوع فجر تک کھانے پینے کو جائز قرار دیا پھر حکم دیا کہ رات آنے تک روزہ کو پورا کیا جائے ، اسطرح روزہ کا معنی یہ ہوا کہ اس وقت میں یعنی طلوع فجر اور رات کے درمیان کے وقفہ میں کھانا اور پینا چھوڑ دینا روزہ کہلاتا ہے ۔

صفحہ :2/1

کھانے اور پینے سے مراد منہ یا ناک کے ذریعہ [ پیٹ میں ] کھانا اور پانی پہنچانا ہے ، یہ کھانے اور پینے کی چیز خواہ کسی بھی قسم کی ہو ۔

البتہ طبی انجکشن جو مریض کو پٹھے کے ذریعہ دیا جاتا ہے کبھی تو یہ انجکشن دوا کے طور پر دیا جاتا ہے اور کبھی یہی انجکشن غذا کا کام دیتا ہے ، اسکا حکم علماء کے نزدیک محل خلاف ہے ، بعض اہل علم یہ عام حکم لگاتے ہیں کہ انجکشن روزہ توڑ دیتا ہے اور بعض کے نزدیک تفصیل ہے [ کہ اگر وہ انجکش غذا کا کام دے رہا ہے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے ورنہ نہیں ] اسلئے اگر روزہ دار انجکشن لینے کو رات تک ٹال دے تو اس میں احتیاط ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دع ما یریبک الی ما لا یریبک ۔ [ سنن الترمذی : 2518 ، سنن النسائی ، ج : 8 ، ص : 328 ، مسند احمد ، ج : 3 ، ص : 239 ، امام ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ]

وہ چیز چھوڑ دو جو شک میں ڈالے اور اس چیز کی طرف آو جس میں کوئی شک نہ ہو ۔

نیز آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : فمن اتقی الشبھات فقد استبرا لدینہ و عرضہ [ صحیح البخاری : 52 ، صحیح الایمان ، مسلم : 1599 ، البیوع ] تو جو شبہ والی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین و عزت کو بچالیا ۔

اور جو شخص ایسا انجکشن لینے کا ضرورت مند ہو غالبا وہ مریض ہوتا ہے جسکے لئے افطار کرنا جائز ہے ، البتہ جہاں تک پیچھے کے راستے سے دست آنے کیلئے دیا گیا انجکشن کا تعلق ہے تو بظاہر اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ وہ غذا نہیں ہے بلکہ پیٹ کی صفائی ہے ۔

ضیق نفس اور دمہ کیلئے لئے گئے اسپرے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ وہ ایک گیس ہے جو معدے میں نہیں جاتی بلکہ سانس کی نالیوں کے ذریعہ پھیپھڑے تک پہنچتی ہے ، اسلئے نہ وہ کھانا ہے اور نہ پینا ، اس طرح سرمہ اور آنکھ میں ڈالے جانے والے قطرے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا خواہ اسکا مزہ حلق میں محسوس ہو یا محسوس نہ ہو ۔

البتہ ناک کا قطرہ جب وہ حلق یا معدہ تک پہنچ جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ ناک معدہ تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے چنانچہ حضرت لقیط بن صبرہ کی حدیث میں ہے کہ [ آپr نے فرمایا ] و بالغ فی الاستنشاق الا ان تکون صائما [ سنن ابو داود : 2366 ، سنن الترمذی : 788 ، سنن النسائی ، ج : 1 ، ص : 66 ، سنن ابن ماجہ ، ج : 1 ، ص : 142 ، وغیرہ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کیا ہے ]

یعنی ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ سے کام لو الا یہ کہ تم روزے سے ہو ۔

اے اللہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرما ، ہمیں دین پر جمے رہنے اور اسکے مطابق عمل کی توفیق بخش اور اس پر ثابت قدم رکھ ، ہمارے لئے جنت کو آسان کر اور جہنم سے بچا ، اور ہمیں دنیا و آخرت میں معاف فرما ۔

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?