مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

عام دروس
147 زائر
22-10-2016 11:12
شيخ مقصود الحسن

سم اللہ الرحمان الرحیم
وفات سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کی ایک اہم وصیت
قسط: 2/2

شبہات کا ازالہ۔
وہ حضرات جو جہالت یا ہواپرستی یا تقلید وغیرہ کے طور پر قبر پرستی اور قبروں پر مساجد و مزارات بنانے کے مرض میں مبتلا ہیں وہ قرآن وحدیث کی ان واضح تعلیمات اور علماء کی تصریحات کے مقابلے میں کچھ شبہات پیش کرتے ہیں اور انہیں دلیل بنا کر پر اپنی قبر پرستی کے لئے جواز پیدا کر رکھا ہے ، ان واضح دلائل کے بعد ایک مومن کے لئے کسی شبہے کی گنجائش تو باقی نہیں رہنی چاہئے اور نہ ہی اللہ ورسول پرایمان لانے والے کے سامنے کسی اور شبہے کی گنجائش رہ جاتی ہے ، لیکن چونکہ بعض لوگ ان شبہات کے ذریعہ اہل توحید سے بحث ومباحثہ کرتے اور اپنی بدعت پر ڈٹے رہنے پر دلیل پکڑتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ انکے پیش کردہ چند اہم شبہات پر ایک نظر ڈال لی جائے ۔
پہلا شبہہ :
اصحاب کہف کا واقعہ: ارشاد باری تعالی ہے : إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا (21)
اس وقت کو یاد کرو جبکہ وہ اپنے امر میں باہم اختلاف کر رہے تھے ، کہنے لگے انکی غار پر ایک عمارت تعمیر کردو ۔ انکا رب ہی انکے حال کو زیادہ جانتا ہے، جن لوگوں نے انکے بارے میں غلبہ پایا وہ کہنے لگے کہ ہم تو انکے آس پاس مسجد بنا لیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ نصاری تھے ، انکے انتقال کے بعد لوگوں کا باہمی اختلاف ہوا ، ان میں سے کچھ لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اس غار یا اسکے قریب کوئی عمارت تعمیر کردی جائے جس سے انکی یادگار باقی رہے اور نشان مٹنے نہ پائے ، لیکن ان میں جو صاحب ثروت اور زبردست قسم کے لوگ تھے انہوں نے کہا کہ ہم انکا مزار تو نہیں بناتے البتہ یہاں ایک مسجد تعمیر کردیتے ہیں ۔
بعض لوگوں کو یہاں یہ شبہہ ہوتا ہے کہ اس قصے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ولیوں اور بزرگوں کی قبروں پر مسجد و عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے،
لیکن متعدد وجوہ سے یہ قصہ دلیل نہیں بن سکتا، جسکی تفصیل درج ذیل ہے۔
اولا- یہ عمل پہلی شریعت کا ہے اور پرانی شریعت ہمارے لئے حجت نہیں ہے ، اور جو اہل علم پچھلی شریعت کو حجت تسلیم کرتے ہیں انکے نزدیک شرط ہے کہ ہماری شریعت کے خلاف نہ ہو ، اور جب ہماری شریعت میں واضح طور پر قبروں پر مسجد اور کسی قسم کی عمارت تعمیر کرنے سے روک دیا گیا حتی کہ قبروں کو قبلہ بنانے کو حرام ٹھہرایا گیا تو اہل کہف کا واقعہ ہمارے لئے کس طرح دلیل بن سکتا ہے؟ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِناً عَلَيْهِ، الآية، المائدة: 48.
اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کر نے والی ہے اور انکی محافظ ہے ۔
اس آیت میں وارد لفظ ” مہیمن” کا معنی محافظ ، امین ، شاہد اور حاکم وغیرہ کیا جاتا ہے ، جسکا مفہوم علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں کوئی حکم ایسا ہے جو پچھلی کتابوں کے خلاف ہے تو فیصلہ اس کتاب کا مانا جائے گا، کیونکہ پچھلی کتابوں میں چونکہ تحریف وتغییر بھی ہوئی ہے اس لئے قرآن کا فیصلہ ناطق ہوگا ، جسکو یہ صحیح قرار دے وہی صحیح ہے باقی باطل ہے۔
ثانیا – انکا مزار بنانے واالے لوگ صاحب علم و تقوی نہ تھے اور نہ ہی مسجد بنانے والے لوگ ہی متقی و پرہیزگار تھے کہ انکا عمل ہمارے لئے حجت بنے ،بلکہ قرآن کے ظاہر سے پتا چلتا ہے کہ عام لوگوں کے خلاف اپنی طاقت ونفوذ کے زور پر وہاں مسجد بنا لی گئی ، اور ایسا اس دنیا میں بہت ہوتا ہے ، چنانچہ جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں اسکے بانی حافظ عبد العزیز کے مزار کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

اصول خرید وفروخت/حدیث:244 - ہفتہ واری دروس word
حقیقی چار میم /حدیث:243 - ہفتہ واری دروس word
احسان بنام حیوان/حدیث:242 - ہفتہ واری دروس word
حلال و حرام جانور/حدیث:241 - ہفتہ واری دروس word
میرا کرنٹ اکاونٹ؟/حدیث:238 - ہفتہ واری دروس word
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?