مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

شرعی وصیت/حدیث:234
1093 زائر
08/01/2014
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :234

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ :6/ ربیع الاول 1435 ھ، م 07،جنوری 2014م

شرعی وصیت

أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَّ حَجَّةِ الْوَدَاعِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ۔

ترجمہ : حضرت ابو امامہ باہلی رضی ا للہ عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالی نے ہر وارث کو اس کا حق دے دیا ہے ، لہذا کسی وارث کے لئے وصیت جائز نہیں ہے ۔

{ مسند احمد ، سنن ابو داود ، سنن الترمذی } ۔

تشریح : لغت میں وصیت کے معنی عہد لینے کے ہیں اور جب شریعت میں وصیت کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد وفات کے بعد کسی کو کچھ دینے یا کسی امر کی ذمہ داری سونپنے کا عہد دینا ہے ، جیسے یہ کہ میرے انتقال کے بعد فلاں کو میرے مال سے اتنا حصہ دے دیا جائے ، یا میری اولاد کی سرپرستی فلاں کے سپرد ہے ، وغیرہ ۔

قرآن مجید کی متعدد آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلمکی متعدد حدیثوں میں "وصیت " کا حکم ، حکمت اور اس کے احکام تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ۔

وصیت کی حکمت :

آیات و احادیث پر نظر رکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وصیت کو اسلام نے بڑی حکمتوں کے پیش نظرمشروع قرار دیا ہے :

[۱] کسی بھی انسان کے انتقال کے بعد اس کی نیکیوں کا سلسلہ تو ختم ہوجاتا ہے لیکن ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کے انتقال کے بعد بھی اس کا نام زندہ رہے ، لوگوں میں اس کا ذکر خیر ہوتا رہے اور اس کے نامہ اعمال میں کچھ نیکیاں جمع ہوتی رہیں ، چنانچہ اس کے لئے اللہ تعالی نے جہاں دیگر ذرائع رکھے ہیں وہیں ایک ذریعہ وصیت بھی ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے وفات کے وقت تمہیں اپنے مال کے ایک تہائی حصہ کو صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ تمہاری نیکیوں میں اضافہ ہوتا رہے ۔

{ مسند احمد ، سنن ابو داود ، بروایت ابو درداء } ۔

[۲] کسی بھی انسان کے تمام اقارب مالدار نہیں ہوتے بلکہ بہت سے محتاج اور ضرورتمند ہوتے ہیں ، لہذا اگر وہ وارث نہیں ہیں تو بطور وصیت ان کو کچھ دیا جاسکتا ہے ، ا س میں صلہ رحمی بھی ہے اور محتاج کی حاجت براری بھی ۔

[۳] کسی بھی معاشرے میں محتاج ، یتیم اور بیوہ افراد کی کثرت ہوتی ہے اور ہر ماحول میں ان کے لئے خیراتی ادارے قائم رہتے ہیں ، ان اداروں کے لئے وصیت کرنا بھی ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرنا ہے ۔

[۴] آج ہمارے ماحول میں دادا کے ترکہ میں پوتے کے حصہ کا ایک بڑا مسئلہ پایا جاتا ہے جو لوگوں کے لئے بڑی الجھن کا سبب ہے ، کیونکہ بیٹے کی موجودگی میں پوتے میراث سے محروم رہتے ہیں ،جبکہ دادا کی جائیداد کا بہت بڑا حصہ اس کے متوفی بیٹے یعنی پوتوں کے باپ کی کاوش کا ثمرہ ہوتا ہے ، لہذا ایسے موقعہ پر دادا وصیت کے ذریعہ پوتوں کو انکا حصہ دے سکتا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

وصیت کے شرائط :

وصیت کی مشروعیت میں کوئی شبہ نہیں ہے بلکہ اس سلسلے میں حدیثیں متواتر ہیں ، البتہ اس کے لئے چند شرطوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے ۔

۱- کسی ایسے شخص کیلئے وصیت جائز نہیں ہے جس کا حصہ اللہ تعالی نے میراث مقرر کردیا ہے ، جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہے ۔جیسے ، بیٹا ، بیٹی اور ماں ، باپ اور بیوی وغیرہ ۔

۲- ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہیں کی جاسکتی ، جیسا کہ ابھی حدیث میں گزرا ، بلکہ بہتر یہ ہے کہ ایک تہائی سے کم مال جیسے چوتھائی یا پانچویں حصہ کی وصیت کی جائے ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد سے فرمایا : اگر وصیت کرنا ہے تو ایک تہائی مال کی وصیت کرو اور تہائی بھی زیادہ ہے ۔

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

۳- وصیت کا مقصد کسی وارث کو ضرر پہنچانا نہ ہو، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے : مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ۔ النساء۔

اور یہ تقسیم میت کی وصیت کی تعمیل یا قرض کی ادائیگی کے بعد ہوگی ، بشرط یہ کہ [ وصیت کی تعمیل اور قرض کی ادائیگی پر ] کسی کو نقصان نہ پہنچ رہا ہو ۔ بایں طور کہ کسی وارث کو محروم کردیا جائے یا کسی کا حصہ گھٹا بڑھا دیا جائے یا وارثوں کو نقصان پہنچانے کیلئے کہہ دے کہ میرے اوپر فلاں کا اتنا قرض ہے ۔ نیز حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ وصیت میں نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے ۔

{ سنن النسائی الکبری :6/320 } ۔

وصیت کا حکم :

اس سلسلے میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وصیت کرنا ایک شرعی حکم ہے ، البتہ حالات و افراد کے لحاظ سے اس کا حکم بدلے گا ، چنانچہ کبھی وصیت واجب ہوگی اور کبھی حرام اس طرح کبھی مستحب ہوگی اور کبھی مکروہ اور کبھی صرف جائز ۔ جس کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے ۔

[۱] واجب : اگر کسی کے اوپر کچھ حقوق ہیں ، خصوصا جب کہ کسی اور کو ان کا علم نہیں ہے یا یہ خطرہ ہے کہ ورثہ میرے بعد ان حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیں گے ،تو ایسی صورت میں وصیت کرنا واجب ہے ، یا معاشرے میں کوئی بری رسم رائج ہے اور ورثہ کے اس میں پڑ جانے کا خطرہ ہے، وغیرہ تو ایسی تمام صورتوں میں وصیت کرنا واجب ہے ۔

[۲] مستحب : وصیت کرنے والا اگر مالدار ہے اور اس کے ورثہ محتاج نہیں ہیں تو ایسی صورت میں وصیت کرنا مستحب ہوگا ، جہاں ایک طرف اس کے لئے صدقہ جاریہ بنے وہیں دوسری طرف غریبوں اور محتاجوں کو مسائل کا حل بھی ۔

[۳] حرام : ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت یا کسی ایسے شخص کو وصیت کرنا جس کا حصہ میراث میں مقرر ہے حرام ہے ، یا کسی وارث کا حصہ کم کرنے یا اسے محروم کرنے کے لئے وصیت کرنا حرام ہے ۔

[۴] مکروہ : ایک شخص فقیر یا چھوٹی جائیداد کا مالک ہے اور اس کے ورثہ بھی محتاج ہیں تو ایسی وصیت مکروہ ہوگی ،کیونکہ اس کے ورثہ اس کے مال کے زیادہ حقدار ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم اپنے ورثہ کو مالدار چھوڑو ،یہ بہتر ہے اس سے کہ انہیں محتاج اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا چھوڑو ۔

{ صحیح بخاری و مسلم ، بروایت سعد بن ابی وقاص } ۔

[۵] جائز : مذکورہ صورتوں کے علاوہ صورتوں میں وصیت جائز ہوگی ، جیسے کوئی شخص زیادہ مال والا تو نہیں ہے ، البتہ اس کے ورثہ محتاج نہیں ہیں بلکہ کھاتے پیتے ہیں تو اس کے لئے وصیت جائز ہے ۔

فوائد :

1) رب العالمین کی اپنے بندوں پر رحمت کہ ان کے لئے موت کےبعد بھی نیکیوں میں اضافہ کا راستہ کھلا رکھا ہے ۔

2) کسی وارث کے لئے وصیت جائز نہیں ہے اور اگر وصیت کی بھی گئی تو وہ باطل قرار پائے گی ۔

3) وصیت میں ظلم اور حد سے تجاوز کرنا بہت بڑا گناہ اور اپنے آپ کو عذاب الہی کے حوالے کرنا ہے ۔

4) شرعی حکم یہ ہے کہ میت کے ترکہ سے سب سے پہلے اس کے قرض و غیرہ ادا کئے جائیں گے ، پھر وصیت نافذ کی جائے گی ، اس کے بعد میراث تقسیم ہوگی ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

عام دروس - خلاصۂ دروس
اصول خرید وفروخت/حدیث:244 - ہفتہ واری دروس word
حقیقی چار میم /حدیث:243 - ہفتہ واری دروس word
احسان بنام حیوان/حدیث:242 - ہفتہ واری دروس word
حلال و حرام جانور/حدیث:241 - ہفتہ واری دروس word
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?