مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المادة

  ...  

عاشوراء کا روزہ/حديث:35
769 زائر
31/12/2013
شيخ ابو کليم فيضي حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحيم

حديث نمبر :35

خلاصہء درس : شيخ ابوکليم فيضي حفظہ اللہ

بتاريخ :07/08/ محرم 1429 ھ، م 15/14، مارچ 2008م

عاشوراء کا روزہ

حضرت ابو قتادہ رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا : ميں اللہ تبارک و تعالي سے اميد رکھتا ہوں کہ عاشوراء کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوگا ۔

محرم الحرام کي دسويں تاريخ کو عاشوراء کہا جاتا ہے ، يہ دن اللہ تعالي کے نزديک بہت ہي فضيلت والا ہے اور اس کي فضيلت بہت پراني ہے ، اس کي فضيلت ہي کے پيش نظر اللہ تعالي نے اس دن کا روزہ مشروع اور اسے ايک سال کے گناہوں کا کفارہ قرار ديا ہے ، اللہ تعالي کي حکمت سے اس دن ميں بہت سے اہم حادثات بھي پيش آئے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ حضرت موسي عليہ السلام کو فرعون اور اس کے ظالم لشکر سے اسي دن نجات ملي تھي ۔

{ صحيح بخاري و صحيح مسلم } ۔

اس کي اہميت کے پيش نظر زمانہ جاہليت ميں بھي اہل مکہ اس دن کا روزہ رکھتے تھے اور ان کے ساتھ اللہ کے رسول صلي اللہ عليہ وسلم بھي عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور نبوت ملنے کے بعد بھي مکہ مکرمہ ميں آپ صلي اللہ عليہ وسلم عاشوراء کا روزہ رکھتےرہے ۔

{ صحيح بخاري و صحيح مسلم عن عائشہ }۔

پھر جب آپ صلي اللہ عليہ وسلم ہجرت کرکے مدينہ منورہ تشريف لائے تو يہاں بھي اس دن کے روزے کا اہتمام کيا ، چنانچہ آپ نے ديکھا کہ مدينہ منورہ کے يہود بھي اس دن کي تعظيم کرتے ہيں ، اس دن کا روزہ رکھتے اور خوشياں مناتے ہيں ، آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے اس کي وجہ دريافت کي تو يہوديوں نے جواب ديا کہ اس دن اللہ تبارک و تعالي نے فرعون اور اس کے لشکر کو سمندر ميں ڈبويا اور حضرت موسي عليہ السلام اور بنو اسرائيل کو اس کے شر سے نجات ديا تھا اس شکريہ ميں حضرت موسي عليہ السلام نے روزہ رکھا تھا اس لئے ہم لوگ بھي اس دن کا روزہ رکھتے ہيں ، آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا : موسي عليہ السلام کي اس خوشي ميں شريک ہونے کے ہم تم سے زيادہ حقدار ہيں ، چنانچہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو بھي اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم ديا ۔

{ صحيح بخاري و صحيح مسلم ، عن ابن عباس } ۔

حتي کہ رمضان المبارک کا روزہ فرض ہونے سے قبل عاشوراء کا روزہ نبي صلي اللہ عليہ وسلمنے مسلمانوں پر فرض قرار ديا تھا اور لوگوں کو اس دن کا روزہ رکھنے کا تاکيدي حکم ديا کرتے تھے ، چنانچہ ايک مشہور صحابي حضرت جابر بن سمرہ بيان کرتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلي اللہ عليہ وسلم ہميں عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم ديتے ، اس پر ابھارتے اور اس پر ہماري نگراني کرتے ، پھر جب رمضان کا روزہ فرض ہوگيا تو آپ نے نہ حکم ديا اور نہ ہي اس پر ہماري نگراني کي ۔

{ مسلم ، احمد : 5/96 } ۔

اس روزہ کا وجوب اگرچہ ختم ہوگيا ليکن اس دن کي فضيلت کے پيش نظر اللہ کے رسول صلي اللہ عليہ وسلم اس دن کے روزے کا خصوصي اہتمام فرماتے تھے ، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضي اللہ عنہما سے عاشوراء کے روزہ سے متعلق پوچھا گيا تو انہوں نے کہا کہ ميں نہيں جانتا کہ اللہ کے رسول صلي اللہ عليہ وسلم فضيلت کے پيش نظر عاشوراء کے علاوہ کسي اور دن کي اتني اہميت ديتے رہے ہوں ۔

اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس دن کي اہميت کو سمجھے ، اس کي فضيلت کو دھيان ميں رکھے اور اس دن کا روزہ رکھنے کي کوشش کرے ، البتہ دسويں تاريخ کے ساتھ نويں تاريخ يا گيارہويں تاريخ کا روزہ بھي ملالے کيونکہ نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم سے جب يہ کہا گيا کہ ہميں يہود اور اس طرح کي دوسري قوموں کي مخالفت کا حکم ہے اور ہم ديکھتے ہيں کہ يہود بھي اس دن کا روزہ رکھتے ہيں ، اس طرح تو ہم ان سے مشابہت کررہے ہيں ، لہذا ہميں کيا کرنا چاہئے ، آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا : تم لوگ عاشوراء کا روزہ رکھو ، يہود کي مخالفت کرو اور اس کے ساتھ ايک دن قبل يا ايک دن بعد کا روزہ بھي رکھو ۔

{ مسند احمد : 1/341 ، عن ابن عباس } ۔

بلکہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے مزيد فرمايا : اگر ميں آئندہ سال زندہ رہا تو اس کے ساتھ 9 محرم کا بھي روزہ رکھوں گا ۔

{ صحيح مسلم عن ابن عباس } ۔

" اس لئے اب دو روزے رکھنے مسنون ہيں :نو اور دس محرم يا دس اور گيارہ محرم کا روزہ " ۔

افسوس کہ آج مسلمان عاشوراء کي حقيقت کو بھول چکے ہيں ، عام مسلمانوں کا يہ تصور ہے کہ عاشوراء کي اہميت و فضيلت حضرت حسين رضي اللہ عنہ کي شہادت کي وجہ سے ہے آج مسلمان اس دن روزہ رکھنے کي سنت پر تو عمل نہيں کرتے ليکن اپني طرف سے گھڑي ہوئي ، بہت سي بدعتوں پر سختي سے عمل کرتے ہيں يا پھر ماتم کي مجلس ميں شريک ہوتے ہيں جو شيعوں کا مخصوص مذہب اور شعار ہے اور اسميں شرکت گناہ کا باعث ہے ۔

فوائد :

1- يوم عاشوراء کي فضيلت اور يہ کہ اسے يہ فضيلت ابتدائے آفرينش ہي سے حاصل ہے ۔

2- عاشوراء کا روزہ بڑي فضيلت کا حامل ہے کہ گزشتہ ايک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔

3- دسويں محرم کے ساتھ 9 محرم يا 11 محرم کا روزہ رکھنا سنت ہے ۔

4- يہود و نصاري اور اسي طرح کي دوسري قوموں کي مخالفت ہمارے دين کا ايک حصہ ہے ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المادة السابق
المواد المتشابهة المادة التالي
...
...

...

جديد المواد

  ...  

سال کا پہلا مہینہ/حدیث:34 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام اور ہم/حدیث:32 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام کی فضیلت/حدیث:31 - موسمی خلاصہ دروس
عظمت صحابہ/حدیث:05 - موسمی خلاصہ دروس
نکاح متعہ /حدیث:204 - موسمی خلاصہ دروس
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?