مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المادة

  ...  

صحابہ کرام اور ہم/حدیث:32
956 زائر
08/11/2013
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :32

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :13/14/ ذوالحجہ 1428 ھ، م 22/21، جنوری 2008م

صحابہ کرام اور ہم

عن أبی سعید رضی اللہ عنہ قال : قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم : لا تسبوا أصحابی فلو أن أحدکم أنفق مثل ذھبا ما بلغ م أحدھم لا نصیفہ

( صحیح بخاری :٣٦٧٣ ، فضائل الصحابہ ، صحیح مسلم : ٢٥٤١ ، فضائل الصحابہ )

ترجمہ : حضرت أبو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو ( انکی عیب جوئی نہ کرو ) کیونکہ اگر تم میں کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کردے تو انکے ایک مد یا آدھا مد وغیرہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا .

تشریح : ایک بار حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کسی بات پر اختلاف رائے ہوگیا جس میں باتوں باتوں کے اند رکچھ تلخی پیدا ہوگئی دوران گفتگو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمان بن عوف کے بارے میں کوئی ایسا سخت جملہ کہہ گئے جو حضرت عبد الرحمن بن عوف جیسے عظیم صحابی کے شان میں گستاخی تھی ، چنانچہ جب یہ خبر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ تو آپ نے حضرت خالد بن ولید پر ناراضگی کا اظہار کیا اور تنبیہ کی کہ یہ میرے خاص ساتھی ہیں جنہوں نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب لوگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا اس وقت مدد کی جب لوگ میرے دشمن بن گئے تھے ، اس وقت مجھ پر خرچ کیا جب لوگوں نے میرا بائیکاٹ کردیا تھا ،اس لئے ان حضرات کو جو مقام اللہ ورسول کے نزدیک حاصل ہے وہ کسی اور کو بھی حاصل نہیں ہوسکتا ، حتی کہ اب اگر کوئی شخص منوں اور ٹنوں سونا خرچ کردے ، احد پہاڑ کے برابر سیم وزر صدقہ کردے تو بھی ان حضرات کے پون کیلو یا آدھا کیلو جو وکھجور کے برابر نہیں ہوسکتا ، کیونکہ اس وقت اسلام ومسلمانوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنا سارے عالم سے دشمنی مول لینی تھی ، اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور کمزور مسلمانوں پر اپنا مال خرچ کرنا جہاں اپنے کو محتاجی کے منہ میں ڈالنا تھا وہیں اپنے معاشرے سے بغاوت کا اعلان بھی تھا ایسے وقت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے اور ان پر خرچ کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس شخص کے دل میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، خلوص وللہیت ہے اور اللہ ورسول کے وعدوں پر اسکا غیر متزلزل ایمان اس قدر جاگزیں ہے کہ دنیا کا کوئی خوف اور کسی بھی قسم کی لالچ اس پر اثر انداز نہیں ہوسکتی ، برخلاف اسکے وہ لوگ جو اس وقت مسلمان ہوئے جب مکہ مکرمہ فتح ہوچکا جسکے نتیجہ میں عرب کی سیادت اب مکہ کے قریش سے ہٹ کر مسلمانوں کے ہاتھ آچکی تھی

فتوحات کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ، مال غنیمت کی وجہ سے مسلمانوں میں فقر وفاقہ کی شدت ختم ہوتی جارہی تھی اور لوگ دین اسلام میں فوج درفوج داخل ہورہے تھے ، سچ فرمایا اللہ تعالی نے : لا یستوی منکم من أنفق قبل الفتح وقاتل أولئک أعظم درجة من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا ....... (الحدید : ١٠ )

جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا وہ لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ اور جہاد کیا بلکہ یہ لوگ ان سے درجات میں بہت بڑے ہیں تاہم اللہ تعالی نے ہر ایک سے اچھا وعدہ کیا ہے او رجو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے سے پور طرح باخبر ہے ۔

اس لئے ایسے سخت وقت میں جن لوگوں نے میرا ( یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ساتھ دیا ہے انکی تعظیم وتکریم کی مد نظر رکھو ، انہیں برا بھلا نہ کہو ۔

٭٭ اس حدیث سے صحابہ کرام کے مقام ومرتبہ کا پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں کسی مقام پر فائز کیا ہے اسلئے انکے بارے میں کسی بھی قسم کی زبان درازی کرنا انکی عیب جوئی میں لگنا ، انہیں برا بھلا کہنا جیسا کہ اپنے کو مسلمان کہلانے والی ایک جماعت کا شیوہ ہے قطعا جائز نہیں ہے بلکہ ایسا شخص سخت وعید کا مستحق ہے ، ایک حدیث میں اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے میرے صحابہ کو برا بھلا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو ، اسکے فرشتوں کی لعنت ہو او رتمام لوگوں کی لعنت ہو ۔

( سلسلہ الصحیحہ للألبانی : ٢٣٤٠ )

اس لئے ایک مؤمن کو چاہئے کہ تمام صحابہ کے بارے میں اپنی زبان کو روکے رکھے انکا نام آنے پر انکے لئے رضی اللہ عنہ کہکر انکے لئے دعاء کرے انکے ساتھ محبت کو دین وشریعت سمجھے اور جہاں انکے آپسی اختلاف کا ذکرآجائے یا انکی کسی غلطی پر نظر پڑ جائے تو اسی وصیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب میرے صحابہ ( اور انکے باہمی اختلاف ) کا ذکر آئے تو رک جائو اور ستاروں ( اور ان میں تاثیر ) کا ذکر ہو تو رک جائو اور جب تقدیر کا مسئلہ چھڑ جائے تو رک جائو ۔

( سلسلة الصحیحہ للألبانی : ٣٤ )

فوائد:

١) سابقین أولین صحابہ کی فضیلت ۔

٢) صحابہ کے عیوب تلاش کرنا انکی نیتوں پر حملہ کرنا جائز نہیں ہے ۔

٣) حالات کے فرق سے عبادات کے ثواب میں فرق پڑتاہے ۔

٤) حضرت عبد الرحمن بن عوف کی فضیلت کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا ساتھی قرار دیا ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المادة السابق
المواد المتشابهة المادة التالي
...
...

...

جديد المواد

  ...  

عاشوراء کا روزہ/حديث:35 - موسمی خلاصہ دروس
سال کا پہلا مہینہ/حدیث:34 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام کی فضیلت/حدیث:31 - موسمی خلاصہ دروس
عظمت صحابہ/حدیث:05 - موسمی خلاصہ دروس
نکاح متعہ /حدیث:204 - موسمی خلاصہ دروس
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?