مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المادة

  ...  

صحابہ کرام کی فضیلت/حدیث:31
849 زائر
08/11/2013
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :31

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :21/22/ ذوالحجہ 1428 ھ، م 01/31، ڈسمبر، جنوری 2007-8م

صحابہ کرام کی فضیلت

عن أبی موسی الأشعری رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : النجوم أمن للسماء فذا ذھبت النجوم أتی السماء ما توعد وأنا أمنة لأصحابی فذا ذھبت أتی أصحابی مایوعدون وأصحابی أمنة لأمتی فذا ذھب أصحابی أتی أمتی مایوعدون ۔

( صحیح مسلم : ٢٥٣١ ، الفضائل ، مسند أحمد : ص:٣٩٩ ، ج: ٤ )

ترجمہ: ابو موسی أشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تاروں کا جسکا وعدہ کیا گیا ہے ، اور میں اپنے صحابہ کیلئے امان ہوں چنانچہ جب میں چلاجاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ حالات گزریں گے جنکا وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کیلئے امان ہیں چنانچہ جب میرے صحابہ ختم ہوجائیں گے تو میری امت پر وہ سب کچھ آئے گا جنکا ان سے وعدہ کیا گیا ہے ۔

تشریح : صحابہ کرام کو اللہ تبارک وتعالی نے بڑا اعلی مقام عطا فرمایا ہے ،انہیں مختلف ایسے فضائل وخصائص سے نوازا ہے جو کسی اور کو حاصل نہیں ہے ، یہی کیا کم ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نے انہیں اپنے نبی کی صحبت ومدد کیلئے منتخب کیا ہے ، درج ذیل حدیث میں انکے ایک اعلی مقام کی طرف اشارہ ہے ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب تک آسمان میں تارے اپنی جگہ موجود ہیں او رحکم الہی سے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اس وقت تک آسمان پر وہ وقت آنے والا نہیں ہے جسکا قرآن مجید میں وعدہ کیا گیا ہے کہ ( قیامت کے دن ) جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب آسمان اللہ تعالی کے ہاتھوں میں لپٹے ہونگے اور جب تارے جھڑجائیں گے انہیں بے نور کردیا جائے گا تو آسمان بھی ٹوٹ پڑے گا اور تباہ وبرباد ہوجائے گا ۔

اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مسعود بھی عمومی طور پر اہل دنیا اور خصوصی طور پر صحابہ کرام کے لئے امان تھا کہ وہ لوگ آپسی اختلاف سے محفوظ تھے ، فتنہ ارتداد نے سرنہ اٹھایا تھا ، لوگوں کے دل آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو فتنہء ارتداد نے بھی سرا ٹھایا ، منکرین زکاة بھی ظاہر ہوئے حتی کہ وقتی طور پر صحابہ میں اختلاف کا مسئلہ کھڑا ہوگیا لیکن صحابہ کرام خصوصا حضرت ابوبکر کی حکمت عملی ، قوت ایمانی اور تدبر نے ان تمام صورت حال سے نپٹ لیا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑے ہوئے مشن کو آپ ہی کے بتلائے ہوئے طریقے پر لیکر آگے بڑھے جسکی وجہ سے مسلمانوں کی افرادی معاشی اور سیاسی قوت میں اضافہ ہوتا رہا دین پھیلتا رہا ، شرک وکفر کے اڈے ڈھائے جاتے رہے سنتین پھیلتی رہیں اور بدعات مٹتی رہیں ، لیکن جیسے جیسے صحابہ اس دنیا سے رخصت ہوتے رہے شرک وبدعات کے لئے راہیں ہموار ہوتی رہیں اور جیسے ہی عہد صحابہ ختم ہوا مسلمانوں کا آپسی اختلاف بڑھ گیا ، اہل ہوا وہوس کی تعداد بڑھنے لگی ، مختلف قسم کی بدعتیں ظاہر ہونے لگیں ۔

اس حدیث مبارک سے صحابہ کرام کی فضیلت واہمیت واضح ہوتی ہے کہ انکی اہمیت اہل دنیا کیلئے ویسی ہی ہے جو اہمیت ستاروں کی آسمان کیلئے ہے کہ بغیر تاروں کے آسمان کی نہ تو زینت ہے اور نہ ہی بغیر تاروں کے وجود کے بقا کی ضمانت بھی نہیں ، بعینہ اسی طرح صحابہ کا وجو د اہل دنیا کیلئے ایک رحمت تھی اور اب بھی انکی اقتداء وپیروی ، انکا احترام واکرام اور ان سے محبت وعقیدت کسی بھی مسلمان کے صحیح العقیدہ اور اہل سنت وجماعت میں سے ہونے کی دلیل ہے ، اور ان پر نقد وقدح اسکے بدعتی اور بدعقیدہ ہونے کی علامت ہے ۔

فوائد :

١) صحابہ کی قدر ومنزلت کی انکی مثال ستاروں جیسی ہے ۔

٢) جس طرح ستاروں کے ذریعہ انسان اپنی منزل کی صحیح سمت معلو م کرلیتا ہے اسی طرح صحابہ کی اقتداء کرکے انسان آخرت کی صحیح منزل معلوم کرسکتا ہے ۔

٣) صحابہ کرام کی عیب جوئی انسان کی بدعتی اور بد عقیدہ ہونے کی دلیل ہے ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المادة السابق
المواد المتشابهة المادة التالي
...
...

...

جديد المواد

  ...  

عاشوراء کا روزہ/حديث:35 - موسمی خلاصہ دروس
سال کا پہلا مہینہ/حدیث:34 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام اور ہم/حدیث:32 - موسمی خلاصہ دروس
عظمت صحابہ/حدیث:05 - موسمی خلاصہ دروس
نکاح متعہ /حدیث:204 - موسمی خلاصہ دروس
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?