مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

الہی آفر/حدیث:26
957 زائر
27/06/2013
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :26

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :02/03/ربیع الاول 1429 ھ، م 11/10، مارچ 2008م

الہی آفر

عن عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي غُفِرَ لَهُ أَوْ قَالَ : فَدَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ ، فَإِنْ هُوَ عَزَمَ فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلاتُهُ

( صحیح البخاری : ١١٥٤ ، التہجد ، السنن الأربعہ ، جامع الأصول : ٢٢٦٠ )

ترجمہ : عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص رات میں بیدار ہواور کروٹ بدلے ، پھر(درج ذیل )الفاظ پڑھ کر مغفرت کی دعا کرے تواسکی دعاء قبول ہوگی پھر نماز پڑھے تو اسکی نماز بھی مقبول ہوگی : : لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ : رَبِّ اغْفِرْ لِي.

تشریح : اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان کا کوئی وقت اور اسکی کوئی بھی حرکت ذکر الہی سے خالی نہ رہے، وہ جہاں کہیں بھی ہو ،جس حالت میں ہو ہر حال میں ذکر الہی میں رطب اللسان رہے ،چنانچہ اللہ تبارک وتعالی اپنے عقل مند بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ .جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے [ ہر حالت میں ]یاد کرتے ہیں ( آل عمران : ١٩١ ) چنانچہ جو شخص اللہ کے ذکرمیں جس قدر زیادہ مشغول ہوگا اللہ تعالی اس سے اتنا ہی زیادہ قریب ہوگا ، اسی امر پر تنبیہ کیلئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں اذکا ر کی طرف رہنمائی کی ہے نیز اس ذکر کے صیغے اسکے وقت اور اہتمام کے پیش نظر اس پر اجر کا بھی وعدہ کیا ہے ، چنانچہ جو ذکر جس قدر عمدہ کلمات پر مشتمل ہوگا جس قدر اخلاص سے ادا کیا جائے گا اور وہ جس قدر مشکل وغفلت کے وقت میں ادا کیا جائے گا اسکا اجر اسی قدر زیادہ ہوگا ۔

زیر بحث حدیث میں بھی ایسے ہی ایک ذکر کا بیان ہے جو اگر چہ دیکھنے میں چند مختصر کلمات پر مشتمل ہے لیکن اسکے اہتمام کرنے والے کو دو بڑے اہم انعام کا وعدہ دیا گیا ہے :

(١) اگر وہ شخص اپنے گناہوں کی معافی چاہے، یا کسی اور قسم کی دعا کرے تواسکی دعا قبول ہوگی ۔

(٢) اگر وہ بندہ اٹھکر نماز پڑھ لیتا ہے تو اسکی اس نماز کو بارگاہ الہی میں شرف قبولیت حاصل ہوگا اور وہ شخص رحمان کے ان مبارک بندوں میں شمار ہوگا جن سے متعلق اسکا فرمان ہے کہ

''ا نما یتقبل اللہ من المتقین '' ( اللہ تعالی تو صرف پرہیز گاروں ہی کے عمل کو قبول کرتا ہے ) اور یہ قوی امید ہے کہ اللہ تعالی جسکی ایک نیکی بھی قبول کرلیگا اسے ضرور معاف کردیگا ۔اسی لئے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ میری تمنا ہے کہ اللہ تعالی میرا ایک سجدہ ہی قبول کرلے

( الفتح ، ج : ٢ ، ص: ٤١ )

کیونکہ أولا : جس وقت میں ان کلمات کے ورد کا ذکر ہے وہ غفلت اور لاپرواہی کا وقت ہے، اس وقت انسان پر نیند کا خمار سوار رہتا ہے ، ایسے وقت میں انگڑائیاں لینے کے علاوہ اسے کچھ اور یاد نہیں آتا، بلکہ اکثر لوگ ایسے وقت میں نفسیاتی طور پر نہ تو کسی ذکر کیلئے مستعد رہتے ہیں اور نہ ہی کوئی ذکر پڑھنا انہیں یاد رہتا ہے ، اب اگر ایسے وقت میں کسی کو یہ توفیق حاصل ہوجائے تو اسکا مطلب ہے کہ وہ شخص ہر حال میں اپنے منعم حقیقی کو یاد رکھتا ہے، اسی لئے اسے ایسے غفلت کے وقت میں بھی ذکر الہی کی توفیق مل رہی ہے ، امام بخاری کے شاگر د علامہ ابو عبد اللہ فربری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ایک رات میں سونے سے بیدار ہوا میری زبان پر فورا یہ کلمات جاری ہوگئے اور پھر میں سوگیا اس درمیان خواب دیکھتا ہوں کہ ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ '' وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ (24) '' یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پاکیزہ بات کی رہنمائی کردی گئی اور قابل صد تعریف راہ کی ہدایت کردی گئی

( فتح الباری ، ج : ٣ ، ص: ٤١ )

گویا اس شخص کو جنت کی بشارت دی گئی۔

ثانیا : یہ ذکر جن کلمات پر مشتمل ہے وہ معنی ومفہوم کے لحاظ سے پاکیزہ ترین کلمات ہیں ، ان کلمات میں اللہ تعالی کی توحید بھی ہے ، توصیف بھی ، اسکی تنزیہ بھی ہے اور تمجید بھی ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد حدیثوں میں "لا الہ الا اللہ" کو سب سے افضل ذکر قرار دیا ہے او ر " سبحان اللہ والحمد للہ ولا لہ لا اللہ اور اللہ اکبر" کوسب سے افضل کلمات قرار دیا ہے، اسی طرح

" لا حول ولا قوة لا باللہ "کو جنت کا خزانہ بتلایا ہے ۔

اس لئے جو انسان اس غفلت کے وقت میں جب ساری دنیا بے خبر سورہی ہے اور ہر طرف ہو کا عالم ہے ،اگر اپنے رب کو یاد کرنا ہے اور ایسے کلمات سے یاد کرتا ہے جو اسکے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وپسندیدہ ہیں تو وہ رحم وکرم کرنے والا رب اسے اپنی قربت سے کیوں نہ نوازے گا؟ یقینا نوازے گا اور اسے اپنا مقبول ترین بندہ قرار دیگا ۔

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنکی زبان پر یہ کلمات جاری ہوں ،اے اللہ ہمیں ایسے ہی لوگوں میں شامل فرما ( آمین )

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

عام دروس - خلاصۂ دروس
اصول خرید وفروخت/حدیث:244 - ہفتہ واری دروس word
حقیقی چار میم /حدیث:243 - ہفتہ واری دروس word
احسان بنام حیوان/حدیث:242 - ہفتہ واری دروس word
حلال و حرام جانور/حدیث:241 - ہفتہ واری دروس word
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?