مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المادة

  ...  

عظمت صحابہ/حدیث:05
1242 زائر
01/01/2013
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :05

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :14/15/ ربیع الاول 1428 ھ، م 03/02،اپریل 2007م

عظمت صحابہ

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم ( لا تسبوا أصحابي فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه )

(صحيح البخاري:3673 فضائل الصحابة، صحيح مسلم:2541فضائل الصحابة.)

ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو ، کیونکہ اگر تم میں کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا ۔

{ بخاری و مسلم } ۔

تشریح : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں دعوت توحید پیش کی تو عمومی طور پر لوگوں نے آپ کی دعوت کو رد کردیا البتہ کچھ نیک دل اور سنجیدہ لوگوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور ہر سکھ دکحھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ، قرآن و حدیث میں ایسے لوگوں کو " السابقون الاولون " کے لقب سے گیا ہے ، یعنی وہ لوگ پہلے پہل اسلام لائے، انہی لوگوں میں وہ دس صحابہ بھی ہیں جنہیں عشرہ مبشرین کہا جاتا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان اصحاب کا خاص خیال رکھتے ان کی خدمات کا اعتراف فرماتے اور ان کے بارے میں کوئی نازیبا بات سننا گوار نہ کرتے تھے ، چنانچہ ایک بار حضرت عبد الرحمن بن عوف جو سابقین اولین اور عشرہ مبشرین میں سے ہیں اور خالد بن الولید جو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہوئے دونوں کے درمیان کسی معاملہ میں تکرار ہوگئی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی ایسی بات کہہ دی جو ان کے مقام و مرتبہ کے خلاف تھی ، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ان کے مقام و مرتبہ کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اے خالد ! یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس وقت اللہ کے رسول کی خدمت ، اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کی طرف سے دفاع ، اور اللہ اور اسکے رسول کے دشمنوں سے قتال کیا اور دین کی خدمت کے لئے اپنا سب کچھ خرچ کردیا، جس وقت کہ اسلام اجنبیت کی حالت میں تھا ، اسلام اور اہل اسلام بڑی مشکلات کا سامنا کررہے تھے حتی کہ ان لوگوں کو دین کے لئے اپنا مال و دولت اور وطن عزیز چھوڑدینا پڑا، تم لوگ ان کا مقابلہ کس طرح کرسکتے ہو ، اس لئے تمہارے لئے قطعا مناسب نہیں ہے کہ ان کی عیب جوئی کرو ، انہیں برا بھلا کہو اور نہ ہی تمہارے لئے یہ جائز ہے کہ ان کی شان میں گستاخی کرو ، بلکہ ان کی لغزشوں پر پردہ ڈالو اور ان کے عذر کو قبول کرو ، بلکہ تم اور تمہارے بعد آنے والے لوگ پہاڑوں کے برابر سونا خرچ کردیں تو بھی ان لوگوں کے کیلو جو اور گیہوں کے برابر بھی نہیں ہوسکتا ، خود اللہ تعالی نے اس کی تصدیق میں اس طرح فرمایا کہ :

لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا۔الحدید:11.

" تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ [ دوسروں کے ] برابر نہیں بلکہ ان سے بہت بڑے درجہ کے ہیں " ۔

یہ فرما کر اللہ تعالی نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ صحابہ کا مقام عام لوگوں جیسا نہیں ہے اور نہ عام لوگوں کے معیار پر صحابہ کو پرکھا جائے گا بلکہ اللہ تعالی اور رسول اللہ کے نزدیک ان کا ایک مقام ہے، وہ اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے ہیں ، اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی کی صحبت ، ان کی مدد اور ان کی تعلیم کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے ان کا انتخاب کیا ہے ، لہذا انہیں برا بھلا کہنا ، ان کی عیب جوئی کرنا ، ان کی غلطیوں اور بشری لغزشوں کو اچھالنا اور انہیں حدیث مجالس بنانا کسی بھی طرح جائز نہیں ہے ۔۔۔ اسی چیز کو مزید قوت دینے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

أكرموا أصحابي فإنهم خياركم۔

{ مصنف عبد الرزاق :341/ 11 – النسائی الکبری عن عمر } ۔

" میرے صحابہ کی تکریم کرو [ اور ان کے مقام کو پہچانو ] کیونکہ وہ تم میں سب سے بہتر ہیں " ۔

اور ایک حدیث میں فرمایا : إذا ذكر أصحابي فأمسكوا، الحديث.

{ الطبرانی الکبیر عن ابن مسعود – الصحیحہ : 34 } ۔

"جب میرے صحابہ کا ذکر ہو تو رک جاو " ۔

سچ فرمایا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ اللہ تعالی نے بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو سب سے بہتر دل پایا لہذا اپنی رسالت کے لئے اس کا انتخاب کرلیا ، پھر [ انبیاء کے علاوہ ] بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا تو اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے دل کو تمام دلوں میں سب سے بہتر پایا ، لہذا اپنے پیارے نبی کی صحبت کے لئے ان کا انتخاب کرلیا ، چنانچہ انہیں اپنے نبی کا معین و مددگار بنایا جو نبی کے لائے ہوئے دین کے لئے جہاد کرتے رہے ۔

مسند احمد۔

فوائد :

۱- صحابہ کرام کی فضیلت اور ان کی عظمت ۔

۲- صحابہ کی زندگی ہر قسم کے نقد سے بالا تر ہے کیونکہ ان پر تنقید کا معنی یہ ہے کہ شریعت کی ساری بنیاد ڈہہ جائے گی ۔

۳- صحابہ سے محبت اور ان کی خدمات کا اعتراف ضروری ہے ۔

۴- بعد کے لوگ خواہ کتنے ہی نیک ہوجائیں وہ صحابہ کے مقام کو پہنچ نہیں سکتے رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المادة السابق
المواد المتشابهة المادة التالي
...
...

...

جديد المواد

  ...  

عاشوراء کا روزہ/حديث:35 - موسمی خلاصہ دروس
سال کا پہلا مہینہ/حدیث:34 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام اور ہم/حدیث:32 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام کی فضیلت/حدیث:31 - موسمی خلاصہ دروس
نکاح متعہ /حدیث:204 - موسمی خلاصہ دروس
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?