مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

قربانی اور عقیقہ/حدیث:230
1538 زائر
16/10/2012
شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :230

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :29/30/ ذو القعدہ 1433 ھ، م 16/15،اکٹوبر 2012م

قربانی اور عقیقہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا.

( صحيح البخاري:5233 الأضاحي، صحيح مسلم:1962 الأضاحي )

ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگوں والے چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی ، آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ، [ ذبح کرتے وقت ] بسم اللہ واللہ اکبر پڑھا اور اپنا پاوں ان کی گردن پر رکھا ۔

{ صحیح بخاری ومسلم } ۔

تشریح : ایک اور حدیث میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس طرح نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی میں دو مینڈھے ذبح کئے جو سینگوں والے ، خصی اور چتکبرے تھے، جب آپ نے انہیں قبلہ رخ لٹایا تو یہ دعا پڑھی :

إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ».

("سنن ابو داود:2795، سنن ابن ماجة:3121.)

{نوٹ: قربانی کرنے والا عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ کی جگہ اپنا نام یا جس کی طرف سے ذبح کررہا ہے اس کا نام ذکر کرے گا ۔}

ایک تیسری حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ایک مینڈھا لایا جائے جو سینگ و الا تھا جس کے پیر کالے تھے ، آنکھیں کالی تھیں اور سینہ و پیٹ بھی کالا تھا ، چنانچہ وہ لایا گیا تو آپ نے اس کی قربانی کی ، جب وہ لایا گیا تو آپ نے فرمایا : عائشہ چھری لاو ، اسے پتھر پر تیز کرو ، حضرت عائشہ نے چھری تیز کرکے دی ، آپ نے اس مینڈھے کو پکڑا ، اسے لٹایا اور ذبح کرتے ہوئے یہ دعا پڑھی : بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ».پھر قربانی کے طور پر اسے ذبح کردیا "۔

{ صحیح مسلم : 1967 خ سنن ابو داود : 2792 }۔

ان حدیثوں سے قربانی اور اس کے جانور سے متعلق درج ذیل رہنمائی ملتی ہے ۔

[۱] قربانی اصل میں زندوں کی طرف سے مشروع ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اپنی طرف سے اور اپنے اہل بیت کی طرف سے قربانی کرتے تھے لہذا بعض لوگوں کا اپنی طرف سے قربانی نہ کرکے مردوں کی طرف سے قربانی کرنا خلاف سنت ہے، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اپنی قربانی کے اجر میں جس کو چاہے شریک کرے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہے

[۲] مردوں کی طرف سے مستقل قربانی کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟

اس سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، البتہ راجح قول یہ ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کی نیت سے قربانی کی جاسکتی ہے ، امام ابن تیمیہ ، سعودیہ کے دائمی کمیٹی اور بہت سے علماء اہل حدیث کا یہی مسلک ہے ، کیونکہ قربانی مالی عبادت ہے اور مالی عبادت کا ثواب میت کو پہنچتا ہے ۔ واللہ اعلم ۔

البتہ ضروری ہے کہ میت کی طرف سے قربانی کرنے والا پہلے اپنی طرف سے اور اپنے اہل بیت کی طرف سے قربانی کرے پھر اگر چاہے تو میت کی طرف سے قربانی دے سکتا ہے ، البتہ اگر میت وصیت کرکے جارہا ہے اور اس کے لئے کوئی وقف چھوڑ کر جارہا ہے تو اس کی طرف سے قربانی واجب ہوگی ۔

[۳] بہت سے لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتےہیں ، یہ عمل بھی بلا دلیل اور صحابہ و علماء کے خلاف ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع اور آپ پر کثرت درود وسلام ہی ہمارے لئے کافی ہے ۔

[۴]قربانی کے لئے نر جانور مادہ کے مقابلہ میں افضل ہے ،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نر جانور ہی کی قربانی کی ہے ، البتہ مادہ جانور کی قربانی بالاتفاق جائز ہے ۔

[۵] قربانی کا جانور دیکھنے میں جاذب نظر ، صحت میں اچھا اور رنگ میں عمدہ ہونا چاہئے، کیونکہ قربانی کا جانور بھی اللہ کے شعائر میں داخل ہے اور ارشاد باری تعالی ہے : ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (32)الحج۔ " جوا للہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے یہ اس کے دل کی پرہیز گاری کی علامت ہے " ۔

[۶] جو شخص ذبح کرنا جانتا ہے مرد ہو یا عورت اسے اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرنا ہے ،کیونکہ قربانی کرنا عبادت اور تقرب الہی کا ذریعہ ہے ، امام بخاری نقل فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ اپنی بیٹیوں کو حکم دیتے تھے کہ وہ اپنے ہاتھ سے ذبح کریں ، البتہ جو شخص ذبح کرنا نہ جانتا ہو یا اچھی طرح سے ذبح نہ کرسکتا ہے وہ کسی بھی قابل اعتماد و مسلمان کی خدمت لے سکتا ہے ۔

[۷] ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری ہے اور ذبیحہ حلال ہونے کے لئے شرط ہے کہ حتی کہ بہت سے علماء کا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص بھول کر بھی بسم اللہ پڑھنا چھوڑ دے تب بھی اس کا ذبیحہ حلال نہ ہوگا ، البتہ حدیث میں مذکورہ دعا کا باقی حصہ سنت اور مستحب ہے ۔

[۸] قربانی ایک مستقل عبادت ہے اس میں کسی دوسری عبادت کو داخل کرنا بلا دلیل ہے ، جس طرح کہ بہت سے لوگ قربانی میں عقیقہ کو شامل کرلیتے ہیں ،کیونکہ راحج قول یہ ہے کہ قربانی کی طرح عقیقہ میں سات حصے نہیں ہوتے ۔

[۹] جس شخص کا عقیقہ نہ بھی ہوا ہو اگر وہ صاحب استطاعت ہے تو اس کے لئے قربانی مشروع اور سنت موکدہ ہے ، عقیقہ سے ا سکی مشروعیت کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

[۱۰] ہر صاحب خانہ پر سال میں ایک قربانی مشروع اور یہی قربانی تمام اہل خانہ کو طرف سے کافی ہے ، البتہ یہ نظریہ کہ ایک سال گھر کے فلاں فرد کی طرف سے اور دوسرے سال فلاں کی طرف سے ، یہ غیر شرعی طریقہ ہے ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

شیطانی وسوسے /حدیث:245 - ہفتہ واری دروس word
حديث نمبر :245 - ہفتہ واری دروس word
مشتبہ ذبیحہ/حدیث:240 - ہفتہ واری دروس word
ذبح کے طریقے/حدیث:239 - ہفتہ واری دروس word
حج میں قصر/حدیث:231 - ہفتہ واری دروس word
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?