مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

شعبان المعظم : سنتیں اور بدعتیں۔قسط:1
1777 زائر
25/06/2012
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شعبان المعظم : سنتیں اور بدعتیں۔

قسط: 1/2

مرتب : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

مقدمہ:

ارشاد باری تعالی ہے : وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (153) ۔الانعام:153

اور یہ دین میرا سیدھا راستہ ہےجو مستقیم ہے ،سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں ہر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی ، اس کا تم کو اللہ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۔ الشوری:13۔

اللہ تعالی نے تمھارے لئے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح علیہ السلام کوحکم دیا تھا، اور جو بذریعہ وحی ہم نے آپ کی طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسی اور عیسی علیہم السلام کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا ۔

ان دونوں آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہر کلمہ گو کو اس بات کا مکلف بنایا گیا ہے کہ وہ صراط مستقیم کو لازم پکڑے اور اس سے ذرہ برابر بھی ادھر ادھر نہ ہو ، یہی راستہ انبیا٫ علیہم السلام کا بھی رہا ہے اور اسی پر چلنا انسان کی حسن عاقبت کے لئے ضمانت ہے، اور اس راستے سے ذرہ برابر دائیں بائیں ہونا اس کی ہلاکت کا سبب ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی چیز کو ایک مثال سے سمجھایا ہے ، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط کھینچا اور فرمایا : "یہ اللہ کا راستہ ہے" پھر اس خط کے دائیں بائیں کچھ خط کھینچے اور فرمایا : ان راستوں میں سے ہر راستے پر ایک شیطان بیٹھا ہے اور اس کی طرف بلا رہا ہے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (153)

ان ٓیات واحادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ خواہ وہ دیکھنے میں کتنا ہی اچھا لگے گمراہی کا راستہ ہے ،اسی چیز کو شریعت کی اصطلاح میں بدعت سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ سب کو معلوم ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے ، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبہ جمعہ میں اسی بات پر توجہ دلاتے ہوئے فرماتے تھے: إن أصدق الحديث كتاب الله وأحسن الهدى هدى محمد صلى الله عليه وسلم وشر الأمور محدثاتها وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة (وكل ضلالة في النار).

صحیح مسلم:867 الجمعہ سنن ابن ماجہ: 45 المقدمہ، سنن النسائی :1579 العیدین بروایت جابر۔

سب سے عمدہ بات کلام الہی ہے اور سب سے عمدہ طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور سب سے برے کام نئے ایجاد کردہ ہیں (جو بدعت ہیں) اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں جانے کا ذریعہ ہے۔

ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے: ( من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد )

صحیح مسلم: 1718 الاقضیۃ ، بروایت عائشہ۔

جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے حکم کے مطابق نہیں ہے تو وہ گمراہی ہے۔

حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسالے کو اور بھی واضح کردیا تھا چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر ایک خطبے میں فرمایا: قد يئس الشيطان بأن يعبد بأرضكم و لكنه رضي أن يطاع فيما سوى ذلك مما تحاقرون من أعمالكم فاحذروا يا أيها الناس إني قد تركت فيكم ما إن اعتصمتم به فلن تضلوا أبدا : كتاب الله و سنة نبيه صلى الله عليه و سلم.

مستدرک الحاکم1/93، دیکھئے صحیح الترغیب1/124.125۔

شیطان اس بات سے تو ناامید ہو گیا ہے کہ جزیرہ عرب میں اسکی عبادت کی جائے ،البتہ اس کےعلاوہ تمہارے بعض ان امور میں اپنی اطاعت پر راضی ہے جسے تم حقیر سمجھتے ہو، لہذا اس سے ہشیار رہنا ، یاد رکھو میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی بھی گمراہ نہ ہو گے : اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔

معلوم رہےکہ سنت کا راستہ بالکل واضح اور روشن ہے اور اس ہٹ کر شیطان کے راستے پر چل پڑنا ہلاکت کا ہم معنی ہے، ارشاد نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم ہے : قد تركتكم على البيضاء ليلها كنهارها لا يزيغ عنها بعدي الا هالك۔

السنۃ لابن ابی عاصم: 48، مسند احمد2/126 سن ابن ماجہ: 43 المقدمہ بروایت عرباض۔

میں تم لوگوں کو ایسی شاہراہ پر چھوڑ رہا ہوں جس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں ،اس سے وہی شخص بھٹکے گا جو گمراہ ہونے والا ہے۔

مشہور صحابی رسول حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگردوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: ہر ایسی عبادت جس کا اہتمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نہیں کرتے تھے تم لوگ بھی اس پر عمل نہ کرو، اس لئے کہ تم سے پہلوں نے س بارے میں کسی بات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے ، لہذا اے قاریوں کی جماعت( طالب علمو ) اپنے سے ماقبل بزرگوں ( صحابہ ) کے طریقے ہی کو اپناو۔ البدع لابن وضاح۔

اس وضاحت کے بعد جو شخص بھی بدعت کی طرف مائل ہو بلا شبہ وہ ہلاکت وبربادی کی راہ پر ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے اس اہتمام کے باوجود اس امت کے ایک بڑے گروہ نے نبیصلی اللہ علیہ وسلم کی ان تمام تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا اور طرح طرح کی بدعات وخرافات میں اس طرح مبتلا ہو گئے کہ ان کے درمیان سے ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں ناپید ہوتی جا رہی ہیں ، جیسا کہ اس کی پیشین گوئی خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دی ہے: مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَةً إِلَّا رُفِعَ مِثْلُهَا مِنْ السُّنَّةِ فَتَمَسُّكٌ بِسُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ إِحْدَاثِ بِدْعَةٍ.

مسند احمد4/105، الطبراني الكبير8/99 بروايت غضيب بن الحارث.

جب کوئی قوم بدعت ایجاد کرتی ہے تو اس کےعوض ان سے ایک سنت چھین لی جاتی ہے، اس لئے سنت پر جمے رہنا بدعت ایجاد کرنے سےبہتر ہے۔

اس کی سب سے واضح مثال شعبان کا مہینہ ہے کہ اس مبارک ماہ کے مشروع کاموں کو تو عمومی طور پر لوگوں نے ترک کردیا ہے اور ان کے عوض متعدد بدعتیں رائج ہو گئی ہیں ، ذیل میں اس ماہ کی سنتوں اور بعض بدعتوں کی وضاحت کی جاتی ہے۔

شعبان کا مہینہ اور اور اس میں مشروع کام۔

ماہ شعبان کا ایک مبارک مہینہ ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین اس ماہ کا خصوصی اہتمام کرتے تھے، اس کی فضیلت میں متعدد صحیح حدیثیں وارد ہیں:

1—حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا شروع کردیتے تو ہم سمجھتے کہ اب آپ افطار نہ کریں گے اور جب کبھی افطار کرنا شروع کردیتے تو ہم سمجھتے کہ اب اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ ہی نہ رکھیں گے ، نیز ہم نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کا پورا روزہ رکھا ہو ، اور آپ کو جتنا ہم نے ماہ شعبان میں روزہ رکھتے دیکھا اتنا روزہ رکھتے کسی اور ماہ میں نہیں دیکھا۔

صحیح البخاری:1969 الصوم، صحیح مسلم:1156 الصوم۔

2—حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی عادت مبارکہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھآ کہ آپ شعبان ورمضان کے علاوہ کسی دوماہ کا روزہ لگاتار رکھتے ہوں۔

سنن الترمذی:736 الصوم، سنن ابوداود:2336الصوم، سنن النسائی4/200۔

3—نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا شروع کردیتے تو پھر افطارنہ کرتے حتی کہ ہمیں یہ شبہ ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سال افطار کرنے کا ارادہ نہیں ہے، پھر جب افطار کردیتے ےتو افطار ہی کئے رہتے حتی کہ ہم یہ خیال کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب اس سال روزہ ہی نہ رکھیں گے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو [نفلی روزہ] سب سے زیادہ شعبان کے ماہ میں محبوب تھا۔

مسند احمد3/229، الطبرانی الاوسط5/385 رقم:4763۔

ان حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے ماہ میں بکثرت روزہ رکھتے تھے بلکہ بعض صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار پورے شعبان کا روزہ رکھتے تھے، چنانچہ حضرات عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی ایک روایت میں ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفلی روزہ شعبان سے زیادہ کسی اور ماہ میں روزے نہیں رکھتے تھے حتی کہ شعبان کے پورے ماہ کا روزہ رکھتے تھے۔

صحیح البخاری:1970الصوم، صحیح مسلم: 1156 الصوم۔

اب یہاں یہ سول پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ میں نفلی روزے کا اس کثرت سے جو اہتمام کرتے تھے اس کی کیا وجہ تھی؟ اس سلسلےمیں وارد بعض حدیثوں میں اس کی وضاحت ملتی ہے، چنانچہ حب ابن حب رسول حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان میں بکثرت روزہ رکھتے ہیں تو میں نے سوال کیا کہ اے رسول اللہ جس قدر کثرت سے روزہ آپ شعبان میں رکھتے ہیں کسی اور ماہ میں نہیں رکھتے، اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا: ذاك شهر يغفل الناس عنه بين رجب ورمضان وهو شهر يرفع فيه الأعمال إلى رب العالمين فأحب ان يرفع عملي وأنا صائم.

مسند احمد5/201، سنن النسائي4/201.

یہ وہ ماہ ہےکہ جس میں لوگ رجب ورمضان کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے عبادت میں غفلت برتتے ہیں، حالانکہ اس ماہ میں اعمال اللہ تعالی کے حضور پیش کئے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میرے اعمال اللہ تعالی کے حضور پیش ہوں تو میں اس وقت روزے سے رہوں۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس ماہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت روزہ رکھنے کی دو اہم وجہیں تھیں ۔

ا— لوگوں کی غفلت۔

ب— اور اس ماہ میں نامہ اعمال کی پیشی۔

اگر غور کیا جائے تو یہ دونوں چیزیں ہی قابل لحاظ ہیں۔

پہلی وجہ:

چونکہ لوگ ماہ رجب کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں کیونکہ وہ حرمت والے مہینوں میں کا ایک ہے،اور رمضان المبارک کا اہتمام کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کا روزہ فرض اور اس کی فضیلت بہت زیادہ ہے ، اور شعبان میں عبادت سے غافل ہو جاتے ہیں ، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ایسے وقت میں اللہ کو یاد کروں جب لوگ اس کے ذکر سے غافل ہوں کیونکہ کسی بھی ایسے وقت میں جس میں لوگ عبادت یا ذکر الہی سے غافل ہوں ، ذکر الہی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ تہجد کی نماز تمام نمازوں سب سے افضل ہے، بازار میں ذکر الہی کی بڑی فضیلت ہے، صحراء میں اذان دےکر نماز پڑھنے کی بڑی اہمیت وارد ہے، وغیرہ وغیرہ۔

لوگوں کی غفلت کے اوقات وایام میں ذکر الہی کے افضل ہونے کے تین اسباب کا ذکر امام ابن رجب رحمہ اللہ نے کیا ہے:

ا—ایسا عمل عمومی طور پر پوشیدہ ہوتا ہے اور پوشیدہ عمل اللہ تعالی کو بہت پسند پے۔

ب—ایسا عمل نفس انسانی ہر بھاری پڑتا ہے اور بندہ جو عمل خیر نفس کی مخالفت میں اللہ کے لئے کرتا ہے وہ عمل اللہ کو بہت پسند ہے۔ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى (40) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى (41)النازعات۔

ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔

ج—غافل اور معصیت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے درمیان عبادت میں مشغولیت ان لوگوں پرسے عذاب الہی کے ٹلنے کا سب بنتا ہے۔

لطائف المعارف ص:252،255۔

دوسری وجہ۔

کسی بھی نیک عمل پر خاتمہ کی بڑی اہمیت ہے اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اہتمام فرماتےتھے اور اپنی امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ بھی اس کا اہتمام کریں ، یہی وجہ کہ جس کا خاتمہ کسی نیک عمل پر ہو گا اس کا حسن خاتمہ سمجھا جائے گا، چنانچہ ارشاد نبوی ہے: ۔ من كان آخر كلامه لا إله إلا الله وجبت له الجنة .

مسند احمد5/233، سنن ابوداود:2116، الجنائز.

اس دنیا سے رخصتی کے وقت جس کی آخری بات "لا الہ الا اللہ " ہوگی وہ جنت میں داخل ہوگا۔

اس ماہ کے مشروع کام ۔

اب ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس ماہ کے مشروع کام کیا ہیں، تاکہ راہ سنت پر چلنے کا خواہشمند مسلمان انہیں اپنے لئے زاد راہ بنا سکے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں اور علمائے حق کے بیان سے جو کچھ ہم نے سمجھا ہے وہ یہ ہے۔

1—روزہ۔

اس ماہ کا سب سے اہم کام نفلی روزے ہیں ، جیسا کہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے، البتہ یہ واضح رہے کہ عام لوگوں کے لئے جولوگ عام دنوں میں روزہ نہیں رکھتے اور نہ وہ پیر اور جمعرات وغیرہ دنوں میں روزہ رکھنے کے عادی ہیں، نصف شعبان کے بعد ان کے لئے روزہ رکھنا بہتر نہیں ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: " إذا انتصف شعبان فلا تصوموا.

سنن ابوداود:2337 الصوم، سنن الترمذي:738 الصوم، سنن ابن ماجة: 1651 الصوم برايت ابو هريرة.

جب شعبان نصف کو پہنچ جائے تو روزہ نہ رکھو۔

شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اولا رمضان المبارک کی لئے قوت وتوانائی باقی رہے، ثانیا اس شبہے سے بچے رہیں کہ ایسا رمضان کے استقبال میں کیا جارہا ہے۔

سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

پرچہ سوالات - اسلامي مـقـالات
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?