مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المادة

  ...  

نکاح متعہ /حدیث:204
767 زائر
07/03/2012
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :204

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ :13/12/ ربیع الثانی 1433 ھ، م 6/5،مارچ2012م


نکاح متعہ

عن سبرة بن معبد الجهني ؛ أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - نهى عن المتعة. وقال: ألا إنها حرام من يومكم هذا إلى يوم القيامة. ومن كان أعطى شيئا فلا يأخذه».

{ صحیح مسلم ،1406سنن النسائی الکبری3/327 و صحیح ابن حبان:4138/6/242 } ۔

ترجمہ : حضرت سبرہ بن معبد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع فرمایا اور فرمایا: یاد رکھو ، یہ نکاح آج کے دن سے قیامت تک کے لئے حرام ہے ، اور جس شخص نے [ نکاح متعہ کرنے کے لئے کسی عورت کو ] کچھ دیا ہے اسے واپس نہ لے ۔

{ صحیح مسلم ، سنن النسائی الکبری و صحیح ابن حبان } ۔

تشریح : نسل انسانی کی بقا، خلافت ارضی کے استمرار ،جنسی ضرورت کی تسکین ، ایک پرامن اور مہذب معاشرے کی تشکیل اور شخصی زندگی میں سکون و اطمینان کے لئے اللہ تبارک وتعالی نے رشتہ ازدواجیت کو پیدا فرمایا ہے اور اس کی اہمیت وضرورت کے پیش نظر اسے ایک مقدس رشتہ قرار دیا ہے جس کے حصول کا اہتمام کرنے والے کے لئے خصوصی مدد کا وعدہ فرمایا اور اس کے ساتھ کھیل اور مذاق کرنے والوں کو سخت وعید سنائی ہے ، اسلام کا اصول نکاح یہ ہے کہ بندہ صرف جنسی ضرورت پورا کرنے کی نیت سے نکاح نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نسل انسانی کے استمرار اور اپنے لئے کسی نیک اولاد اور ایک نیک و پرامن معاشرہ کی تشکیل کی بھی نیت ہو ، جیسا کہ قرآن مجید کی آیتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادیث اس پر دال ہیں ،فَالآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُواْ مَا كَتَبَ اللّهُ لَكُمْ[ البقرہ :187] " سو اب تم ان سے مباشرت کرسکتے ہو اور جو کچھ اللہ تعالی نے تمہارے لئے مقدر کر رکھا ہے {نیک اولاد } اسے طلب کرو ،نیز فرمایا: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً

" اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لئے بیویاں پیدا کیں تا کہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی ۔ لیکن چونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے لہذا وہ اسے ہر میدان میں اللہ خالق کائنات کے راستے سے بہکاتا رہا ہے اسی طرح اس نے انسانوں کو جنسی ضرورت کی تسکین کے صحیح و مشروع راستے سے بھی بھٹکایا اور اس کے لئے وہ راستہ اور طریقے سکھلائے جو نہ صرف فطرت الہی کے خلاف ہیں بلکہ اخلاق و مروت سے بھی ٹکراتے ہیں چنانچہ صراط مستقیم سے دور اور شریعت سے بھٹکے ہوئے لوگوں میں عہد جاہلیت میں مرد و عورت کے رشتہ ازدواجیت میں منسلک ہونے کا ایک طریقہ نکاح متعہ بھی تھا جس کی صورت یہ تھی کہ ایک مرد کسی عورت سے بشرطیکہ اس کی محرم نہ ہو اس سے ایک معینہ مدت کےلئے معمولی رقم یا سامان کے عوض نکاح کرلیتا تھا اور جب مدت ختم ہوجاتی تو رشتہ نکاح ٹوٹ جاتا اور طلاق کی ضرورت نہ ہوتی ، اس نکاح کے لئے کوئی مدت متعین نہ تھی وہ ایک گھنٹہ کیلئے بھی ہو سکتا تھاالبتہ اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پینتالیس دن ہوتی تھی ، اس نکاح کے عوض دونوں ایک دوسرے کے وارث بنتے تھے ، نہ حمل کی صورت میں شوہر بچے کا ذمہ دار ہوتا تھا اور نہ ہی نکاح ختم ہونے کے بعد عورت پر کوئی عدت تھی حتی کہ اس نکاح میں نہ گواہ کی ضرورت تھی اور نہ ہی ولی کی اجازت شرط تھی ، گویا یہ زنا کی ایک منظم اور مہذب شکل تھی ۔

بہت ممکن ہے کہ عہد جاہلیت میں اس کے بعض اجتماعی اور سیاسی اسباب رہے ہوں لیکن اسلام نے جہاں اس وقت رائج بہت سی مخالف شرع چیزوں سے منع فرمایا اسی طرح اس نکاح یعنی نکاح متعہ سے بھی روک دیا جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہے ۔ بلکہ اس بارے میں حدیثیں متواتر ہیں اور عہد صحابہ و تابعین کے بعد سے امت کا اس پر اجماع چلا آرہا ہے کہ نکاح متعہ حرام اور ناجائزہے اگر کسی نے مخالفت کی ہے توبعض باطل فرقوں نے، خاص کر وہ فرقہ جو اپنے آپ کو اہل بیت سے محبت اور ان کے دین پر ہونے کا دعویدار ہے۔ جب کہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت اور ان کے فتوے جو اہل سنت اور اہل تشیع کی کتابوں میں موجود ہیں کہ نکاح متعہ حرام ہے چنانچہ محمد بن علی ابن الحنیفہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے سال نکاح متعہ اور گدھے کے گوشت سے منع فرمادیا ہے

{ صحیح بخاری :5115، صحیح مسلم : 1407، النکاح }

اسی طرح خود رافضی شیعوں کی معتبر ترین کتابوں میں بھی حضرت علی سے یہ روایت موجود ہے ، دیکھئے " للہ ثم للتاریخ ص:38 " حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت اور فتوے کے خلاف اس فرقے نے متعہ کو نہ صرف جائز بلکہ دین اہل بیت ، کار ثواب ، جنت میں نبیوں اور ولیوں کا مقام حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے بلکہ جو شخص متعہ کی حلت کا منکر ہو اسے دین سے خارج بتلایا گیا ہے اور مزید تعجب کی بات یہ کہ شادی شدہ عورت جسکا شوہر غائب ہو اور نابالغ حتی کہ دودھ پیتی بچی سے بھی نکاح متعہ اور ان سے جماع و مباشرت کو جائز بتلایا گیا ہےبلکہ ان کے بڑے جیسے خمینی وغیرہ ایسا متعہ کرتے رہے ہیں ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے ایک شیعہ عالم کی کتاب للہ ثم للتاریخ ،ص:23تا 42 ۔

حتی کہ ان کے یہاں صورت حال یہاں تک پہنچی ہے کہ ایک شخص بسا اوقات ایک عورت اور پھر اس کی بیٹی سے بھی متعہ کرتا ہے ، گویا ان کے نزدیک کوٹھے اور چکلا چلانے والی عورتوں کے پاس جانے اور کسی عورت سے متعہ کرنے میں صرف عقد نکاح کا فرق ہے ، لہذا اگر کوئی شخص کسی فاحشہ سے یہ کہتا ہے کہ ایک گھنٹہ کے لئے میں تم سے اتنے پیسے کے عوض شادی کرتا ہوں تو یہ جائز ہے ۔ { عیاذ باللہ } ۔

فوائد :

۱- نکاح متعہ حرام اور ناجائز ہے ۔

۲- نکاح متعہ عورت کے ساتھ کھلواڑ اور اس کی توہین ہے ۔

۳- نکاح متعہ کا مقصد صرف شہوت رانی نہیں بلکہ انسانی زندگی میں سکون اور نسل انسانی کا بقا ہے ۔

۴- نکاح وہی معتبر ہے جس میں گواہ ، ولی اور اس نکاح پر استمرار کی نیت و قصد ہو ۔


ختم شدہ
   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المادة السابق
المواد المتشابهة المادة التالي
...
...

...

جديد المواد

  ...  

عاشوراء کا روزہ/حديث:35 - موسمی خلاصہ دروس
سال کا پہلا مہینہ/حدیث:34 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام اور ہم/حدیث:32 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام کی فضیلت/حدیث:31 - موسمی خلاصہ دروس
عظمت صحابہ/حدیث:05 - موسمی خلاصہ دروس
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?