مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المادة

  ...  

ماہ صفر کا آخری بدھ اور مرض نبوی /حدیث:197
636 زائر
19/01/2012
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :197

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 22 - 23 صفر 1433ھ، 16 – 17 جنوري 2012م

ماہ صفر کا آخری بدھ اور مرض نبوی

حديث :

عن عائشة قالت : رجع إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم من جنازة بالبقيع وأنا أجد صداعا في رأسي وأنا أقول وارأساه قال بل أنا وارأساه قال ما ضرك لو مت قبلي فغسلتك وكفنتك ثم صليت عليك ودفنتك قلت لكني أو لكأني بك والله لو فعلت ذلك لقد رجعت إلى بيتي فأعرست فيه ببعض نسائك قالت فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم بدئ بوجعه الذي مات فيه. {مسند احمد: 6/228، سنن ابن ماجہ :1465 الجنائز ،سنن الدار می : 81 المقدمہ }

ترجمہ :

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے بعد بقیع سے واپس ہوئے ، اس وقت مجھے سرمیں درد تھا اور میں کہہ رہی تھی ہائے میرا سر ، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :ہائے میرا سر کہنے کا میں زیادہ حقدار ہوں {یعنی میرے سر میں تم سے کہیں زیادہ درد ہے } پھر آپ نے فرمایا : کیا نقصان ہے کہ اگر تو مجھ سے پہلے مرجاتی تو میں تجھے اپنے ہاتھ سے غسل دیتا ، تجھے کفن پہناتا پھر تیری نماز جنازہ پڑھاتا اور تجھے دفن کرتا۔ میں نے کہا : تب تو گویا میں یہ دیکھ رہی ہوں کہ آپ یہ کر کے واپس ہوئے اور میرے گھر میں اپنی کسی بیوی کے ساتھ صحبت کی ، یہ سنکر آپ صلى الله عليه وسلم مسکرادئے، پھر آپ صلى الله عليه وسلم کی وہ بیماری شروع ہوئی جسمیں آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات ہوئی ۔ { مسند احمد ، ابن ماجہ ، وسنن دارمی }

تشریح :

ارشاد باری تعالی ہے : وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۔ الآیۃ {الانبیاء :34/35 }[اے نبی]آپ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کے لئے دائمی زندگی نہیں رکھی ، اگر آپ صلى الله عليه وسلم مراجائیں تو کیا یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ؟ {ہر گز نہیں بلکہ }ہر جاندار کو موت کا مزا چکھنا ہے ۔

اس دار فانی میں کسی کو بقا ودوام حاصل نہیں ہے ، جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن یہاں سے رخت سفر باندھنا ہے، یہ ایک ایسا اٹل فیصلہ ہے کہ اس سے کسی بھی فرد کو استثنا حاصل نہیں ہے بلکہ ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے ، اسی قانون الہی اور فیصلہ ایزدی کے تحت نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کو بھی اس دنیا سے رخصت ہونا پڑا ، چنانچہ آپ صلى الله عليه وسلم جس مقصد کے لئے اس دنیا میں تشریف لائے تھے جب وہ مقصد پورا ہو چکا ، دعوت دین مکمل ہو گئی اور لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہوے لگے تو اللہ تعالی نے ایام تشریق میں سورۃ نصر {اذا جاء نصر اللہ والفتح }نازل فرماکر یہ اشارہ فرما دیا کہ اب آپ صلى الله عليه وسلم کے اس دنیا سے جانے کا وقت قریب ہے ، نیز آپ صلى الله عليه وسلم نے بھی حجۃ الوداع کے موقعہ پر صحابہ کرام کو یہ اشارہ دے دیا تھا "مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو کیونکہ میں اس سال کے بعد غالبا حج نہ کر سکوں ،یا یہ کہ تم سے میں نہ مل سکوں {سنن ابو داود، مسند احمد وغیرہ}چنانچہ جب وہ وقت محتوم قریب ہوا تو بروز دو شنبہ یا چہار شنبہ ماہ صفر کے آخر یا ربیع الاول کے ابتدا کی کسی تاریخ کو کسی جنازے سے آپ واپس ہو رہے تھے کہ سر میں سخت درد پیدا ہوا اور آہستہ آہستہ بڑھتا گیا اور مرض موت کی شکل اختیار کر لی ،، زیر بحث حدیث میں اسی بیماری کا بیان ہے ، یہ دن حضرت میمونہ رضي الله عنها کی باری کا تھا ، بیماری بڑھتی ہی جارہی تھی حتی کہ بسا اوقات بخار اتنا تیز ہو جاتا کہ حرارت سر پر بندھی ہوئی بٹی کے اور پرسے محسوس کی جاتی ، اس حالت میں بھی آپ صلى الله عليه وسلم باری باری ہر ایک بیوی کے حجرے میں تشریف لے جاتے لیکن جب مرض کی شدت کی وجہ سے یہ کام مشکل ہو ا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے تمام ازواج مطہرات سے اجازت لیکر حضرت عائشہ رضي الله عنها کے یہاں مستقل قیام فرمالیا ، اس حالت میں بھی آپ صلى الله عليه وسلم برابر مسجد میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے ، اور بسا اوقات نماز کے بعد منبر پر تشریف لے جاکر لوگوں کو نصیحتیں اور وصیتیں فرماتے رہے ، وفات کے چار دن قبل یعنی بروز جمعرات مغرب کی نماز تک آپ صلى الله عليه وسلم نے تمام نمازیں پڑھائیں لیکن عشا کے وقت مرض کا ثقل اتنا بڑھ گیا کہ مسجد جانے کی طاقت نہ رہی ، پھر بھی آپ صلى الله عليه وسلم نے غسل فرمایا اور مسجد جانے کی کئی بارکو شش کی لیکن صحت و ہمت دونو نے جواب دے دیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے حضرت ابو بکر رضي الله عنه کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ، چنانچہ ابو بکر رضي الله عنه نے آپ صلى الله عليه وسلم کے حیات طیبہ کی باقی نمازیں پڑھائیں ، پھر وفات سے دو یا ایک دن قبل طبیعت میں کچھ خفت محسوس ہوئی تو دوآدمیو ں کا سہارا لیکر مسجد تشریف لے گئے اس وقت حضرت ابو بکر رضي الله عنه لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے حضرت ابو بکر رضي الله عنه پیچھے ہٹنا چا ہے لیکن آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں روکا اور خود انکی بائیں جانب بیٹھ کر نماز پڑھانے لگے ،حضرت ابوبکر رضي الله عنه آپ صلى الله عليه وسلم کی اقتدا کررہے تھے اور لوگ حضرت ابو بکررضي الله عنه کی اقتدا کر رہے تھے ، نماز کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک خطبہ دیا جسمیں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ دنیا کی چمک دمک کو قبول کرے یا اللہ تعالی کے پاس جو ہے اسے اختیار کرے ، یہ خطبہ سنکر حضرت ابوبکرؓ رودئے اور سمجھ لیا کہ وہ بندہ نبی صلى الله عليه وسلم ہیں اور آپ صلى الله عليه وسلم اس دنیا سے جلدہی رخصت ہونے والے ہیں ،صحابہ کرام کے ساتھ یہ آپ صلى الله عليه وسلم کی سب سے آخری نماز اور سب سے آخری خطبہ تھا اسکے بعد آپ صلى الله عليه وسلم اپنے گھر سے باہر نہ آسکے یہاں تک کہ بروز پیر 12 ربیع الاول 11ھجري بوقت چاشت اپنے رب سے جاملے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

فائدے :

1 – صفر کے آخر ی بدھ کو جو لوگ غسل صحت مناتے اور سیر و تفریح کیلئے نکلتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسی دن نبی ؐ نے غسل صحت فرمایا تھا ۔ سراسر جھوٹ ، بدعت اور گمراہی ہے بلکہ {بہ اختلاف روایت }اسی دن آپ کے مرض کی ابتدا ہوئی تھی ۔

2- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو بھی مرض ، وفات اور دیگر بشری عوارض لاحق ہوتے تھے جو آپ صلى الله عليه وسلم کے بشر ہونے کی دلیل ہے ۔

3- وفات کے بعد شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے اور اس کے بر عکس بھی ۔ 4- میت کا اپنے مرض کا بیان کرنا اور ظاہر کرنا صبر کے منافی نہیں ہے ۔

5 – حضرت ابو بکر رضي الله عنه کی فضیلت اور انکی خلافت کی طرف اشارہ ۔

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المادة السابق
المواد المتشابهة المادة التالي
...
...

...

جديد المواد

  ...  

عاشوراء کا روزہ/حديث:35 - موسمی خلاصہ دروس
سال کا پہلا مہینہ/حدیث:34 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام اور ہم/حدیث:32 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام کی فضیلت/حدیث:31 - موسمی خلاصہ دروس
عظمت صحابہ/حدیث:05 - موسمی خلاصہ دروس
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?