مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

سردی کا موسم – مومن کیلئے موسم بہار (2/2
1850 زائر
07/01/2012
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

سردی کا موسم – مومن کیلئے موسم بہار


(2/2)

د – اکمال وضو :

وضو کو اللہ تعالی نے بڑی اہمیت دی اور وضو کرنے کی بڑی فضیلت رکھی ہے ، خاصکر اگر کوئی شخص وضو کو مکمل اور اچھی طرح سے کرتا ہے تو اسکے لئے حدیثوں میں بہت بڑی خوشخبری ہے ، ارشاد نبوی ہے :

مامن مسلم یتوضا فیحسن الوضوء ثم یقوم فیصلی رکعتین مقبلا علیہما بقلبہ ووجہ الاوجبت لہ الجنۃ۔{صحیح مسلم : 234 الطہارۃ ، سنن ابو داود : 169 الطہارۃ بروایت عقبہ بن عامر }

جب کوئی مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح سے وضو کرکرتا ہے ، پھر کھڑا ہوکر دورکعتیں ایسی پڑھتا ہے کہ قلب و قالب سے اس میں مگن رہا تو اسکے لئے جنت واجب ہوگئی ۔

نیز فرمایا : اِسباغ الوضوء شطر الاِیمان{سنن النسائی : 2436 الزکاۃ ، سنن ابن ماجہ :280 الطہارۃ بروایت ابو مالک الاشعری } پورا پورا وضو کرنا آدھا ایمان ہے ۔

پھر اگر یہی وضو اور اسکا پورا پورا کرنا سردی کے موسم اور کراہت نفس کے باوجود ہوتو اسکا اجر مزید بڑھ جاتا ہے ۔

ارشاد نبوی ہے : « أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ». قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ». {صحیح مسلم : 251 الطہارۃ ، سنن النسائی 1/89 ، مسند احمد :2/177 بروایت ابو ہریرۃ }

کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتلاوں جس کے ذریعے سے اللہ تعالی تمھارے گناہ معاف کردے اور تمھارے درجات بلند کردے؟

صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ؛ کیوں نہیں ، آپ نے فرمایا : سردی کی مشقت اور ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم بڑھا نا ، پس یہی رباط ہے ، یہی رباط ہے ۔

گویا عام حالت میں وضو سے تو صرف گناہ معاف ہوتے ہیں ، البتہ سردی کے موسم میں اچھی طرح وضو کرنے سے گناہ ہوں کی معافی کے ساتھ جنت میں بندوں کے درجات بھی بلند ہوتے ہیں ، یہ بات اورکئی حدیثوں میں وارد ہے نیز ملا اعلی سے متعلق حدیث میں ہے کہ'' اور سخت سردی کے موسم میں اچھی طرح سے وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں رہنا {یہ وہ عمل ہے کہ} جو شخص اس پر مداومت کرلے اسکی زندگی بخیر ہے ، اسکی موت بھی بخیر ہے اور اپنے گناہوں سے ایسے ہی پاک ہوجا تا ہے جسطرح اسکی ماں نے اسے جنا تھا '' {سنن الترمذی : {صحیح الترغیب 1/197} بروایات عبد اللہ بن عباس }

ھ – صدقۃ و خیرات :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ''كل امرئ في ظل صدقته حتى يفصل بين الناس '' {مسند احمد 4/147 ، مستدرک الحاکم 1/416 بروایت عقبۃ بن عامر }

قیامت کے دن لوگوں کا فیصلہ ہوجانے تک ہر شخص اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا

نیز فرمایا " والصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار " {سنن الترمذی :2616 الایمان ،سنن ابن ماجہ : 3973 الفتن ، مسند احمد : 5/248 بروایت معاذ بن جبل }

صدقہ گناہوں کو اسطرح مٹادیتا ہے جسطرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ۔

پھر اگر یہی صدقہ وقت حاجت و ضرورت ہو تو اسکی اہمیت و فضیلت اور بڑھ جاتی ہے ، خاصکر سردی کے موسم میں جبکہ لوگ سردی سے بچنے کے لئے ، کپڑے ، گرم لباس اور لحاف وغیرہ اور آمدنی میں کمی کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاءکے محتاج ہوتے ہیں تو ایسے ایام میں صدقہ کی فضیلت بڑھ جاتی ہے ، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ سب سے افضل عمل کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : '' ادخالك السرور على مؤمن أشبعت جوعته أو كسوت عريه أو قضيت له حاجة '' {الطبرانی الاوسط 6/38 رقم الحدیث 5077 بروایت عمر بن الخطاب }

'' سب سے افضل عمل یہ ہے کہ کسی مومن کے دل کو تو خوش کردے ، اسطرح کہ اسکی شرمگاہ کو چھپا دو { یعنی کپڑا پہنا دو }اسکی بھوک کو دور کردو یا اسکی ضرورت پوری کردو'' ۔

اگر غور کیا جائے تو سردی کاکے موسم اس فضیلت کے حاصل کرنے کا بہترین موقعہ ہے کیونکہ ہمارے پڑوس میں ، ہمارے علم میں اور ہمارے آس پاس کے علاقے میں کتنے ایسے لوگ ملیں گے جنکے پاس سردی سے بچنے کے لئے کپڑے ہونگے اور نہ لحاف و رضائی انھیں دستیاب ہوگی اور بہت سے لوگ ایسے بھی ملیں گے کہ گھر کا سرپرست بیمار ی یا کمزوری کی وجہ سے کھانے اور علاج کیلئے پیسہ نہ کماپا رہا ہو گاسے بچوں کے کھانے اور اپنے علاج کیلئے پیسوں کی ضرورت ہے ، ایسی صورت میں ہر شخص اپنی استطا عت اور بساط کے مطابق صدقہ کرکے اپنے رب کو راضی کر سکتا ہے اور محشر کے میدان میں اپنے لئے سایہ انتظام کرسکتا ہے ۔

مشہور تابعی اور کتب ستہ کے راوی صفوان بن سلیم رحمہ اللہ ٹھنڈی کے موسم میں ایک شب مسجد نبوی سے باہر نکلے ، دیکھا کہ ایک شخص سردی سے کانپ رہا ہے اور اسکے پاس اپنے آپکو سردی سے بچانے کے لئے کپڑے نہیں ہیں ، چنانچہ انہوں نے اپنی قمیص اتاری اور اس شخص کو پہنادیا ، اسی شب بلاد شام میں کسی شخص نے خواب دیکھا کہ صفوان بن سلیم صرف ایک قمیص صدقہ کرنے کی وجہ سےجنت میں داخل ہو ئے، وہ شخص اسی وقت مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوا ہے اور مدینہ منورہ آکر صفوان بن سلیم رحمہ اللہ کا پتہ دریاف کیا اور ان سے اپنا خواب بیان کیا ۔ {صفۃ الصفوۃ 2/ 154}

و – جہنم کی یاد :

اللہ تبارک و تعالی نے اس دار فانی میں کچھ جگہیں ، بعض موسم اور کچھ حالات ایسے بنائے رکھے ہیں جو اسے آخرت کی یاد دلاتے ہیں ، بعض جگہیں اور زمانے اسے جنت کی یاد دلاتے ہیں اور بعض جگہیں اور زمانے جہنم کی یاد دلاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ باہر سے آنے والے ایک حاکم و بادشاہ نے جب سرزمین کشمیر پر قدم رکھا اور وہاں کے خوبصورت موسم اور سبزہ زاری کا مشاہد کیا تو بر جستہ کہہ اٹھا ۔

'' اگر فردوس بر روئے زمین است ۔ ۔ ہمین است و ہمین است وہمین است ''

اگر کہیں رو ئے زمین پر جنت ہے تو وہ یہی جگہ ہے وہ یہی جگہ ہے ۔

بعینہ اسی طرح سخت سری وگرمی کی کا موسم انسان کو جہنم کی یاد دلاتا ہے کیونکہ ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اس روئے زمین پر سردی و گرمی کی شدت کا اصل سبب جہنم ہے ،لہذا جب انسان کو سخت اور ناقابل برداشت گرمی محسوس ہوتو اسے فورا جہنم کی گر می و تپش یاد آجاتی ہے او ر وہ اپنے رب سے بعجز وعاجزی جہنم سے بچنے کی دعا کرنے لگتا ہے حتی کہ اگر ایمان تازہ ہو معمولی گرمی بھی مومن کو جہنم کی یاد دلاتی ہے ، چنانچہ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ : حمام بہت اچھا گھر ہے جسمیں ایک مومن داخل ہوتا ہے تو اپنے میل کچیل صاف کرتا ہے اور اسمیں جہنم سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہے ،{المطالب العالیہ 1/50حافظ کہتے ہیں کہ یہ اثر صحیح ہے }

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کسی نیک بندے نے غسل کیلئے حمام کا قصد کیا ، اور جب وہ حمام میں داخل ہوئے اور سرپر گرم پانی پڑا تو محسوس کیا کہ یہ پانی کچھ زیادہ ہی گرم ہے لہذا پیچھے ہٹے اور رونا شروع کردیا ، پوچھنے پر وجہ بتلائی کہ مجھے جہنمیوں کے بارے اللہ تعالی کا یہ فرمان یاد آگیا کہ : یصب من فوق رووسہم الحمیم {الحج :19}انکے سر کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا {لطائف المعارف 547}

اسی طرح مومن بندہ کو جب سردی اور اسکی شدت محسوس ہو اور اسے تنگ کرے تو اسے زمہریر کی ٹھنڈک یاد کرنا چاہئے کیونکہ جس طرح اللہ تبارک وتعالی اہل جہنم کو سخت اور ناقابل برداشت جلن اور آگ کا عذاب دیگا اسی طرح ناقابل برداشت ٹھنڈکا بھی عذاب دیگا چنانچہ علماء کہتے ہیں کہ جہنم میں ایک طبقہ زمہریر یہ ہے ، جب کافر آگ میں جلتے جلتے تنگ آجائیں گے اور رب سے ٹھنڈے پانی کا مطالبہ کریں گے تو اللہ تبارک وتعالی انھیں جہنم کے طبقہ زمہریریہ میں ڈال دیگا جسمیں سخت سردی کی وجہ سے انکی ہڈیاں پھٹ جائیں گی ۔

لہذا سخت سردی کے موسم میں ایک مومن کو چاہئے کہ وہ جہنم کو کثرت سے یاد کرے اور اس سے بچنے کی دعا کرے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

'' ما سأل رجل مسلم الله عز و جل الجنة ثلاثا الا قالت الجنة اللهم أدخله الجنة ولا استجار من النار مستجير ثلاث مرات الا قالت النار اللهم أجره من النار ''{ مسند احمد :3/155 بروایت انس بن مالک }

جو مسلمان بھی تین بار اللہ تعالی سے جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت بطور سفارش اللہ تعالی سے عرض کرتی ہے کہ اے اللہ اس بندے کو جنت میں داخل فرمادے اور جو مسلم بندہ اللہ تعالی سے تین بار جہنم سے پناہ چا ہتا ہے اے اللہ تو اسے جہنم سے پناہ دے ۔





حصه أول

http://www.islamidawah.com/play.php?catsmktba=1317

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

پرچہ سوالات - اسلامي مـقـالات
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?