مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

قربانی کی آداب /حدیث:186
1260 زائر
26/10/2011
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :187

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 27- 28 ذو العقدة 1432ھ، 25– 26أكتوبر 2011م


قربانی کی آداب


حديث :

عن أم سلمہ رضی اللہ عنہا أن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال : {إذا دخلت العشر وأراد أحد کم أن یضحی فلا یمس من شعرہ و بشرہ شيئا ۔ و فی روایۃ ۔ فلا يأخذن شعرا ولا یقلمن ظفرا} ۔

صحیح مسلم : ۱۹۷۷ الأضاحی ، سنن أبو داؤد : ۲۷۸۸ الضحایا ، سنن الترمذی : ۱۵۱۸ الأضاحی

ترجمه :

حضرت أم سلمہ رضي الله عنها سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو تو وہ اپنے بال اور چمڑے کو نہ چھوئے نہ کاٹے ۔ (ایک دوسری روایت) میں ہے کہ اپنے بال اور ناخن کو بالکل نہ تراشے ۔

تشريح :

ماہ ذی الحجہ کے ابتدائ دس دن سال کے افضل ترین دنوں میں ہیں ، ان دنوں میں ہر قسم کے أعمال صالحہ کی بڑی اہمیت ہے نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو عمل صالح جتنا ین دس دنوں میں محبوب ہے اتنا کسی اور دن میں نہیں ہے ۔ ( صحیح البخاری) اس عشرے کا محبوب ترین اور خاص الخاص عمل حج و عمرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا بہترین ذریعہ اور اسکی رضا حاصل کرنے کا کامیاب ترین وسیلہ ہے ، لیکن یہ عمل مکہ مکرمہ جاکر ہی ہوسکتا ہے اور اسکے لئے وقت ، صحت ، أمن اور مالی استطاعت کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے حج عمر میں صرف ایک بار اور صرف صاحب استطاعت حضرات میں ہی فرض کیا گیا ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کا یہ بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے سارے اہل ایمان کو اسکا موقعہ دیا ہے کہ جب حج کے ایام آئیں تو وہ اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی حج اور حجاج سے ایک نسبت پیدا کر لیں اور انکے پورے نہیں تو بعض أعمال میں شریک ہو جاأیں ۔ عید الأضحی کی قربانی کا ایک بہت بڑا راز یہ بھی ہے کہ حجاج دسویں ذی الحجہ کو منی میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں ، دنیا بھر کے دوسرے مسلمان جو حج میں شریک نہیں ہوسکے ، انکو حکم ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ ٹھیک اسی دن اللہ کے حضور میں اپنی قربانیاں نذر کریں اور جس طرح حاجی احرام باندھنے کے بعد بال یا ناخن نہیں ترشواتا ، اسی طرح یہ مسلمان جو قربانی کا ارادہ رکھتے ہیں ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال یا ناخن نہ تراشوائں اور اس طریقے سے بھی حجاج سے ایک مناسبت اور مشابہت پیدا کریں ۔ ) معارف الحدیث) زیربحث حدیث میں یہی ہدایت دی گئ ہے کہ قربانی کا ارادہ کرنے والا شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد نہ تو اپنے ہاتھ و پیرکے کسی ناخن کو قلم کرے ، نہ توڑے اور نہ ہی بلا ضرورت اس سے چھیڑخانی کرتا رہے ، یہی حکم بال کا بھی ہے کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لئے اپنے جسم کے کسی حصے کے بال کا مونڈنا ، نوچنا ، صاف کرنا اور ہلکے کرناجائز نہیں ہے۔ یہی حکم جسم کے کسی حصے کے چمڑے کا ہے کہ اسے کاٹا یا نوچا نہ جائے۔
واضح رہے کہ یہ حکم اس شخص کے ساتھ خاص ہے جو قربانی کرنا چاہتا ہے خواہ وہ اپنے ہاتھ سے قربانی کر رہا ہے یا کسی کو دور یا نزدیک اپنی قربانی ذبح کرنے کا وکیل بنا رہا ہے ، البتہ اسکے گھر کے دوسرے افراد کو یہ حکم شامل نہیں ہے ، لہذا اگر کھر کے دوسرے افراد اپنی طرف سے مستقل قربانی نہیں کر رہے ہیں تو عشرہ ذی الحجہ میں وہ اپنے بال و ناخن کو کاٹ سکتے ہیں ، لیکن بہتر یہ ہے کہ قربانی کرنے والے کے اہل خانہ بھی اس درمیان اپنے بال کاٹنے سے بچتے رہیں اور وہ حضرت بھی جنکے پاس قربانی کی استطاعت نہیں ہے، جسکی وجہ ہے ۔
1- حضرت ام سلمہ رضي الله عنها سے اس حدیث کو روایت کرنے والے بزرگ اور مشہور تابعی حضرت محمد بن سیر ین کا یہی عمل رہا ہے چنانچہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئ شخص عشرہ ذی الحجہ شروع ہونے کے بعد اپنے بالوں کو کاٹے بلکہ وہ تو اس عشرہ کے دوران اپنے بچوں کے سروں کو بھی مونڈنا ناپسند کرتے تھے ۔ ( المحلی ۸ص۲۹)
2- نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوم الأضحی کو اس امت کے لئے عید کا دن بنایا ہے ، یہ سنکر ایک صحابی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اگر ہمارے پاس صرف ایک دودھ والی بکری ہو جسکا ہم دودھ پیتے اور لوگوں کو ھدیہ دیتے ہیں، اس کی قربانی کر ڈالوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ایسا نہ کرو بلکہ [بقر عید کے دن] اپنے بال کاٹ لو ، ناخن تراش لو ، مونچھیں پست کر لو اور ناف کے نیچے کا بال صاف کر لو تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکمل قربانی شمار ہوگی ۔
سنن ابوداؤد ، سنن النسانی و سنن احمد ( اہل علم کی ایک جماعت نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے) ۔
3- اگر کسی کا ناخن ٹوٹ جائے یا کہیں کا چمڑا اکھڑ جائے تو اسکو زائل کردینا چاہیے اس پر کوئ گناہ نہیں ہے ۔
4- اگر کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھنے کے باوجود اپنی ان ممنوعہ چیزوں کو چھیڑتا ہے تو گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے اس پر استغفار واجب ہے البتہ اسکا کوئ کفارہ ہے اور نہ ہی اسکی قربانی متأثر ہوگی ۔
5- جس شخص کا ارادہ ابتدا میں قربانی کا نہ تھا اور ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد اس نے اپنے بال و ناخن کاٹ لئے ، پھر بعد میں اسکا ارادہ قربانی کا بن گیا تو ارادہ کے بعد سے بال و ناخن کاٹنے سے پرہیز کرے اس پر کوئ گناہ نہیں ہے ۔
6- یہ حکم أضحیہ (وہ قربانی جو عیدالأضحی کی مناسبت سے دی جاتی ہے) کے ساتھ خاص ہے، ھدی (وہ قربانی جو حاجی حج کی مناسبت سے دیتا ہے) سے اسکا کوئ تعلق نہیں ہے ۔ لہذا حج کا ارادہ رکھنے والا اگر أضحیہ کا ارادہ نہیں رکھتا تو اسکے لئے یہ حکم ہے وہ اپنے بال و ناخن کو احرام باندھنے سے پہلے تک کاٹ سکتا ہے ۔
7- حج کا ارادہ رکھنے والا ھدی (حج کی قربانی) کے ساتھ اگر أضحیہ (عام قربانی (کا بھی ارادہ رکھتا ہے تو ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد وہ بھی اپنے بال و ناخن کاٹنے سے رک جائے گا البتہ تمتع کرنے والا عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے بال چھوٹا کرائے گا اور جمرۃ عقبہ کی رمی کے بعد بھی اپنے بال چھلائے گا کیونکہ یہ حج کے کاموں میں سے ہیں جنکا بجالانا ضروری ہے ۔

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

عام دروس - خلاصۂ دروس
اصول خرید وفروخت/حدیث:244 - ہفتہ واری دروس word
حقیقی چار میم /حدیث:243 - ہفتہ واری دروس word
احسان بنام حیوان/حدیث:242 - ہفتہ واری دروس word
حلال و حرام جانور/حدیث:241 - ہفتہ واری دروس word
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?