مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

حج اور شعائراللہ کی تعظیم /حدیث:186
1387 زائر
22/10/2011
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :186

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 20 - 21 ذو العقدة 1432ھ، 18 – 19 أكتوبر 2011م

حج اور شعائراللہ کی تعظیم

حديث :
عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول : من حج فلم یرفث ولم یفسق رجع کیوم ولدتہ أمہ۔

صحیح البخاری : ۱۵۲۱ الحج صحیح مسلم : ۱۳۵۰ الحج

ترجمه :
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرمارہے تھے، جس نے حج کیا اور اس نے کوئ فحش اور بے ہودہ بات نہ کی اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو وہ گناہوں سے اسطرح پاک ہو کر لوٹنا ہے گویا آج ہی اسکی ماں نے اسے جنا ہے ۔ صحیح البخاری و صحیح مسلم

تشريح :

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ ... } الأیۃ المائدۃ : ۲
اے ایمان والو : اللہ تعالیٰ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو ، نہ ادب والے مہینوں کی ، نہ حرم میں قربان ہونے والے اورپٹے پہنائے ہو ئے جانوروں کی ۔شعائر شعیرہ کی جمع ہے جسکے معنی نشان و علامت کے ہیں یعنی وہ اعمال جن سے اللہ تعالیٰ کے دین ، دین کے اعلام اور وہ کام جن سے اسلام کی پہچان ہو اور یہ معلوم ہو کہ یہ وہ کام ہیں جنکے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے جیسے اذان ، نماز ، مسجد اور اس طرح کے دیگر کام ۔ لیکن مذکورہ آیت میں جس سیاق میں لفظ شعائر وارد ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس لفظ سے مراد حج اور اس سے متعلقہ چیزیں ہیں چنانچہ احرام حج کے شعائر میں سے ، خانہ کعبہ حج کے شعائر میں سے ہے طواف و قربانی ، صفا و مروہ اور مزدلفہ و عرفات و منی سب اللہ کے شعائر میں سے ہیں جنکے احترام و تقدیر کا حکم دیا جا رہا ہے اور انکی بے حرمتی سے روکا جارہا ہے بلکہ اسکے احترام کو باقی رکھنے اور اہتمام کرنے والے کو سچے اور حقیقی مومن ہونے کی دلیل قرار دیا جارہا ہے { ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ } الحج : ۳۲ اور یا د رکھو کہ جو اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ اسکے دلوں کی پرہیزگاری کی وجہ سے ہے ۔ یعنی جس شخص کے دل میں ایمان ہوگا ، اور اللہ تعالیٰ کا تقوی اور محبت اسکے دل میں جا گزیں ہوگی وہ شعائر اللہ کا ادب ضرور کریگا ، اسکے بر خلاف جو شعائر اللہ کی بے حرمتی کرتا ہے تو اسکا واضع مفہوم ہے کہ اسکا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے جو جزاو ایمان ہے اور اسکے خوف سے جو ایمان کا تقاضا ہے خالی ہے ، شعائر الیہ کی تعظیم اور اسکے وجوب کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اگر کوئ شخص حدود حرم میں ظلم و زیادتی ، گناہ و نافرمانی اور ان شعائر الہیہ کے یامالی کرنے کا ارادہ بھی کرتا ہے تو دوسرے مقام میں یہی جرائم کرنے کی نسبت اسے دوگنا عذاب دیا جا ئے گا ، اور جو کوئ ازراہ ظلم مسجد حرام میں کبحروی (یعنی بے دینی اور شرارت) کا ارادہ کرے تو ہم ایسے لوگوں کو دردناک عذاب چکھائیں گے ۔
زیر بحث حدیث میں بھی اسی چیز کا بیان ہے کہ جو شخص حج و عمرہ کے لئے اس گھر کا قصد کرتا ہے اسے چاہیے کہ ہر اس چیز سے بچتے رہے جو حرام ، حدود حرم اور بیت اللہ کے احترام کے خلاف ہے ، چنانچہ اسے چاہیے کہ نہ کوئ فحش بات کرے اور نہ کوئ نافرمانی کا کام کرے یعنی اسکے لئے جائز نہیں ہے کہ حالت احرام میں اپنی بیوی سے ہم بستر ہو اور نہ ہی زبان سے جنسی خواہش کی بات کرے حتی کہ مجرد عقد نکاح اور پیغام شادی بھی جائز نہیں ہے ، ارشاد نبوی ہے کہ محرم نہ نکاح کرے ، نہ نکاح کرا ئے اور نہ ہی نکاح کا پیغام بھیجے ۔ (صحیح مسلم و سنن أربعہ) قابل غور امر یہ ہے کہ یہ ممانعت اپنی بیوی کے ساتھ ہے چہ جا ئے کہ غیر عورت کی طرف شہوت سے دیکھے اسے ہاتھ لگا ئے یا اس سے دل لگی کی باتیں کرے ۔
زیر بحث حدیث میں جس دوسرے کام سے روکا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کسی بھی طرح کی نافرمانی ہے ، خواہ وہ نافرمانی گناہ کبیرہ کی جنس سے ہویا گناہ صغیرہ کی جنس سے حتی کہ دوران حج بلاوجہ بحث و مباحثہ اور زبانی لڑائ جھگڑے سے بھی روکا گیا ہے ، لیکن بڑی بد قسمتی ہے کہ آج اس گھر کے قریب رہنے والے اور اسکی زیارت کو جانے والے مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اس حقیقت سے نا آشنا ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں ہر قسم کی فحاشی و بے ہودگی اور فسق و فجور کی تقریبا تمام قسمیں عام ہے ، لوگ چوری کا ارتکاب وہاں کرتے ہیں ، غیر عورتوں کی طرف نظر اور عورتوں کا اپنی پوشیدہ زینت کی نمائش وہاں ہوتی ہے ، حتی کہ کچھ ایسے بھی بے غیرت ہیں کہ وہاں بلوفلموں کا دھندا کرتے ہیں ، اور ڈش و انٹرنیٹ کے ذریعے گندی فلمیں دیکھنا عام ہے ۔ الأمان الحفظ ، جبکہ اس گھر اور اسکے ارد گرد کی حرمت کا مقام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسقدر ہے حدودحرم کے جانوروں کو نہ شکار کیا جاسکتا ہے ، نہ انھیں تنگ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انھیں پکڑا جا سکتا ہے ، وہاں پڑی ہوئ چیزیں اٹھائ نہیں جا سکتی الایہ کہ زندگی بھر اسکے اعلان کی ذمہ داری لے ، حدود حرم کے خودرو درختوں، پودوں حتی کہ گھاس کو بھی اکھاڑنا منع ہے چنانچہ ابو ھریرہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو رسول اللہ کے ذریعہ فتح کر دیا تو رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہو ئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھی کو روک دیا تھا اور اپنے رسول اور مومنین کو اس پر قبضہ دیا ، یاد رکھو کہ اس شہر میں قتال میرے لئے کچھ دیرکے لئے حلال کر دیا تھا ، پھر اسکی حرمت قیامت تک کے لئے واپس لوٹ آئ الہذا یہاں کا درخت نہ کاٹا جائے گا ، نہ ہی یہاں کا شکار بھگایا جا ئے گا اور نہ ہی یہاں کی پڑی ہوئ چیزکو اٹھایا جا ئے گا سوا ئے اس شخص کے لئے جو اسکا اعلان کرتا رہے ۔
( صحیح البخاری و صحیح مسلم (

فوائد
۱۔ حج کی قبولیت کے لئے شرط ہے کہ حاجی فحش گوئ اور فسق و فجور سے پرہیز کرے ۔
۲۔ شعایر الہیہ کی تعظیم بندے کے مومن و متقی ہونے کی دلیل ہے ۔
۳۔ فسق و فجور کے کام ہر جگہ اور ہر وقت ممنوع ہیں ، البتہ حالت احرام اور حدود حرم میں انکی قباحت بڑھ جاتی ہے ۔

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

پرچہ سوالات - اسلامي مـقـالات
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?