مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المادة

  ...  

ازواج مطہرات کی خصوصیات/حدیث:147
940 زائر
14/12/2010
غير معروف
شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :147

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 07/08/محرم 1432 ھ، م 14/13 ڈسمبر2010

ازواج مطہرات کی خصوصیات

عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول : ‏"‏ اِنَّ اَمْرَكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ اِلاَّ الصَّابِرُونَ ‏"‏ ‏.

( سنن الترمذي :3749 ، المناقب – مسند أحمد :6/77 )

ترجمہ :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات مبارکہ میں ازواج مطہرات سے فرمایا کرتے تھے : اپنی وفات کے بعد تم لوگوں کے معاملے میں میں بڑا فکرمند ہوں اورمیرے بعد تمہارے[امور کے ] بارے میں صبر کرنے والا ہی حقیقی صابر ہوگا ۔

{سنن الترمذی ، مسند احمد ، صحیح ابن حبان }۔

تشریح :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں متعدد مصلحتوں کے تحت گیارہ عورتوں سے شادی کی اور ان کے ساتھ صحبت فرمائی حسب ترتیب وفات ان کے نام یہ ہیں :

۱- حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ، وفات ہجرت سے تقریبا تین سال قبل ۔

۲- زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا[4ھ]۔

۳- زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا [20ھ]۔

۴- حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا [27ھ]۔

5- حضرت ام حبیبہ رملہ بنت سفیان رضی اللہ عنہا [44ھ]۔

6- حضرت جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا [50ھ]۔

۷- حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا [51ھ]۔

۸- حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا [52ھ]۔

۹- حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا [54ھ]۔

۱۰- حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا [58ھ]۔

۱۱- حضرت ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا [62ھ]۔

اللہ تبارک وتعالی نے ان ازواج کو یہ شرف بخشا کہ انہیں اپنے پیارے نبی کی زوجیت میں آنا نصیب فرمایا اور انہیں وہ مقام عطا فرمایا جو دنیا کی دیگر عورتوں کو نصیب نہیں ہوا جیسے :

۱- انہیں تمام مسلمانوں کی ماں قرار دیا ، یعنی جس طرح کوئی شخص اپنی ماں کا احترام کرتا ہے ، اس کی تعظیم میں کوتاہی نہیں کرتا ، اس کی طرف سے دفاع اور اس کی حفاظت کرتا ہے ،اس کے بارے میں کوئی نازیبا بات سننا گوارا نہیں کرتا ،بعینہ اسی طرح ایک مسلمان کو چاہئے کہ تمام ازواج مطہرات کا احترام وتعظیم و تکریم کرے ، ان کی طرف سے دفاع کرے اور ان کی تعظیم و احترام کا وہی جذبہ ہو جو اپنی ماں کے لئے ہوتا ہے ارشاد باری تعالی ہے : [النَّبِيُّ أَوْلَى بِالمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ] {الأحزاب:6} " نبی مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور نبی کی بیویاں مومنین کی مائیں ہیں " ۔۔ ۔

۲- ازواج مطہرات عام عورتوں سے اس ناحیے سے مختلف ہیں کہ اللہ تعالی نے کسی بھی نیک عمل پر انہیں عام لوگوں کے مقابلے میں دوگنے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : [وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ للهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا] {الأحزاب:31} " اور جو تم میں اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار بن جائے اور نیک عمل کرے تو ہم اسے اجر بھی دوگنا دیں گے اور اس کے لئے ہم نے باعزت روزی تیار کر رکھی ہے " ۔

اور تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ اس آیت اور اس سے ماقبل کی تین آیتیں نازل ہونے کے بعد بلا استثنا ء تمام ازواج مطہرات نے ہر چھوٹے بڑے کام میں اللہ و رسول کی اطاعت کو حرز جان بنالیا تھا اور آپ سے کسی بھی دنیاوی چیز کا مطالبہ نہیں کیا ۔ "ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء "

۳- اللہ تبارک وتعالی نے ازواج مطہرات کو دیگر عورتوں کے برخلاف یہ حیثیت دی ہے کہ وہ عام مسلمان عورتوں کے لئے ایک نمونہ کی حیثیت رکھیں ، چنانچہ جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لئے نمونہ تھے اسی طرح ان کا گھرانہ بھی مسلمانوں کے لئے نمونہ ہونا چاہئے ، ارشاد باری تعالی :[يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا] {الأحزاب:32} " اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو ، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے میں بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے ، لہذا صاف سیدھی بات کرو " یعنی تمہارا معاملہ عام عورتوں کا سا نہیں ہے بلکہ تمہارے کردار کے نتائج بڑے دور رس ہیں ، تمہارے افعال و کردار ایسے ہونے چاہئے کہ لوگ تمہیں اپنا آئیڈیل سمجھیں اور بطور حجت کے پیش کریں ۔

۴- کسی زوجہ محترمہ کے بارے میں کسی نازیبا کلام سے منع فرمایا ازواج مطہرات سے شادی کرنے کے تصور سے روکا حتی کہ ایسی کسی بات پر کان دھرنے کی بھی اجازت نہیں دی کیونکہ اس سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچتی ہے ، ارشاد ہے :[وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا]{الأحزاب:53}" تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو ایذا دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کی وفات کے بعد کبھی ان کی بیویوں سے شادی کرو ، بلاشبہ اللہ کے یہاں یہ بڑے گناہ کی بات ہے "۔ اس لئے جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمانوں کی جماعت ! اس شخص سے میری طرف سے کون نپٹے گا جس کی اذیتیں اب میری بیوی تک پہنچ گئی ہیں ۔

{صحیح البخاری } ۔

۵- نماز جیسی عبادت اس وقت مکمل نہیں ہوتی جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل [بیوی بچوں ] پر صلاۃ و سلام نہ پڑھ لیا جائے ، حضرت ابو حمید الساعدی بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے سوال کیا : یا رسول اللہ ! ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس طرح پڑھو : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أزواجه و ذريته كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أزواجه و ذريته كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏.

( صحيح البخاري :3369 – صحيح مسلم :407 )

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس حدیث میں " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آل محمد" کا لفظ وارد ہے وہاں آل سے مراد آپ کی بیویاں اور آپ کی ذریت ہے ۔ برادران اسلام ! ازواج مطہرات سے متعلق ایک طرف اللہ تعالی کی یہ تکریم دیکھئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زندگی میں ان کےلئے اس قدر فکر مند رہنا دیکھئے پھر دوسری طرف آل محمد سے محبت کا دعوی کرنے والوں کی ازواج مطہرات سے متعلق بد زبانی دیکھئے ، کیا دونوں میں کوئی مناسبت ہے ؟ اور کیا اللہ تبارک وتعالی کے دئے ہوئے ان فضائل کے بعد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس توجہ کے بعد کوئی مسلمان ازواج مطہرات کے بارے میں کوئی غلط تصور رکھ سکتا ہے ، حاشا للہ ۔

فائدے:

۱- اپنے اہل وعیال پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت و محبت ۔

۲- صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ازواج مطہرات کی ضروریات کا پاس و لحاظ ۔ چنانچہ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کرکے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے فرمایا : اللہ تعالی تیرے والد کو جنت کے چشموں سے سیراب کرے کہ انہوں نے ازواج مطہرات کے لئے ایک باغ وقف کردیا تھا جو چالیس ہزار میں فروخت ہوا ۔ ۔۔

۳- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا ثبوت ۔

ختم شدہ

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المادة السابق
المواد المتشابهة المادة التالي
...
...

...

جديد المواد

  ...  

عاشوراء کا روزہ/حديث:35 - موسمی خلاصہ دروس
سال کا پہلا مہینہ/حدیث:34 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام اور ہم/حدیث:32 - موسمی خلاصہ دروس
صحابہ کرام کی فضیلت/حدیث:31 - موسمی خلاصہ دروس
عظمت صحابہ/حدیث:05 - موسمی خلاصہ دروس
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?