مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

اقتباس امام ابن کثیر بسلسلہٴ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ
1678 زائر
07/12/2010
غير معروف
مفسر قرآن ابن کثیر رحمہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اقتباس امام ابن کثیر بسلسلہٴ شہادت حضرت حسین

بحث از : مفسر قرآن ابن کثیر رحمہ اللہ

{ناشر :مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دلدوز واقعہ بروز جمعہ دس محرم الحرام سن 61 ہجری کو پیش آیا ہشام کلبی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سن 62 ہجری کا ہے اور ابن لہیعہ یہ واقعہ سن 62-63 ہجری کا بتلاتے ہیں ۔ لیکن پہلی ہی تاریخ زیادہ صحیح ہے آپ کی شہادت کا واقعہ عراق کے اندر طف کے پاس ایک جگہ کربلا میں پیش آیا تھا ۔۔۔ اس وقت آپ کی عمر 58 سال کے قریب تھی ۔۔

مسند احمد ،ج:3، ص:242-265 میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بارش کے فرشتہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ی کی اجازت چاہی آپ نے اسے شرف باریابی کا موقع دیا ، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ دروازے کی طرف دھیان دینا کوئی اندر نہ آنے پائے لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ کودتے پھاندتے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے مبارک پر کودنے لگے ۔۔ فرشتے نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ۔۔۔۔ فرشتے نے کہا کہ آپ کی امت اسے قتل کردے گی اور اگر آپ چاہیں تو وہ مٹی لاکر آپ کو دکھلا دوں جہاں اسے قتل کیا جائے گا ۔۔ پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور لال رنگ کی ایک مٹھی مٹی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رکھ دی ۔۔۔۔۔ [ مسند احمد کے محققین نے اس حدیث کو ضعیف بتلایا ہے ، لیکن اس معنی میں متعدد روایات آئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کچھ نہ کچھ اصل ضرور ہے چنانچہ امام ذہبی لکھتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے دیکھئے السیر :3/289 ۔

مسند احمد :1/85 وغیر میں نجی بن سلمہ الحضرمی سے مروی ہے کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفین جارہا تھا جب فرات کے کنارے پہنچے تو آپ نے ہمیں آواز دی اور فرمایا : اے ابو عبد اللہ ذرا ٹھہرجاؤ ۔۔ ہم نے عرض کیا ۔۔ آپ کیا چاہتے ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔ فرمانے لگے کہ ایک دن میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، دیکھا کہ آپ کی مبارک آنکھوں میں آنسو ہیں ۔۔۔۔۔ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو کس بدبخت نے ناراض کیا ۔۔۔۔۔۔ آپ کو کس نے رلایا ؟ آپ نے فرمایا کہ ابھی ابھی ہمارے پاس سے جبرئیل علیہ السلام تشریف لے گئے اور بتلایا کہ حسین فرات کے کنارے شہید کئے جائیں گے اور فرمایا کہ کیا تم اس مٹی کو سونگھنا اور دیکھنا چاہتے ہو ؟ پھر اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی مٹی مجھے دے دی ۔۔۔۔ اسے دیکھ کر مجھے سے برداشت نہیں ہوا اور میری آنکھیں بھر آئیں ۔۔۔

مسند احمد :1/283 ہی میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ٹھیک دوپہر کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال اور چہرہ مبارک غبار آلود ہے اور آپ کے ساتھ ایک شیشی ہے جس میں خون ہے ۔ ۔۔ ہم نے عرض کیا ۔۔۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں یہ کیا چیز ہے آپ نے فرمایا کہ یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے ۔ {اس معنی میں ایک روایت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنن الترمذی :3771 میں موجود ہے }

اس حدیث کے راوی عمار بیان فرماتے ہیں کہ جب اس کا حساب لگایا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کاواقعہ اسی دن پیش آیا تھا ۔۔ {علامہ احمد شاکر اور دوسرے بہت سے اہل علم نے اسے صحیح بتلایا ہے }

طبقات ابن سعد میں ہے حضرت شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھے کہ باہر سے ایک لونڈی کے چیخنے کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔۔۔ اور اسی حالت میں وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تک پہنچ کر کہنے لگی کی حضرت حسین کو شہید کردیا گیا ۔۔۔ ام المومنین نے فرمایا ۔۔۔۔ بدبختوں نے ایسا کردیا ۔۔۔ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھردے یہ کہہ کر وہ بیہوش ہوکر گرگئیں ۔ ۔ یہ دیکھ کر ہم لوگ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے ۔ { سیر اعلام النبلاء :3/318 }

تاریخ بغداد میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی کہ ہم نے یحی بن زکریا علیہ السلام کے بدلے ستر ہزار بنو اسرائیل کو قتل کیا تھا اور حسین کے بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار قتل ہوں گے ۔۔۔۔۔

شیعوں نے عاشوراء سے متعلق بہت ہی مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے اور بہت ہی جھوٹی حدیثیں اور قصے گڑھ لئے ہیں ، جیسے کہ اس دن سورج میں ایسا گہن لگا کہ دوپہر میں تارے نظر آنے لگے ۔۔۔اور جب بھی کوئی پتھر اٹھایا گیا تو اس کے نیچے جمع ہوا خون تھا ۔۔۔ آسمان کے کناروں پر دم حسین کی وجہ سے سرخی چھاگئی ۔۔۔ ان دنوں جب سورج نکلتا تھا تو اس کی شعاعیں ایسی لگتی تھیں کہ گویا سارا آسمان ایک خون کے لتھڑا جیسا ہوگیاہے ۔۔۔ ستارے ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے ، آسمان سے خون کی بارش ہوئی ۔۔۔۔۔ اس سے قبل آسمان میں سرخی نہ تھی وغیرہ ۔۔۔

اور جب حسین رضی اللہ عنہ کا سر گورنر ہاوس میں لایا گیا تو دیواروں سے خون بہنے لگا اور تین دن تک زمین بالکل تاریک رہی ۔۔۔ اس دن جس کسی نے بھی مشک اور زعفران کا استعمال کیا وہ جل کر راکھ ہوگیا ۔۔۔ بیت المقدس میں جب بھی کوئی پتھر اٹھایا گیا اس کے نیچے جمع شدہ خون ضرور ملا ۔۔۔ اور حسین رضی اللہ عنہ سے لوٹے ہوئے اونٹوں کو لوگوں نے ذبح کرکے پکایا تو وہ ایلوا جیسا کڑوا ہوگیا ۔۔۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی من گھڑت باتیں جو سرتاپا بے بنیاد ہیں شیعوں نے لوگوں میں رائج کردی ہیں ۔

ہاں جو باتیں قاتلین حسین کے مصائب اور فتن میں پڑنے سے متعلق نقل کی گئی ہیں ان میں سے اکثر صحیح ہیں کیوں کہ جن لوگوں نے آپ کو شہید کیا تھا ان میں کا شاید ہی کوئی ہو جو دنیاوی مصیبت سے محفوظ رہا ہو ۔۔۔۔ اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے سبھی کسی نہ کسی مہلک مرض میں ضرور مبتلا ہوئے ہیں اور اکثر تو پاگل اور مجنون ہوکر مرے ہیں شیعوں اور رافضیوں نے حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے متعلق بہت زیادہ غلط بیانیاں اور بہتان سے کام لیا ہے ۔۔۔۔ اور یہاں پر اب تک جو کچھ بھی ہم نے ذکر کیا وہ کافی ہے حالانکہ بہت سی وہ باتیں جو ہم نے ذکر کی ہیں ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔۔۔ اگر ابن جریر اور دوسرے علماء نے ان کا تذکرہ نہ کیا ہوتا تو میں بھی انہیں نہ چھیڑتا کیوں کہ یہ تفصیلات لوط بن یحی کی بیان کردہ ہیں جو شیعی اور ائمہ کے نزدیک ضعیف ہے ۔۔۔۔ لیکن چونکہ وہ تاریخی روایات کا حافظ ہے اور ان واقعات سے متعلق بہت سی تفصیلات صرف اسی کے پاس ملتی ہیں اس لئے بعد کے مورخین نے انہیں نقل کیا ہے ۔۔۔ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان میں حقیقت اور سچائی کہاں تک ہے ۔۔۔۔۔

چوتھی صدی ہجری کے قریب حکومت بنی بویہ کے رافضی اس سلسلے میں بہت زیادہ آگے بڑھے ، بغداد میں اور اس کے ارد گرد بازاروں میں عاشوراء کے دن ڈھول پیٹے گئے ۔۔ سڑکوں اور راستوں پر راکھ اور مٹیاں پھینکی گئیں ۔۔ دکانوں پر ٹاٹ اٹکائے گئے ۔ لوگوں نے غم و ماتم کا اظہار کیا بہت سے لوگوں نے اس رات پانی پینا ترک کیا تاکہ حضرت حسین رضیا للہ عنہ کی موافقت ہو کیوں کہ آپ پیاسے شہید کئے گئے تھے ۔۔۔ اور اسی پر بس نہیں بلکہ مزید براں عورتیں بے پردہ ، اپنے چہروں کو کھولے ہوئے ، نوحہ وماتم کرتی ہوئی اپنے چہرے اور سینوں کو پیٹتی ہوئی ننگے پیر بازاروں میں نکلتی تھیں ۔ اس کے علاوہ اور بہت سی بری بدعتیں ، خرافاتیں اور بدتمیزیاں ایجاد کی گئیں جس سے ان کا مقصد دولت بنی امیہ کو بدنام کرنا تھا ۔ کیونکہ حسین رضی اللہ عنہ انہیں کے عہد حکومت میں شہید کئے گئے تھے ۔۔۔۔۔

اس کے برعکس شام کے ناصبیوں نے یوم عاشوراء کو شیعوں اور رافضیوں کی مخالفت میں اچھے سے اچھے قسم کا کھانا پکوایا ، نہانے دھونے کا اہتمام کیا ۔۔۔۔ خوشبو و عطر کا استعمال کیا ۔۔۔۔ اچھے سے اچھا کپڑا پہنا اور اس دن کو یوم عید قرار دیا ۔

اس دن طرح طرح کے کھانے کا انتظام کیا ۔۔۔ جس سے ان کا مقصد رافضیہ کی مخالفت اور دشمنی تھی ۔۔۔

کچھ لوگوں نے آپ کے قتل کی یہ تاویل کی کہ آپ مسلمانوں کے بیچ پھوٹ ڈالنے آئے تھے جب کہ اس وقت مسلمان ایک امام کی بیعت پر متفق تھے کیوں کہ ایسے کام سے ہر مسلمان کو منع کیا گیا ہے جیسا کہ مسلم شریف میں ہے ۔۔ حالانکہ اگر کچھ نادان لوگوں نے یہ تاویل کی بھی تو ان کے لئے کسی بھی صورت میں یہ جائز نہیں تھا کہ حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرتے بلکہ ان کے اوپر واجب تھا کہ جن تین باتوں کا مطالبہ ان سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اسے مان لیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی لئے بہت سے اگلے پچھلے ائمہ نے ان کے اور ان کے ساتھیوں کے قتل کو ناپسند کیا ۔۔۔ ہاں ! کوفہ کے کچھ ملعون لوگ تھے جنہیں اس سے خوشی حاصل ہوئی ہے اور وہ اکثر وہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کو خط و کتابت کرکے بلایا تھا تاکہ اپنے گندے مقاصد اور غلط خواہشات تک رسائی حاصل کریں ۔۔ اسی لئے جب عبید اللہ بن زیاد کو ان کا مقصد معلوم ہوا کہ وہ کچھ دنیاوی مال و متاع چاہتے تھے تو انہیں دے کر ان کا مقصد پورا کیا اور ڈرا دھمکا کر اور کچھ کو لالچ دلا کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے انہیں روکا ۔۔۔ نتیجۃ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ کر ہٹ گئے اور پھر آپ کو شہید کر ڈالا ۔۔۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پوری فوج اس حادثہ پر راضی نہیں تھی اورنہ ہی یزید اس پر راضی تھا ۔۔۔ اور ویسے تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ یزید نے اسے زیادہ ناپسند بھی نہیں کیا ۔۔۔ لیکن جہاں تک گمان غالب ہے کہ اگر شہادت سے پہلے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ملاقات اس سے ہوجاتی تو انہیں معاف کردیتا جیسا کہ اس کے باپ نے اس سے کہا تھا اور خود اس نے اس کا اقرار کیا اور عبیدا للہ بن زیاد کو برا بھلا کہا اور اس پر لعنت بھیجی ۔۔ لیکن نہ تو اسے معزول کیا اور نہ ہی اس کے پاس ناراضگی کا خط لکھا ۔۔۔۔

اس لئے ان کی شہادت پر غمگینی مسلمانوں کا حق ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کے سردار ہیں ، علماء صحابہ میں سے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ کی سب سے پیاری اور افضل بیٹی کے صاحبزادے ہیں ، آپ بڑے ہی بہادر اور عبادت گزار اور سخی تھے ۔

لیکن کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ان خرافات کو جائز سمجھے جو شیعہ کوتے ہیں جیسے چیخ وپکار اور رونا چلانا اور شاید یہ سب ریا و نمود ہے کیونکہ ان کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ جو ان سے افضل و بہتر تھے انہیں شہید کیا گیا لیکن ان کے شہادت کے دن کو یوم ماتم نہیں منایا گیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت جمعہ سترہ رمضان المبارک سن 40 ہجری ہے جب کہ آپ صبح کی نماز کے لئے جارہے تھے ۔

اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جو اہل سنت و الجماعت کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی افضل ہیں بدبختوں نے انہیں اپنے ہی گھر میں محصور کرکے ایام تشریق کے موقعہ پر ان کا کھانا پانی بند کرکے بھیڑ بکری کی طرح ذبح کر ڈالا لیکن لوگوں نے ان کے یوم شہادت کو یوم ماتم نہیں ٹھہرایا ، اس سے بھی آگے دیکھیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو ان تمام سے افضل تھے نماز کی حالت میں قرآن پڑھتے ہوئے انہیں شہید کیا گیا لیکن ان کے بھی یوم شہادت کو یوم ماتم نہیں بنایا گیا ،ا سی طرح اس امت کے صدیق جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی افضل تھے لیکن لوگوں نے ان کے یوم وفات کو رونے اور سینہ کوبی کا دن نہ سمجھا حتی کہ اگلے پچھلے مخلوقات کے سردار کو بھی اللہ تعالی نے دوسرے انبیاء کی طرح اس دنیا سے اٹھا لیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم وفات کو بھی کسی نے یوم ماتم نہ قرار دیا جیسا کہ ان جاہلوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کو بنایا ہے اور نہ ہی کسی نے ان خرافات مثلا سورج کا گہن میں آجانا وغیرہ کا تذکرہ کسی کی شہادت یا وفات کے موقعہ پر کیا ہے ۔

اس دن کا سب سے اچھا کام :

سب سے بہتر کام جو اس قسم کی کسی مصائب اور یوم شہادت سے متعلق کیا جائے وہ یہ ہوسکتا ہے :

حضرت علی بن حسین زین العابدین اپنے نانا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " ما من مسلم یصاب بمصیبۃ فیتذکرھا و ان تقام عہدھا فیتحدث لھااسترجاعا الا اعطاہ اللہ من الاجر مثل یوم اصیب منھا ۔۔۔ { رواہ احمد و ابن ماجہ ---- ضعیف جدا – ضعیف الجامع }

یعنی کسی مسلمان کو اگر کسی مصیبت پہونچتی ہے اور مدت گزر جانے کے بعد بھی اسے یاد کرتا ہے اور یاد کرکے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لیتا ہے تو اللہ تبارک وتعالی اسے اتنا ہی اجر وثواب دیتا ہے جتنا کہ مصیبت پہونچنے کے دن دیا تھا ۔

{ البدایہ و النھایہ :8/203 }

ختم شدہ

{ناشر :مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?