مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

عشرہ ذی الحجہ کے احکام وآداب بشکل سوال وجواب/قسط:1/2
2884 زائر
11/11/2010
غير معروف
شیخ ریاض الدیں جمال الدین ، الدوادمی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عشرہ ذی الحجہ کے احکام وآداب

سوال وجواب

قسط نمبر :1/2

جمع وترتیب

ریاض الدین جمال الدین

مترجم: مکتب دعوة بالدوادمی

{پیشکش :مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

سوال١: دنوں میں سب سے افضل دن کون سا ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو ہفتہ میں افضل دن بنایا، رمضان کو سال میں، اورتمام دنوں میں ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کو خصوصی فضیلت بخشی ہے۔اور انہی دنوں میں سب سے افضل عرفہ کا دن ہے کیونکہ اسی دن ہمارا دین اسلام مکمل ہوا۔اور اللہ نے بھی سورة الفجرمیں ان دس دنوں کی قسم کھائی ہے۔فرمایا: ''والفجر ولیال عشر'' ۔'' قسم ہے فجر کی اور قسم ہے مجھے دس راتوں کی ''۔ اور آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ''عرفہ سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ سے زیادہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہو''۔ (صحیح مسلم/١٣٤٨)

سوال٢: ذی الحجہ کے پہلے دس دنوںکی فضیلت کیا ہے؟

جواب: آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ:'' کوئی عمل ان دس دنوں کے عمل سے افضل نہیں''۔صحابہ نے عرض کیا کہ: ''جہاد بھی نہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ:'' جہاد بھی نہیں ہاں! مگر وہ آدمی جو اپنا مال اور جان لے کر اللہ کے راستے میں نکلا اور سب کچھ لٹا دیا''۔ (صحیح بخاری/٩٢٦)

سوال٣: ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں روزہ رکھنا کیسا ہے؟

جواب: روزہ نیک اعمال میں سے ایک نیک عمل ہے ۔ اور مسنون یہ ہے کہ ذی الحجہ کے نویں تاریخ کا روزہ رکھے۔ کیونکہ آپ ۖنے اس عشرہ میں نیک عمل کرنے کی ترغیب دی ہے۔آپۖ ذی الحجہ کے نویں تاریخ، یوم عاشورا اور ہر مہینے تین دن اور ہرماہ کے پہلے سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھاکرتے تھے۔ (صحیح سنن النسائی /٢٢٣٦)

سوال٤: عشرۂ ذی الحجہ میں تکبیر کہنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: ارشاد ربانی ہے: ''وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِیْ أَیَّامٍ مَّعْلُومَات''(الحج/٢٨)

''وہ لوگ معلوم دنوں میں اللہ کا ذکر کریں''۔

اس عشرہ کے شروع ہونے سے لے کرایام تشریق کے آخری دن کے غروب آفتاب تک حاجیوں اور غیر حاجیوں کواللہ کا ذکر ہروقت کرتے رہنا چاہیے۔ صحابہ کرام ث ان دس دنوں میں تکبیر کہتے ہوئے بازار نکلتے اورعام لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کردیتے۔ (فتح الباری ج٢/٥٣١)

سوال٥: قربانی کرنے والے پرذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال،ناخن کاٹنے کا کیا حکم ہے؟اور اگر کاٹ دیئے تو کفارہ کیا ہے؟

جواب: جس شخص کے پاس جانور ہو وہ اسے قربان کرنا چاہتا ہو اور ذوالحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے تو اس کے لیے قربانی کرنے تک بال یا ناخن کاٹنا جائز نہیں کیوں آپۖ نے فرمایا: ''مَنْ کَانَ لَہُ ذِبْح یَّذْبَحُہُ، فَاِذَا أُہِلَّ ہِلَال ذِی الْحَجَّةِ، فَلاَ یَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِہِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِہِ شَیْئاً'' (صحیح مسلم/١٩٧٧)

'' جس شخص کے پاس ذبح کرنے کے لیے جانور موجود ہواور وہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے سے لے کر قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹے''۔

اب اگر کوئی شخص اس حکم کی مخالفت کرتے ہوئے بال یا ناخن کاٹ لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے، لیکن اس پر کوئی فدیہ(جرمانہ) وغیرہ نہیں ہے خواہ اس نے جان بوجھ کر ہی ایسا کیا ہو۔ (فتاویٰ اسلامیہ /فتویٰ کمیٹی ٤١٩)

سوال٦: اگر گھر کے مالک کی طرف سے قربانی ہورہی ہے تو کیا پورے گھر والے ناخن،بال کاٹنے سے رکے رہیںگے؟

جواب: اگرگھر کے سارے لوگوں کا مال مشترکہ ہے اور گھر کے مالک کی طرف سے قربانی ہورہی ہے تو پھر سارے لوگ قربانی کرنے والے شمار ہوں گے۔ لہذا ماہ ذوالحجہ کے آغاز کے بعد کسی کے لیے بھی بال یا ناخن کاٹنا جائز نہیں کیونکہ آپۖ نے فرمایا:'' اِذَا رَأَیْتُمْ ہِلَالَ ذِی الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یُّضَحِّیَ، فَلْیُمْسِکْ عَنْ شَعْرِہِ وَأَظْفَارِہِ''۔ (صحیح مسلم/١٩٧٧)

''جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے''۔

سوال٧: عشرہ ذی الحجہ میں اگر سردھونے، سرکے بال یا داڑھی میں خلال کرنے یا کنگھی کرنے سے بال گرجائیں تو کیا حکم ہے؟

جواب: عشرۂ ذوالحجہ میں اگر سردھونے یا سرکے بال یاداڑھی میں خلال کرنے یا کنگھی کرنے سے بال گرجائیں تو کوئی حرج نہیں۔ اس سے قربانی کے اجروثواب میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی ۔اور اگرکوئی شخص جان بوجھ کر بھی بال یا ناخن کاٹ لے تو اس کی وجہ سے بھی وہ قربانی ترک نہ کرے۔ ان شاء اللہ قربانی کا اسے پورا پورا ثواب ملے گا۔ (شیخ ابن جبرین رحمہ اللہ ،فتاویٰ اسلامیہ ٤١٨)

سوال ٨: عشرۂ ذی الحجہ میں کون سا عمل مستحب ہے؟

جواب: عشرۂ ذی الحجہ میں فرض نمازوں کے بعد بلند آواز سے تکبیریں کہنا،نفل روزے رکھنا،اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے تکبیر، تحلیل، تحمید پڑھنا، خاص طور پریوم عرفہ کا روزہ رکھنا اور قربانی کرنا وغیرہ اعمال مستحب ہیں۔

سوال٩: یوم عرفہ کا روزہ رکھنے کی فضیلت کیا ہے؟

جواب: حاجی کے علاوہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ آپ ۖ سے یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ''صوم یوم عرفة احتسب علی اللہ ان یکفر السنة التی قبلہ ،والسنة التی بعدہ''۔ (صحیح مسلم/١١٦٢)

''عرفہ کے ایک دن کے روزہ کے بارے میں، میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوںکہ پچھلے سال اور آئندہ سال کے گناہوں کاکفارہ بنادے گا ''۔

سوال١٠: یوم عرفہ کے دن حاجی روزہ رکھ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: عرفہ کا روزہ حاجیوں کے لیے رکھنا مسنون نہیں ہے۔ کیونکہ نبی کریمۖ نے (حجة الوداع کے موقع پر)عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا۔ اور آپۖ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے میدان عرفات میں عرفہ کے روزے سے منع فرمایا ہے۔ (مسند احمد/٨٠١٨، احمد شاکر نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے)

سوال ١١: یوم النحر کی فضیلت کیا ہے؟

جواب: آپ ۖ نے فرمایا ''اِنَّ اَعْظَمَ الْاَیَّامِ عِنْدَ اﷲِ یَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ یَوْمُ الْقَرِّ''(صحیح سنن ابوداؤد/١٧٦٥،امام البانی اس حدیث کو صحیح کہا ہے)

''اﷲ کے نزدیک سب سے فضیلت والادن قربانی کا دن(یعنی دس ذی الحجہ) ،پھر گیارہ ذی الحجہ ہے''۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں اللہ کے ہاں افضل ترین دن یوم النحر ہے اور یہی حج اکبر کا دن ہے۔

سوال١٢: قربانی کس کو کہتے ہیں؟

جواب: یوم النحر اور ایام تشریق کے دنوں میں اللہ کاقرب حاصل کرنے کی خاطرجو اونٹ، گائے ،بکری ذبح کی جا ئے اسے قربانی کہتے ہیں۔

سوال١٣: قربانی اور ہدی میں کیا فرق ہے؟

جواب: قربانی عام لوگوں کے لیے ہے جب کہ ہدی صرف قارن اور متمتع حاجی کے لیے ہے۔ قربانی جہاں چاہیں ذبح کردیں جب کہ ہدی صرف منی یا مکہ میں ذبح ہوگی ۔ہدی ہر حاجی کی طرف سے ہوتی ہے جب کہ ایک قربانی پورے خاندان کی طرف سے ہوتی ہے۔ قربانی کے جانور کے لیے جو شرائط مقرر ہیں وہ ہدی کے جانور کے لیے ضروری نہیں۔

سوال١٤: قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب: اہل علم کے صحیح قول کے مطابق قربانی سنت مؤکدہ ہے۔ جس کے پاس مالی استطاعت ہو اسے قربانی ضرورکرنی چاہیے کیونکہ یہ عیدالاضحی اور ایام تشریق کی عبادات میں سے اہم ترین عبادت ہے۔ نبی کریم ۖ نے مدینہ منورہ میں ہمیشہ قربانی کی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ'' آپ ہر سال سفید وسیاہ رنگ کے بڑے بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی دیا کرتے تھے''۔ (صحیح بخاری/٥٢٣٤ وصحیح مسلم/١٩٦٦)

سوال١٥: قربانی کی فضیلت کیا ہے؟

جواب: قربانی کی فضیلت یہ ہے کہ'' دس ذوالحجہ کو خون بہانے سے بڑھ کر ابن آدم اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی بہتر عمل نہیں کرتا، یہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت آئیں گے اور خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے یہاں اس کا ایک مقام ہوتا ہے سو تم یہ قربانی خوش دلی سے دیا کرو''۔ (ضعیف سنن ابن ماجہ/٦٧١وضعیف سنن الترمذی/٢٥٣ بتحقیق الالبانی)

نوٹ: واضح رہے کہ مذکورہ بالاحدیث معمولی ضعیف ہے چونکہ علماء کی ایک بڑی اکثریت ضعیف احادیث کو فضائل میں مقبول سمجھتی ہے لہذا ہم نے ذکر کردی ہے۔

سوال١٦: قربانی کی حکمت کیا ہے؟

جواب: پہلی حکمت یہ ہے کہ ہم اپنے جد امجد حضرت ابراہیم ں کی اقتدا میں قربانی کرتے ہیںجنہیں اپنے جگر کے ٹکڑے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔دوسری حکمت یہ ہے کہ عید کے دن لوگوں پر کشادگی کرنا مقصد ہے کیونکہ جب ایک مسلمان قربانی کرتا ہے تو خود اپنے اوپر اور اپنے گھروالوں پر کشادگی کرتا ہے اور جب وہ گوشت ہدیہ کرتا ہے تو اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور قرابتداروں پر کشادگی کرتا ہے۔

سوال١٧: قربانی کن لوگوں پر ہے؟

جواب: ہر صاحب استطاعت کے لیے قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے۔اگرکوئی شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا ہے تو وہ بہت بڑے فضل وبرکت سے محروم رہے گا۔ آپ ۖ نے فرمایا:''مَنْ وَّجَدَ سَعَةً فَلَمْ یُضَحِّ فَلَا یَقْرُبَنَّ مُصَلَّا نَا'' (مسند احمد: ج٢/٣٢١،امام البانی نے حسن قرار دیا ہے،صحیح الترغیب / ١٠٨٧)

''جس کے پاس استطاعت ہو اورپھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے''۔

سوال١٨: قربانی کرنا افضل ہے یا اس کی قیمت کو صدقہ کرنا افضل ہے؟

جواب: قربانی کرنااوراس کے گوشت کو تقسیم کرنا افضل ہے، کیونکہ قربانی کا اہم مقصد اللہ کا قرب حاصل کرناہوتاہے۔ اللہ رب العزت کا ارشادہے:''لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُمْ ''۔(الحج/٣٧)

''اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تو تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے''۔(الشرح الممتع ٧/٤٨٠)

سوال١٩: قربانی کتنے دنوں تک کرسکتے ہیں؟

جواب: قربانی کرنے کے چار دن ہیں۔١٠ـ١١ـ١٢ـ١٣ ذی الحجہ تک، نبی کریم ۖ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ''کل ایام تشریق ذبح'' ''تمام ایام تشریق میں ذبح کرنا ہے''۔(السلسة الصحیحة /٢٤٧٦)

سوال٢٠: کن جانوروں کی قربانی دی جاسکتی ہے۔ اورکون سا جانور قربانی میں دینا افضل ہے؟

جواب: اونٹ ،گائے بکری یابھیڑ کی قربانی دی جائے گی اورسب سے افضل قربانی اونٹ کی ہے، پھر گائے کی، پھر بکری کی، پھر اونٹ میں دسواں حصہ یاگائے میں ساتواں حصہ۔ اور پالتوجانوروں میں سب سے بہتر اس جانور کی قربانی ہے جس میں ساری اچھی صفتیں موجودہوںمثلاً سینگ والا، نَر، فربہ اور ایسا سفید مینڈھا ہو جس کے پائوں اور آنکھوں کے اردگردکالے نشان ہوں، اور یہ وہ وصف ہے جس کو رسول اللہۖ نے پسند فرمایا ہے۔ اور ایسے ہی جانور کی قربانی کی ہے۔ (صحیح مسلم/١٩٦٦)

اہل علم کے نزدیک خصی جانور کیونکہ عمدہ گوشت والا ہوتا ہے اس لیے اس کی قربانی افضل ہے۔(الشرح الممتع ٧/٤٣٧)

سوال٢١: قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہیے؟

جواب: قربانی کا جانور عیوب سے بالکل پاک ہو کیونکہ رسول اللہۖ نے فرمایا: ''چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں: ١۔ جس جانور کا اندھاپن ظاہر ہو۔٢۔ جس جانور کا مرض ظاہر ہو۔٣۔جس جانور کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔٤۔دبلا جانور جس کو چلنے میں بھی مشکل پیش آتی ہو''۔ (صحیح سنن ابو دائود/٢٨٠٢)

سوال٢٢: قربانی کے جانور کی عمر کتنی ہونی چاہیے؟

جواب: رسول اللہ ۖ کا فرمان ہے: ''لا تذبحوا الا مسنة الا ان یعسر علیکم فتذبحوا جذعة من الضأن'' (صحیح مسلم/١٩٦٣)

''مُسِنَّہ ہی ذبح کرو اِلّا یہ کہ تم کو ملنا دشوار ہو تو بھیڑ کا'' جذع'' ذبح کرسکتے ہو''۔

مسنہ:وہ جانور ہے جو دانٹ توڑ چکا ہو۔ اور صحاح میں بھی ہے کہ ثنی وہ جانور جو دانت توڑچکا ہو۔ بکری دوسرے سال میں دانت توڑتی ہے، اور گائے تیسرے سال میں ، اور اونٹ پانچویں سال میں۔جذع: بھیڑ کا وہ بچہ جو کم سے کم چھ ماہ پورے کرچکا ہو، بھیڑ کے علاوہ بکری، گائے اور اونٹ میں مسنہ (یعنی دانتا ہونا ضروری ہے)

سوال٢٣:آپۖ نے کیسے جانور کی قربانی دی تھی؟

جواب: رسول اللہ ۖ نے جو مینڈھا قربانی کیا تھا وہ سینگ والا تھا ، پیٹ سیاہ تھا، ٹانگوں کا نچلا حصہ سیاہ تھا اور آنکھوں کا ارد گرد سیاہ تھا۔(صحیح مسلم/١٩٦٧)

سوال٢٤:قربانی کا وقت کب ہے؟

جواب: قربانی کا وقت نماز عید کے بعد ہے اس لیے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ''جس نے نماز عیدسے پہلے قربانی ذبح کی اس نے اپنے لیے گوشت کھانے کے لیے جانور ذبح کیا اورجو نمازعید کے بعد ذبح کرتا ہے اس کی عبادت پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ اپنایا''۔(مسلم/١٩٦٠)

سوال٢٥: قربانی میت کی طرف سے کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: قربانی دراصل زندہ انسان سے مطلوب ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربانی کرے، لیکن وہ اپنی قربانی کے ثواب میں زندہ اور مردہ انسانوں میں سے جس کو چاہے شریک کرسکتا ہے۔ لیکن اگر میت نے یہ وصیت کی ہو کہ اس کے مال کے تہائی حصے میں سے قربانی کی جائے تو وارثوں پر قربانی کرنا واجب ہوجائے گا کہ اس کی وصیت اور وقف کو اس کی خواہش کے مطابق عملی جامہ پہنائیں۔اور اگر وصیت ووقف کی شکل کی صورت نہ ہو اور کوئی انسان اپنے ماں باپ یا کسی اور کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو یہ ایک اچھا عمل ہے، اسے میت کی طرف سے صدقہ شمار کیا جائے گا۔ اور اہل سنت والجماعت کے قول کے مطابق میت کی طرف سے صدقہ صحیح ہے۔(شیخ ابن باز رحمہ اللہ فتاویٰ اسلامیہ/٤٢٠)

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

{پیشکش :مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

پرچہ سوالات - اسلامي مـقـالات
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?