مرکزي کالم

شیخ مقصود الحسن فيضي

رمضان المبارک

المقال

  ...  

اعتکاف کے مسائل
2696 زائر
28/08/2010
غير معروف
مرسل : سلمان مقصود الحسن ، الغاط

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اعتکاف کے مسائل

از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

{ناشر :شعبہ توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com }

رمضان المبارک اور بالخصوص اس کے آخری عشرہ کے اعمال میں سے ایک عمل اعتکاف بھی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ۔

اعتکاف کا معنی :

اعتکاف کا معنی لغت میں ٹھہرنا جمے رہنا اور کسی مقام پر اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے ، شرعی اعتکاف بھی اس معنی میں ہے کہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لئے خصوصی طریقے پر مسجد میں ٹھہرنا ۔

اعتکاف کی حکمت :

اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ ہر طرف سے یکسو ہوکر اور سب سے منقطع ہوکر بس اللہ تعالی سے لو لگا کے اس کے درپے یعنی مسجد کے کسی کونے میں پڑجائے ، سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور اس کے ذکر وفکر میں مشغول رہے اس کو دھیان میں رکھے ، اس کی تسبیح و تھلیل وتقدیس میں مشغول رہے ، اس کے حضور توبہ و استغفار کرے ، اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر روتے ، اس کی رضا اور قرب چاہے اور اس حال میں اس کے دن گزریں اور اس کی راتیں بسر ہوں ، ظاہر ہے اس کام کے لئے رمضان المبارک اور خاص کر اس کے آخری عشرہ سے بہتر اور کون سا وقت ہوسکتا ہے ، اسی لئے اعتکاف کے لئے اس کا انتخاب کیا گیا ۔

اعتکاف کا حکم : اعتکاف کی مشروعیت قرآن وحدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے ، چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے : [وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ] {البقرة:125}

" اور ہم ابراہیم و اسماعیل [علیہ السلام ] کو تاکید کی کہ وہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے صاف ستھرا رکھیں " ۔

روزے کے احکام کے ضمن میں فرمایا : [وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي المَسَاجِدِ] {البقرة:187}

" اور اگر تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو پھر اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو " ۔

متعدد حدیثیں اس سلسلے میں وارد ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا ۔

{ صحیح البخاری : 2026 ، الاعتکاف ، صحیح مسلم :1172 ، الصیام } ۔

حتی کہ امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ بڑا عجیب معاملہ ہے کہ مسلمانوں نے اعتکاف کی سنت کو چھوڑ دیا ہے حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ منورہ تشریف لائے آپ نے اعتکاف کبھی نہیں چھوڑا ۔

حتی کہ اپنی عمر عزیز کے آخری سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے دو عشروں کا اعتکاف کیا ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے البتہ جس سال آپ کا انتقال ہوا اسی سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔

{ صحیح بخاری : 2044 ، الاعتکاف ، صحیح ابن خزیمہ :2221 – سنن ابو داود : 2466 ، الاعتکاف } ۔

ان آیتوں اور حدیثوں اور اسی طرح کی دیگر نصوص کی روشنی میں اہل سنت و جماعت کے نزدیک مرد وزن ہر ایک کے لئے اعتکاف سنت ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی یہ ایک تاکیدی سنت ہے تو شاید بے جانہ ہوگا کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برابر اعتکاف کیا ہے حتی کہ اگر کبھی کسی وجہ سے یہ اعتکاف چھوٹ گیا تو آپ نے اس کی قضا کی ہے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ فرمایا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ اعتکاف کی اجازت چاہی آپ نے مجھے اجازت دے دی تو میں نے اپنے لئے گنبد نما یک خیمہ مسجد میں نصب کرلیا پھر جب حضرت حفصہ نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے لئے ایک خیمہ نصب کرلیا ، اور حضرت زینب نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے لئے ایک خیمہ نصب کرلیا ، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب چار خیموں کو دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے ؟ آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کردیا گیا تو آپ نے فرمایا انہیں اس امر پر کس چیز نے ابھارا ہے ؟ کیا نیکی نے ؟ [ ہرگز نہیں ، اس سبب تو محض غیرت ہے ] لہذا انہیں اکھاڑ پھینکو ، میں انہیں نہ دیکھوں ، چنانچہ خیمے اکھاڑ دئے گئے [جن میں آپ کا بھی خیمہ تھا ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رمضان میں اعتکاف نہیں کیا اور شوال کے آخری عشرے میں اس اعتکاف کی قضا کی ۔

{ صحیح بخاری :2040 ، الاعتکاف - مسلم :1183 ، الاعتکاف }

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے لیکن ایک سال کسی سفر کی وجہ سے اعتکاف نہ کرسکے تو آئندہ رمضان کے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔

{ سنن الترمذی :803 ، الصوم – صحیح ابن خزیمہ : 2226 ، الصوم }

غیر رمضان میں اعتکاف :

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف رمضان کا اعتکاف ثابت بغیر کسی عذر کے آپ نے غیر رمضان میں اعتکاف نہیں کیا لیکن ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے جاہلیت نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا ، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو ۔

{ صحیح بخاری : 2032 ، الاعتکاف - صحیح مسلم :1656 ، الایمان ، بروایت ابن عمر }

اس لئے غیر رمضان میں بھی اعتکاف مستحب اور سنت ہے البتہ رمضان اور خصوصا رمضان کے آخری عشرہ میں اس کی تاکید ہے ۔

اعتکاف کی مدت : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں کم ازکم ایک عشرے کا اعتکاف کیا ا س لئے افضل و بہتر یہی ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا جائے لیکن اگر کسی کے حالات ساتھ نہ دیتے ہوں تو وہ سات دن ، پانچ دن یا صرف طاق راتوں کا اعتکاف کرے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے رمضان کی سات درمیانی راتوں کا اعتکاف کیا تو جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے ۔

{ صحیح ابن خزیمہ : 2222 ، الصوم }

نیز عبد اللہ انیس الجہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیصلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول میں صحر ا میں رہائش پذیر ہوں اور الحمد للہ وہاں نماز [تراویح ] کا اہتمام کرتا ہوں { البتہ میں یہ چاہتا ہوں کہ شب قدر کے حصول کے لئے اعتکاف کروں تو } آپ مجھے کسی ایسی رات کے بارے میں بتلائیے جس رات اس میں آکر عبادت کروں [اعتکاف کروں] تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تیئیس کی شب کو آجانا ۔

راوی حدیث محمد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن انیس کے بیٹے سے سوال کیا کہ تمہارے والد کس طرح کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ عصر کی نماز کے بعد مسجد نبوی میں داخل ہوجائے اور کسی بھی غیر ضروری کام کے لئے مسجد سے باہر نہ نکلتے یہاں تک کہ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر موجود پاتے اور اس پر سوار ہوکر پھر صحرا میں چلے جاتے ۔

{ سنن ابو داود :1380 ، الصلاۃ – صحیح ابن خزیمہ :2200 ، الصیام }

اعتکاف کی شرطیں :

1) مسلمان ہو ، کافر ومشرک کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

2) عاقل ہو ، مجنون و پاگل کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

3) نیت کی جائے ، بغیر نیت کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

4) تمیز ہو ، غیر ممیز بچوں کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

5) مسجد میں ہو ، مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔ یہ حکم مرد وعورت دونوں کے لئے ہے ۔

6) طہارت – حیض ونفاس اور جنابت کی حالت میں اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

7) شوہر کی اجازت – بغیر شوہر کی اجازت کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

8) روزہ – بہت سے علماء کے نزدیک بغیر روزہ کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

اعتکاف کا وقت :

اعتکاف کے لئے ضروری ہے کہ جس دن کا اعتکاف کرنا چاہتا ہے اس دن کی رات آنے سے قبل مسجد میں داخل ہوجائے مثلا اگر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرنا چاہتا ہے تو بیسویں رمضان کا سورج غروب ہونے سے قبل مسجد میں داخل ہوجائے ، البتہ اپنے معتکف یعنی جائے اقامت میں اکیسویں کی صبح کو داخل ہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول رہا ہے ، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے ، میں آپ کے لئے ایک خیمہ نصب کردیتی جس میں آپ صبح کی نماز کے بعد داخل ہوتے ۔

{ صحیح البخاری : 2032 ، الاعتکاف – سنن ابو داود : 2464 ، الصوم }

اعتکاف سے نکلنے کا وقت :

اعتکاف سے باہرآنے کا ایک وقت جواز کا اور دوسرا استحباب کا ، جواز کا وقت یہ ہے کہ مثال کے طور پر اگر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کیا ہے تو شوال کا چاند نکلتے ہی اپنا اعتکاف ختم کردے اور گھر واپس آجائے کیونکہ شوال کا چاند دکھائی دیتے ہی رمضان کا مہینہ ختم ہوجاتا ہے ، اور مستحب وقت یہ ہے کہ عید کی صبح اپنی جائے اعتکاف سے باہر آئے او ر سیدھے عیدگاہ جائے ، بعض صحابہ و تابعین کا عمل یہی رہا ہے چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بعض اہل علم کو دیکھا ہے کہ جب وہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تو اپنے گھر عید کی نماز پڑھ لینے کے بعد آتے ۔

{ موطا :1/315 ، کتاب الاعتکاف }

امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس مسلک کو اختیار کیا ہے اور بطور دلیل یہ حدیث پیش کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا اور جب اکیسویں کی صبح ہوئی جس صبح کو اپنے اعتکاف سے باہر آئے تھے فرمایا : من اعتکف معنا فلیعتکف فی العشر الاواخر ۔ " جس نے ہمارے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے ۔

{ صحیح ابن خزیمہ : 3/352-354 – نیز دیکھئے صحیح البخاری :2027 ، الاعتکاف ، بروایت ابو سعید الخدری }

اعتکاف کی مسجد : اعتکاف ہر اس مسجد میں کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس میں جماعت کا اہتمام ہوتا ہو ، ارشاد باری تعالی ہے : [وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي المَسَاجِدِ] {البقرة:187} ۔

آیت مذکورہ میں اللہ تعالی نے مسجد کو عام رکھا ہے ، کسی خاص قسم کی مسجد سے مقید نہیں کیا ہے نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اعتکاف کرنے والے کے لئے سنت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مریض کی زیارت کوجائے ، نہ جنازے میں شریک ہو ، نہ عورت سے صحبت کرے اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے اور نہ ہی کسی غیر ضروری کام کے لئے باہر نکلے ، اور اعتکاف بغیر روزہ کے نہیں ہے اور اعتکاف اس میں کیا جائے گا جس میں جماعت کا اہتما ہو ۔

{ سنن ابو داود : 2473 ، الصیام }

اس لئے اعتکاف کے لئے تین مسجدوں کو خاص کرنا جیسا کہ عصر حاضر کے بعض اہل علم کا خیال ہے صحیح نہیں ہے کیونکہ اس سلسلے میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی جو حدیث نقل کی جاتی ہے وہ ضعیف اور شاذ ہے ، اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر امت کے کسی امام یا عالم نے عمل نہیں کیا ہے ، اس موضوع پر ایک مختصر اور جامع بحث مختصر قیام رمضان از علامہ البانی کے ترجمے میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

اعتکاف کے منافی کا م :

1. ضرورت کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا ۔

2. عورت سے صحبت کرنا ۔

3. عورت سے بشہوت مباشرت کرنا ۔

4. قصدا منی خارج کرنا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان تمام امور سے اعتکاف باطل ہوجائے گا ، اسی طرح عورت کو حیض ونفاس کا خون آجائے تو اعتکاف باطل ہوجائے گا ، نیز اسلام سے ارتداد سے بھی اعتکاف باطل ہوجاتا ہے ، اور اگر کوئی شخص اعتکاف کی نیت توڑدے یہ بھی اعتکاف کے بطلان کا موجب ہے ۔

5. ہر وہ کام جو شرع کی نظر میں منع ہے وہ اعتکاف کے بھی منافی ہے جیسے جھوٹ ، غیبت وغیرہ ۔

6. ہر وہ کام جو عبادت کے منافی ہے جیسے خرید وفروخت میں مشغولیت بلاوجہ کی گپ شپ یہ بھی حالت اعتکاف کے منافی ہے ان امور سے اعتکاف باطل تو نہیں ہوتا البتہ اعتکاف کا مقصد فوت ہوجاتا ہے ۔

7. بعض وہ عبادتیں جو فرض عین نہیں ہیں جیسے مریض کی زیارت ، نماز جنازہ اور دفن وغیرہ کے لئے بھی نکلنا جائز نہیں ہے البۃ راسۃ چلتے کسی مریض کی خیریت پوچھ لینا جائز ہے

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے بیمار پرسی کرلیتے تھے اسکے لے ٹہرتے نہیں تھے ۔

[سنن ابوداود : ۲۴۷۲]

8. ہر وہ کام جو انسان کی فطری ضرورت ہے جیسے قضائے حاجت ، کھا نا پینا،نہانا اگر کوی مددگار نہیں ہےتو کھانے کی چیزیں باہر سے خریدنا وغیرہ ہے ۔

اعتکاف کی حالت میں جائز کام :

۱- مسجد میں کھا نا پینا ۔

۲- اچھے کپٹے پہنا اور خوشبو لگانا ۔

۳- ناخن تراشنا اور حجامت بنوانا ۔

۴- جمعہ کے لے جانا بلکہ جمعہ کے لئے جاناواجب ہے ۔

۵ – اگر جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی جارہی ہے تو اس میں شریک ہونا ۔

۶- کسی مریض کا گھر مسجد سے لگ کر ہے تو مسجد میں رہکر بیمار پرسی کرنا ۔

۷- بالوں پر تیل کنگھی کرنا ، بلکہ عورت بھی اپنے شوہر کے بالوں پر کنگھی کرسکتی ہے خواہ اس کے لئے اعتکاف کرنے والے کو اپنا سرباہر کرنا پڑے ۔

{ صحیح بخاری : 2029 ، الاعتکاف – صحیح مسلم : 297 } ۔

۸- اپنے اہل خانہ سے بات کرنا اور بعض گھریلو مسائل پر گفتگو کرنا ۔{ صحیح بخاری : 2038 ، الاعتکاف } ۔

۹- بغیر شہوت کے اپنی بیوی کو چھونا ۔

۱۰- خرید و فروخت سے متعلق بعض ضروری ہدایات دینا ۔

۱۱- زیارت کرنے والوں سے خیر خیریت پوچھنا ، البتہ دیر تک گپ شپ میں مشغول ہونا مناسب نہیں ہے ۔

ختم شدہ

{ناشر :شعبہ توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com }

   طباعة 
0 صوت
...
...

...

روابط ذات صلة

  ...  

المقال السابق
المقالات المتشابهة المقال التالي
...
...

...

جديد المقالات

  ...  

پرچہ سوالات - اسلامي مـقـالات
...
...

...

مكتب توعية الجاليات الغاط ?